خواب میں کوئی اشارہ تو ملے-------نور سعدیہ شیخ

نور وجدان — ستمبر 20، 2015 1:07 شام

خواب میں کوئی اشارہ تو ملے
بحر کو کوئی کنارا تو ملے
دیپ الفت کےتو جلنے ہیں صدا
رات کو کوئی ستارہ تو ملے
پھول کھلتے ہیں، صبا چلتی ہے
اس جنوں میں بھی خسارہ تو ملے
زخمِ دِل اُن کو دکھائیں بھی تو کیوں!
حشر برپا ہے ، کنارا تو ملے
جب دوا نورؔ نہ کام آئی کوئی
زہر دو! کوئی سہارا تو ملے
حق کا نعرہ میں لگاتی ہوں صدا
دل جلے! مجھ کو کنارا تو ملے
مے کشوں کو تو اجل مست کرے
ماہ کے رخ کا اشارہ تو ملے!
جب ملے خاکِ نجف کا سُرمہ
وصل ہو میرا !وہ پیارا تو ملے
خاکِ در جان کی اے کاش بنوں
رخ ترے سے وہ نظارہ تو ملے​
نور وجدان — ستمبر 20، 2015 8:34 شام
محترم الف عین
محترم محمد یعقوب آسی
ابن رضا — ستمبر 20، 2015 8:47 شام
عروض کا جو ربط آپ نے دیا ہے یہ طریقہ کارگر نہیں۔ یہ ربط خالی ہے۔ اگر آپ نے اپنی تقطیع شریک کرنا ہو تو عروض کی سائیٹ پر پہلے اسے شائع کرنا ہوگا
نور وجدان — ستمبر 20، 2015 8:49 شام
عروض کا جو ربط آپ نے دیا ہے یہ طریقہ کارگر نہیں۔ یہ ربط خالی ہے۔ اگر آپ نے اپنی تقطیع شریک کرنا ہو تو عروض کی سائیٹ پر پہلے اسے شائع کرنا ہوگا
جناب:
http://www.aruuz.com/mypoetry/poetry/1557
ابن رضا — ستمبر 20، 2015 8:55 شام
http://www.aruuz.com/mypoetry/poetry/1556
میں بھی سیل فون سے ہی بات کر رہا ہوں
نور وجدان — ستمبر 20، 2015 8:56 شام
http://www.aruuz.com/mypoetry/poetry/1556
میں بھی سیل فون سے ہی بات کر رہا ہوں
تشکر ..۔
ابن رضا — ستمبر 20، 2015 8:59 شام
دوبوں ربط کہ آخری نمبر میں فرق بتا رہا ہے کہ یہ غزل آپ نے وہاں دو بار شائع کی ہے؟
نور وجدان — ستمبر 20، 2015 9:02 شام
دوبوں ربط کہ آخری نمبر میں فرق بتا رہا ہے کہ یہ غزل آپ نے وہاں دو بار شائع کی ہے؟
میرا خیال مصرعہ کا فرق تھا ..۔تبدیلی کی تھی اس لیے دوبارہ شائع کی تھی اور آپ کی بات درست ہے جناب۔۔ نوازش و تشکر ..
الف عین — ستمبر 21، 2015 4:08 صبح
غزل عروض ڈاٹ کام پر ’میری شاعری‘ میں شائع ہوئی ہے۔ تقطیع میں نہیں۔
عروضی اعتبار سے کچھ مصرعے درست ہیں، فاعلاتن فعلاتن فعلن پر، اور کچھ مکمل خارج از وزن ہیں۔ غزل ویسے اچھی ہے ماشاء اللہ
نور وجدان — ستمبر 21، 2015 4:54 صبح
غزل عروض ڈاٹ کام پر ’میری شاعری‘ میں شائع ہوئی ہے۔ تقطیع میں نہیں۔
عروضی اعتبار سے کچھ مصرعے درست ہیں، فاعلاتن فعلاتن فعلن پر، اور کچھ مکمل خارج از وزن ہیں۔ غزل ویسے اچھی ہے ماشاء اللہ

مفتَعِلن فاعلن مفتَعِلن
السلام علیکم ! محترم شکریہ ! خوشی ہوئی کہ غزل پسند آئی کہ سب آپ نے سکھایا ہے مجھے !
تقطیع کے لیے عروض کی سائیٹ پر غزل کے نیچے ''اشعار کی تقطیع '' کا آپشن ہے ۔۔ اس پر کلک کیجئے ۔۔ساری غزل تقطیع ہو جائے گی ۔۔
Capture.PNG
آوازِ دوست — ستمبر 21، 2015 5:32 صبح
کوئی دوا کار گر بھی نہ ہوئی
زہر دو! کوئی سہارا تو ملے
اَب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔جو مر کے بھی چین نہ پایا تو کِدھر جائیں گے :)
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 21، 2015 5:57 صبح
ہماری صلاح بھی ملاحظہ کیجیے
خواب میں کوئی اشارہ تو ملے
بحر کو کوئی کنارا تو ملے

دیپ الفت کےتو جلنے ہیں صدا
رات کو کوئی ستارہ تو ملے
پھول کھلتے ہیں صبا چلتی ہے
اس جنوں میں بھی خسارہ تو ملے​

زخمِ دِل اُن کو دکھائیں بھی تو کیوں
حشر برپا ہے ، کنارا تو ملے
جب دوا نورؔ نہ کام آئی کوئی
زہر دو! کوئی سہارا تو ملے
حق کا نعرہ میں لگاتی ہوں صدا
دل جلے! مجھ کو کنارا تو ملے
مے کشو ں کو تو اجل مست کرے
ماہ کے رخ کا اشارہ تو ملے
وصل ہو میرا !وہ پیارا تو ملے
خاکِ در جان کی اے کاش بنوں
تیرےرخ سے وہ نظارہ تو ملے
نور وجدان — ستمبر 21، 2015 6:02 صبح
ہماری صلاح بھی ملاحظہ کیجیے
خواب میں کوئی اشارہ تو ملے
بحر کو کوئی کنارا تو ملے

