عباد اللہ — جون 12، 2016 8:59 شام
یہ کیسی افتاد آ پڑی ہے کہ میں نے جس سمت بھی نظر کی
تو کوئی مقہور کوئی معتوب سب بھکاری ہیں جن کے مابین اہلِ ثروت بہ وسعتِ ظرف طعن و دشنام ہی کی خیرات بانٹتے ہیں
مگر یہ دریوزہ ان کی میراث بن چکا ہے
جو آفرینش کی ابتدا سے سبک خرامی سے چلتے چلتے نہ جانے کتنی عظیم نسلوں، کئی زمانوں کے فرق کو پاٹتے ان تک آ گیا ہے
سو اب بجز صبر کوئی چارہ نہیں بچا ہے
اگر بچا ہے تو ایک کاسہ بچا ہوا ہے
اب ایسے آشوبِ کم نگاہی میں کون جانے خدا کہاں ہے
مگر وہ منظر کہ جس میں تقسیمِ مال و زر پر اسی کی چپ کا دبیز پردہ پڑا ہوا ہے
محمد خلیل الرحمٰن — جون 13، 2016 12:47 صبح
پہلے کچھ ٹائیپوز:
میراث ہے بن چکا ہے کی جگہ "ہی" بن چکا ہے
اور سب خرامی کو "سبک خرامی" کردیجئے۔
اب کچھ تراکیب:
بھکاری " نظر پڑے ہیں" اور "آفرینش کی ابتدا" " نسلوں کو پاٹتے" ، پر دوبارہ غور کیجیے۔
"آشوبِ کم نگاہی" مذکر ہونا چاہیے جبکہ کم نگاہی مونث ہے۔
الف عین — جون 13، 2016 7:59 صبح
پہلے کچھ ٹائیپوز:
میراث ہے بن چکا ہے کی جگہ "ہی" بن چکا ہے
اور سب خرامی کو "سبک خرامی" کردیجئے۔
اب کچھ تراکیب:
بھکاری " نظر پڑے ہیں" اور "آفرینش کی ابتدا" " نسلوں کو پاٹتے" ، پر دوبارہ غور کیجیے۔
"آشوبِ کم نگاہی" مذکر ہونا چاہیے جبکہ کم نگاہی مونث ہے۔
میراث بن چکا ہے‘ ہی کافی ہے، ہے کا اضافہ شاید ٹائپو تھا، ’ہی‘ تو بحر میں ہی نہیں آتا۔
نظر پڑے ہیں، نسلوں کو پاٹتے، اور آشوب کے بارے میں متفق ہوں، لیکن ’آفرینش کی ابتدا میں ‘ کوئی غلطی نہیں ہے۔
باقی نظم درست ہے۔
محمد خرم یاسین — جون 13، 2016 8:29 صبح
میں نے ایک نثری نظم لکھی تھی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بچپن میں ہر طرف بے ایمانی، نا انصافی اور ظلم کو دیکھتا تھا تو سوچتا تھا خدا کہاں ہے لیکن پھر اپنے جوان ہونے کا مقصد سمجھ آیا۔سمجھ آیا کہ خدا نے مجھے بڑا کیوں کیا۔ خدا آسمان سے فرشتے کیوں نہیں بھیجتا تھا۔
عباد اللہ — جون 13، 2016 11:28 صبح
پہلے کچھ ٹائیپوز:
میراث ہے بن چکا ہے کی جگہ "ہی" بن چکا ہے
اور سب خرامی کو "سبک خرامی" کردیجئے۔
اب کچھ تراکیب:
بھکاری " نظر پڑے ہیں" اور "آفرینش کی ابتدا" " نسلوں کو پاٹتے" ، پر دوبارہ غور کیجیے۔
"آشوبِ کم نگاہی" مذکر ہونا چاہیے جبکہ کم نگاہی مونث ہے۔
شکریہ سر باقی سب ٹائیپوز تھے ایک نسلو کو پاٹنا رہ گیا ہے اس پر واقعی سوچنے کی ضرورت ہےآپ کیا اصلاح تجویز کرتے ہیں؟
