خدا اور انسان کے مابین ایک مکالمہ

محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 5، 2014 7:58 شام
خدا اور انسان کے مابین مکالمہ
ترجمہ:محمد خلیل الرحمٰن
خدا:
جہاں آب وگِل کا جو میں نے بنایا ، تو عجمی و عربی ہیں تو نے بنائے
اسی خاک سے میں نے لوہا بنایا ، تو آلاتِ حربی ہیں تونے بنائے
کلہاڑی بنائی کہ اس کی مدد سے ، تو بخشےجِلا نو نہالِ چمن کو
قفس تونے اس کی مدد سے بناکر،مقید کیا طائرِ انجمن کو
انسان:
اندھیری سی اِک رات تو نے بنائی ، تو روشن چراغ ایک میں نے بنایا
زمیں کو تو مٹی سے تو نے بنایا ، اسی سے ایاغ ایک میں نے بنایا
بیابان و کہسار تو نے بنائے ، خیابان و باغ ایک میں نے بنایا
میں پتھر سے اِک آئینہ بھی بنادوں
میں زہراب سے مے گلابی بنادوں
۔۔۔۔۔۔۔۔​
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 5، 2014 7:59 شام

محاورہ بینِ خدا و انسان
علامہ اقبال
خدا:
جہاں را زیک آب و گِل آفریدم تو ایران و تاتار و زنگ آفریدی
من از خاک پولاد ناب آفریدم تو شمشیر و تیر و تفنگ آفریدم
تبر آفریدی نہالِ چمن را
قفس ساختی طائرِ نغمہ زن را
انسان:
تو شب آفریدی چراغ آفریدم سفال آفریدی ایاغ آفریدم
بیابان و کہسار و راغ آفریدی خیابان و گلزار و باغ آفریدم
من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ زہر نوشینہ سازم​
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 5، 2014 8:06 شام
ٹیگ: جناب الف عین ، جناب محمد یعقوب آسی ، جناب محمد وارث ، جناب محمود احمد غزنوی ، جناب سید عاطف علی ، جناب مزمل شیخ بسمل ، جناب مہدی نقوی حجاز ، جیہ بٹیا ، جناب نایاب ، جناب تلمیذ ، جناب محمدعلم اللہ اصلاحی ،جناب سید شہزاد ناصر
نایاب — اپریل 5، 2014 8:23 شام
بلاشبہ بہت خوب ترجمہ منظوم ۔۔۔۔۔
شراکت پر بہت شکریہ بہت دعائیں محترم بھائی
سید عاطف علی — اپریل 5، 2014 8:47 شام
جہاں را زیک آبو گل آفریدم۔ کا ترجمہ ہے نا ۔ بہت خوب انتخاب اور ترجمہ کیا ہے خلیل بھائی زبردست۔۔۔ دھاگے کی مناسبت سے عرض ہے کہ یہاں بخش دے کی بجائے بخشے یا بخشا کرے سے امری اور استمراری نوعیت کےمعنی شاید مزی دبہتر ہوں۔
کلہاڑی بنائی کہ اس کی مدد سے ، جِلا بخش دے تو نہالِ چمن کو
قفس تو اس کی مدد سے بنایا ، کیا بند پھر طائرِ انجمن کو
کلہاڑی بنائی کہ اس کی مدد سے ، تو بخشےجِلا نو نہالِ چمن کو
قفس تونے اس کی مدد سے بناکر،مقید کیا طائرِ انجمن کو
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 5، 2014 8:55 شام
جہاں را زیک آبو گل آفریدم۔ کا ترجمہ ہے نا ۔ بہت خوب انتخاب اور ترجمہ کیا ہے خلیل بھائی زبردست۔۔۔ دھاگے کی مناسبت سے عرض ہے کہ یہاں بخش دے کی بجائے بخشے یا بخشا کرے سے امری اور استمراری نوعیت کےمعنی شاید مزی دبہتر ہوں۔
کلہاڑی بنائی کہ اس کی مدد سے ، جِلا بخش دے تو نہالِ چمن کو
قفس تو اس کی مدد سے بنایا ، کیا بند پھر طائرِ انجمن کو
کلہاڑی بنائی کہ اس کی مدد سے ، تو بخشےجِلا نو نہالِ چمن کو
قفس تونے اس کی مدد سے بناکر،مقید کیا طائرِ انجمن کو
جزاک اللہ جناب۔ آپ کی اجازت سے یہ تبدیل فوری کررہے ہیں۔
سید عاطف علی — اپریل 5، 2014 9:03 شام
مجھے یہ نظم علامہ کے شاہکار منظومات میں سے لگتی ہے۔اور مجھے اس کی فضا بال جبریل والی نظم روح ارضی اور آدم کا استقبال کی طرح کی سی بھی لگتی ہے۔ ۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 5، 2014 9:38 شام
اچھی کوشش ہے محمد خلیل الرحمٰن صاحب۔ جاری رکھئے اور اس میں بہتری لائیے۔
یہ فقیر اسی نظم کو پنجابی شعر میں ڈھالنے کی کوشش کر چکا ہے، وہ ترجمہ آپ کی نظر سے گزرا ہو گا۔
الف عین — اپریل 6، 2014 4:06 صبح
۔بہت خوب
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 6، 2014 2:23 شام
بلاشبہ بہت خوب ترجمہ منظوم ۔۔۔ ۔۔
شراکت پر بہت شکریہ بہت دعائیں محترم بھائی
جزاک اللہ نایاب بھائی۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 6، 2014 2:23 شام
اچھی کوشش ہے محمد خلیل الرحمٰن صاحب۔ جاری رکھئے اور اس میں بہتری لائیے۔
یہ فقیر اسی نظم کو پنجابی شعر میں ڈھالنے کی کوشش کر چکا ہے، وہ ترجمہ آپ کی نظر سے گزرا ہو گا۔
آداب عرض ہے استادِ محترم۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 6، 2014 2:24 شام
آداب عرض ہے استادِ محترم۔
Rehmat_Bangash — اپریل 6، 2014 2:45 شام
بہت شکریہ جناب شامل محفل کرنے کا ، منظوم ترجمہ ویسے بھی بہت مشکل کام ہے اور آپ نے یہ کام بہت خوبصورتی سے کیا ہے۔
محمد وارث — اپریل 7، 2014 5:56 صبح
بہت خوب خلیل صاحب، خوبصورت ترجمہ کیا ہے آپ نے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D8%AF%D8%A7-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%A7%D8%A8%DB%8C%D9%86-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%81.73254/