خود اپنے ہاتھ سے رخصت کیا ہے

حنیف خالد — دسمبر 25، 2015 1:16 شام
خود اپنے ہاتھ سے رخصت کیا ہے
بتاؤ کس میں اتنا حوصلہ ہے
ہمیں مغموم کر کے وہ کہاں خوش
یقینا اس کا دل بھی جل رہا ہے
ہمیں منظور ہیں سب اس کی شرطیں
ہمارے دل کو وہ اچھا لگا ہے
ہمارے غم سے تم واقف نہیں ہو
جہاں والو! تمہارا کیا گیا ہے
اداسی چھا گئی ہر سمت خالد
کسی معصوم کا پھر سر کٹا ہے
الف عین — دسمبر 25، 2015 2:56 شام
ماشاء اللہ مکمل درست۔
حنیف خالد — دسمبر 25، 2015 3:06 شام
ماشاء اللہ مکمل درست۔
استاد محترم مہر لگانے کا بہت بہت شکریہ۔
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 25، 2015 3:55 شام
بہت داد قبول فرمائیے۔ خوب صورت
حنیف خالد — دسمبر 25، 2015 4:05 شام
بہت داد قبول فرمائیے۔ خوب صورت
محترم خلیل صاحب پسند فرمانے کا بہت بہت شکریہ۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D9%88%D8%AF-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%D8%B3%DB%92-%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92.86655/