عباد اللہ — جون 13، 2016 11:32 صبح
میں نے ایک نثری نظم لکھی تھی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بچپن میں ہر طرف بے ایمانی، نا انصافی اور ظلم کو دیکھتا تھا تو سوچتا تھا خدا کہاں ہے لیکن پھر اپنے جوان ہونے کا مقصد سمجھ آیا۔سمجھ آیا کہ خدا نے مجھے بڑا کیوں کیا۔ خدا آسمان سے فرشتے کیوں نہیں بھیجتا تھا۔
اس نظم کو شریکِ محفل تو کیجئے بھیا
عباد اللہ — جون 13، 2016 11:33 صبح
میراث بن چکا ہے‘ ہی کافی ہے، ہے کا اضافہ شاید ٹائپو تھا، ’ہی‘ تو بحر میں ہی نہیں آتا۔
نظر پڑے ہیں، نسلوں کو پاٹتے، اور آشوب کے بارے میں متفق ہوں، لیکن ’آفرینش کی ابتدا میں ‘ کوئی غلطی نہیں ہے۔
باقی نظم درست ہے۔
شکریہ سر نسلوں کو پاٹنا غلطی ہے آپ اس کے متبادل کے طور پر کیا تجویز فرماتے ہیں
محمد خلیل الرحمٰن — جون 13، 2016 11:35 صبح
ملاحظہ فرمائیے ہماری صلاح
یہ کیسی افتاد آ پڑی ہے کہ میں نے جس سمت بھی نظر کی
تو کوئی مقہور کوئی معتوب سب بھکاری ہیں جن کے مابین اہلِ ثروت بہ وسعتِ ظرف طعن و دشنام ہی کی خیرات بانٹتے ہیں
مگر یہ دریوزہ ان کی میراث بن چکا ہے
جو آفرینش کی ابتدا سے سبک خرامی سے چلتے چلتے
نہ جانے کتنی عظیم نسلوں ، کئی زمانوں
کے فرق کو پاٹتے ان تک آ گیا ہے
سو اب بجز صبر کوئی چارہ نہیں بچا ہے
اگر بچا ہے تو ایک کاسہ بچا ہوا ہے
اب ایسے آشوبِ کم نگاہی میں کون جانے خدا کہاں ہے
مگر وہ منظر کہ جس میں تقسیمِ مال و زر پر اسی کی چپ کا دبیز پردہ پڑا ہوا ہے
عباد اللہ — جون 13، 2016 11:37 صبح
یہ کیسی افتاد آ پڑی ہے کہ میں نے جس سمت بھی نظر کی
تو کوئی مقہور کوئی معتوب سب بھکاری ہیں جن کے مابین اہلِ ثروت بہ وسعتِ ظرف طعن و دشنام ہی کی خیرات بانٹتے ہیں
مگر یہ دریوزہ ان کی میراث بن چکا ہے
جو آفرینش کی ابتدا سے سبک خرامی سے چلتے چلتے
نہ جانے کتنی عظیم نسلوں ، کئی زمانوں
کے فرق کو پاٹتے ان تک آ گیا ہے
سو اب بجز صبر کوئی چارہ نہیں بچا ہے
اگر بچا ہے تو ایک کاسہ بچا ہوا ہے
اب ایسے آشوبِ کم نگاہی میں کون جانے خدا کہاں ہے
مگر وہ منظر کہ جس میں تقسیمِ مال و زر پر اسی کی چپ کا دبیز پردہ پڑا ہوا ہے
بہت شکریہ سر
فرقان احمد — جون 13، 2016 11:42 صبح
مگر وہ منظر کہ جس میں تقسیمِ مال و زر پر اسی کی چپ کا دبیز پردہ پڑا ہوا ہےماشاءاللہ، سلامت رہیں عباد اللہ
عباد اللہ — جون 13، 2016 11:44 صبح
مگر وہ منظر کہ جس میں تقسیمِ مال و زر پر اسی کی چپ کا دبیز پردہ پڑا ہوا ہےماشاءاللہ، سلامت رہیں عباد اللہ