دیپ الفت کےتو جلنے ہیں صدا
رات کو کوئی ستارہ تو ملے
پھول کھلتے ہیں صبا چلتی ہے
اس جنوں میں بھی خسارہ تو ملے​

زخمِ دِل اُن کو دکھائیں بھی تو کیوں
حشر برپا ہے ، کنارا تو ملے
جب دوا نورؔ نہ کام آئی کوئی
زہر دو! کوئی سہارا تو ملے
حق کا نعرہ میں لگاتی ہوں صدا
دل جلے! مجھ کو کنارا تو ملے
مے کشو ں کو تو اجل مست کرے
ماہ کے رخ کا اشارہ تو ملے
وصل ہو میرا !وہ پیارا تو ملے
خاک درِ جان کی اے کاش بنوں
رخ ترے سے وہ نظارہ تو ملے
بحر بدل دی ÷۔۔۔۔۔۔۔،معانی پر سبحان اللہ ۔۔۔یعنی کہ غزل نکھار دی۔۔۔۔۔ مزہ آگیا۔قریب ترین مانوس بحر پتا چلانے کا طریقہ کوئی ۔۔ یا کہ وہی عروض کی سائیٹ پر بحر بدل بدل کے دیکھوں ۔۔
جزاک اللہ ۔۔
آوازِ دوست — ستمبر 21، 2015 6:05 صبح
ہماری صلاح بھی ملاحظہ کیجیے
خواب میں کوئی اشارہ تو ملے
بحر کو کوئی کنارا تو ملے

دیپ الفت کےتو جلنے ہیں صدا
رات کو کوئی ستارہ تو ملے
پھول کھلتے ہیں صبا چلتی ہے
اس جنوں میں بھی خسارہ تو ملے​

زخمِ دِل اُن کو دکھائیں بھی تو کیوں
حشر برپا ہے ، کنارا تو ملے
جب دوا نورؔ نہ کام آئی کوئی
زہر دو! کوئی سہارا تو ملے
حق کا نعرہ میں لگاتی ہوں صدا
دل جلے! مجھ کو کنارا تو ملے
مے کشو ں کو تو اجل مست کرے
ماہ کے رخ کا اشارہ تو ملے
وصل ہو میرا !وہ پیارا تو ملے
خاکِ در جان کی اے کاش بنوں
رخ ترے سے وہ نظارہ تو ملے
سر یہ جو ایک شاعر گزرے ہیں ساحر لدھیانوی صاحب آپ نے دیکھا ہو گا کہ کلام کے اعتبار سے یہ واقعی ساحر رہے ہیں تو کیا اِن کی شاعری بھی جُملہ تکنیکی لوازمات خصوصا" اوزان کے تقاضے پورا کرتی ہے؟
نور وجدان — ستمبر 21، 2015 6:06 صبح
محترم [US@
محمد خلیل الرحمن براہ مہربانی بحر کے بارے میں صلاح دیں۔۔۔۔ آپ نے وہ معانی دیے کہ جی عش عش کر اٹھے
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 21، 2015 6:07 صبح
اساتذہ اور دیگر شعرا کے کلام کا مطالعہ کیجیے
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 21، 2015 6:08 صبح
سر یہ جو ایک شاعر گزرے ہیں ساحر لدھیانوی صاحب آپ نے دیکھا ہو گا کہ کلام کے اعتبار سے یہ واقعی ساحر رہے ہیں تو کیا اِن کی شاعری بھی جُملہ تکنیکی لوازمات خصوصا" اوزان کے تقاضے پورا کرتی ہے؟
یقیناً!!!!
نور وجدان — ستمبر 21، 2015 6:08 صبح
اساتذہ اور دیگر شعرا کے کلام کا مطالعہ کیجیے
وہ ساتھ ساتھ کر رہی ہوں ۔۔چلوں اب بلا ناغہ کروں گی ۔۔نوازش
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 21، 2015 6:12 صبح
محترم [US@
محمد خلیل الرحمن آپ نے وہ معانی دیے کہ جی عش عش کر اٹھے

بٹیا معانی تو آپ ہی کے ہیں۔ ہم نے بس چند الفاظ کا ہیر پھیر کیا ہے اور وہ بھی محض صلاح کے طور پر۔ گر قبول افتد زہے عز وشرف
نور وجدان — ستمبر 21، 2015 6:18 صبح
بٹیا معانی تو آپ ہی کے ہیں۔ ہم نے بس چند الفاظ کا ہیر پھیر کیا ہے اور وہ بھی محض صلاح کے طور پر۔ گر قبول افتد زہے عز وشرف
محترم جناب ! یہی تو خوشی ہو رہی کہ جو معانی نا مانوس بحر میں کھلے نہیں اور میں نے سوچا کہ بحر کیسے بدلوں ۔۔۔ تو آپ نے تو مجھے حیران ہی کر دیا نا ! میں اب کہ کچھ ایسا ہی کروں گی ۔۔آپ دیکھئے کہ معانی کیسے ابلاغ دے رہے کہ جیسے حلق پہلے خشک تھا اب گلہ کھل گیا ہے ۔۔واہ واہ واہ !!! ہمیں تو جی جان سے قبول ہے کہ اس کی تدوین کر رہی ہوں
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%AA%D9%88-%D9%85%D9%84%DB%92-%D9%86%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D8%B9%D8%AF%DB%8C%DB%81-%D8%B4%DB%8C%D8%AE.84738/