سارہ بشارت گیلانی — نومبر 14، 2012 8:11 صبح
خود سے باتیں کرتے رہنا
خاموشی سے لڑتے رہنا
کون اب غم سے جیتے گا کہ
اس کا گن ہے بڑهتے رہنا
سچ پوچھو تو تم چپ رہ کر
بس چہروں کو پڑهتے رہنا
مٹی کا تن کیا دکه اسکا
یوں مٹی میں ملتے رہنا
جیسا بهی ہو گهٹ جائے گا
دوری کا غم سہتے رہنا
گونگوں بہروں کے بستی میں
سچ کی باتیں کہتے رہنا
پپو — نومبر 14، 2012 8:16 صبح
مٹی کا تن کیا دکه اسکا
یوں مٹی میں ملتے رہنا
مزمل حسین — نومبر 14، 2012 10:13 صبح
قوافی قوافی نہیں
سارہ بشارت گیلانی — نومبر 14، 2012 11:34 صبح
الف عین — نومبر 15، 2012 7:30 صبح
قوافی واقعی درست نہیں ہیں ثقہ عروض دانیوں کے نزدیک۔ ان میں سے ’تے‘ نکال دیا تو بڑھ، کہہ، مل وغیرہ قوافی نہیں۔ لیکن بہت سے جدید لوگ ایسے مجرد قافیوں کو جائز سمجھتے ہیں۔
مزمل شیخ بسمل — نومبر 15، 2012 10:13 صبح
یہ ایطا ہے۔ ایطائے جلی۔ ایسا قافیہ کرنا قطعاً درست نہیں۔ چاہے جدید لوگ کریں یا قدیم۔ غلط تو غلط ہی ہے۔
صرف ”تے“ کو ہٹا کر دیکھیں تو سب گڑ بڑ ہوجائے گا۔
اسکے برعکس اگر تے کو ہٹا کر بھی کوئی فرق نہ آئے تو درست ہوگا مثال:
کرتے، بھرتے، ڈرتے، چرتے، دھرتے۔
”تے“ کو نکال دیں تو بھی قافیہ درست رہے گا۔
یا پھر:
ملَتے، دلتے، جلتے، پگھلتے، پھسلتے، سنبھلتے، نکلتے۔
ان میں بھی ”تے“ کو ہٹا دیں تو فرق نہیں آتا۔
یا اس طرح:
کہتے، بہتے، سہتے، رہتے وغیرہ۔
سارہ بشارت گیلانی — نومبر 15، 2012 7:43 شام
یہ ایطا ہے۔ ایطائے جلی۔ ایسا قافیہ کرنا قطعاً درست نہیں۔ چاہے جدید لوگ کریں یا قدیم۔ غلط تو غلط ہی ہے۔
صرف ”تے“ کو ہٹا کر دیکھیں تو سب گڑ بڑ ہوجائے گا۔
اسکے برعکس اگر تے کو ہٹا کر بھی کوئی فرق نہ آئے تو درست ہوگا مثال:
کرتے، بھرتے، ڈرتے، چرتے، دھرتے۔
”تے“ کو نکال دیں تو بھی قافیہ درست رہے گا۔
یا پھر:
ملَتے، دلتے، جلتے، پگھلتے، پھسلتے، سنبھلتے، نکلتے۔
ان میں بھی ”تے“ کو ہٹا دیں تو فرق نہیں آتا۔
یا اس طرح:
کہتے، بہتے، سہتے، رہتے وغیرہ۔
شکریہ!
شاہد شاہنواز — نومبر 16، 2012 3:50 شام
قافیوں کی ایک قسم اور ہے ۔۔۔ صوتی قافیہ ۔۔۔ کیا اس میں بھی اس کا استعمال درست نہیں؟ میرا ذاتی خیال اس میں یہ ہے کہ کچھ قوافی بدل کر شاید جائز ہوسکتا ہے۔۔۔
مزمل شیخ بسمل — نومبر 16، 2012 4:03 شام
قافیوں کی ایک قسم اور ہے ۔۔۔ صوتی قافیہ ۔۔۔ کیا اس میں بھی اس کا استعمال درست نہیں؟ میرا ذاتی خیال اس میں یہ ہے کہ کچھ قوافی بدل کر شاید جائز ہوسکتا ہے۔۔۔
صوتی قافیہ قسم نہیں عیب ہے جناب۔ صوتی قافیہ بالکل جائز نہیں ہے اردو شاعری میں۔
شاہد شاہنواز — نومبر 16، 2012 4:11 شام
شکر ہے میں نے استعمال نہیں کیا ابھی تک۔۔۔ مجھے ویسے ہی پسند نہیں۔۔۔