بہت شکریہ بھیا
محمد خرم یاسین — جون 13، 2016 11:54 صبح
اس نظم کو شریکِ محفل تو کیجئے بھیا
جی ضرور انشا اللہ جیسے ہی میرے ہاتھ لگی کردوں گا۔ دوسرے گھر میں شفٹ ہوا ہوں کچھ سامان پہلے گھر میں رہ گیا ہے۔
عباد اللہ — جون 14، 2016 5:57 شام
ابھی ایک دوست نے عروض ڈاٹ کام کے سہارے بتایا کہ اس نظم کے اوزان سلامت نہیں
میں نے تصدیق کی ہے ، واقعی عروض ڈاٹ کام اسے موزوں نہیں بتاتی اہلِ علم کچھ روشنی ڈالیں
محمد وارث سر
الف عین سر
مزمل شیخ بسمل سر
محمد اسامہ سَرسَری
محمد ریحان قریشی
محمد خلیل الرحمٰن سر
محمد وارث — جون 14، 2016 6:07 شام
ابھی ایک دوست نے عروض ڈاٹ کام کے سہارے بتایا کہ اس نظم کے اوزان سلامت نہیں
میں نے تصدیق کی ہے ، واقعی عروض ڈاٹ کام اسے موزوں نہیں بتاتی اہلِ علم کچھ روشنی ڈالیں
محمد وارث سر
الف عین سر
مزمل شیخ بسمل سر
محمد اسامہ سَرسَری
محمد ریحان قریشی
محمد خلیل الرحمٰن سر
مجھے تو یہ نظم فعول فعلن وزن پر موزوں لگی ہے، فقط ایک جگہ کچھ احسا س ہوا ہےجسے سرخ کر رہا ہوں۔
جو آفرینش کی ابتدا سے سبک خرامی سے چلتے چلتے نہ جانے کتنی عظیم نسلوں، کئی زمانوں کے فرق کو پاٹتے ان تک آ گیا ہے
محمد ریحان قریشی — جون 14، 2016 6:44 شام
پاٹتے ہوئے ان تک آ گیا ہے
ایسے شاید درست ہو جائے.
ابن رضا — جون 14، 2016 6:53 شام
تصویر کے ایک رخ پر روشنی ڈالتی ہوئی بہت خوب نظم ہے.
چارہ ہونا یا چارہ نہ ہونا تو محاورا ہے البتہ چارہ بچنا یا چارہ نہ بچنا محاورا نہیں. آپ کی وہ سطر چارہ نہیں پر ہی مکمل ہے جبکہ بچا ہے اضافی ہے کہ اس کی شمولیت کے بغیر بھی بات مکمل ہے.
عباد اللہ — جون 14، 2016 7:34 شام
واہ
راحیل فاروق سر بھی یہیں ہیں
تصویر کے ایک رخ پر روشنی ڈالتی ہوئی بہت خوب نظم ہے.
سر آپ اور
ابن رضا بھائی دوسرے رخ پر کچھ روشنی ڈالئے
راحیل فاروق — جون 14، 2016 7:43 شام
واہ
راحیل فاروق سر بھی یہیں ہیں
سر آپ اور
ابن رضا بھائی دوسرے رخ پر کچھ روشنی ڈالئے
دوسرے رخ پر تو بھائی میری اپنی روشنی نہیں پڑی۔ ان اندھیاروں کو
چراغِ رخِ زیبا والے ہی اجالیں تو اجالیں!
ابن رضا — جون 14، 2016 7:51 شام
دوسرے رخ پر تو بھائی میری اپنی روشنی نہیں پڑی۔ ان اندھیاروں کو
چراغِ رخِ زیبا والے ہی اجالیں تو اجالیں!
حضور آپ کی توثیق سے تو یہ احتمال ہورہا ہے کہ جیسے میں نے یہ عرض کیا ہو کہ تصویر کے صرف دو ہی رخ ہوتے ہیں؟


راحیل فاروق — جون 14، 2016 8:12 شام