خود اپنے سامنے آجاؤں گا میں

نوید ناظم — نومبر 30، 2017 6:11 صبح
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیالوں کی زمیں چاہے کہیں ہو
وہیں سے بھاگ کے آ جاؤں گا میں
جب اُس کو بھولنے کی بات ہو گی
خود اپنے سامنے آ جاؤں گا میں
دیے ہاتھوں میں لے کر کہہ رہا ہے
ذرا آندھی چلے آ جاؤں گا میں
کہو ویرانے سے یہ دشت مِیں ہوں
مِرے گھر میں رہے آ جاؤں گا میں
جو پاؤں میں ہیں زنجیریں تو پھر کیا
بلا لے وہ مجھے آ جاؤں گا میں
انہی ہاتھوں پہ سورج کو اُٹھائے
جو تجھ پر دن ڈھلے آجاؤں گا میں
بلا سے جو بھی ناصح کہہ رہا ہے
یوں کوچے سے تِرے آ جاؤں گا میں!!
نوید ناظم — نومبر 30، 2017 6:12 صبح
محترم سر الف عین
الف عین — دسمبر 2، 2017 1:13 شام
اچھی غزل ہے۔ اور درست۔
نوید ناظم — دسمبر 4، 2017 10:41 صبح
اچھی غزل ہے۔ اور درست۔
بہت شکریہ سر!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D9%88%D8%AF-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92-%D8%A2%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%DA%AF%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA.99263/