خونین قبا میں یہ ہے بسمل کا تماشا

نور وجدان — اگست 2، 2020 5:24 شام
خونین قبا میں یہ ہے بسمل کا تماشا
دیوانے کو مل جائے کوئی اپنا، شناسا
مرکز ہے خیالات کا جو روضہ علی کا (رض)
درویش نے پایا ہے گدائی کا سہارا
کاتب نے یہ لکھی ہے ازل سے مری قسمت
وہ درد بڑھا کر ہی مجھے دے گا دلاسہ
جذبات کے سو رنگ دیے چہرے کو میرے
ہر رنگ میں پھر درد بہ خوبی ہے نوازا
ہستی مری جو غیر ہوئی اپنی زمیں میں
اسکو تو فلک سے ہے ملا کوئی شناسا
نور وجدان — اگست 2، 2020 5:25 شام
محترم الف عین محترم محمد خلیل الرحمٰن
محمد ریحان قریشی — اگست 2، 2020 7:10 شام
کاتب نے یہ لکھی ہے ازل سے مری قسمت
صرف اس مصرعے کا وزن درست ہے۔
نور وجدان — اگست 2، 2020 7:14 شام
صرف اس مصرعے کا وزن درست ہے۔
آپ کا بہت شکریہ، میں نے اس غزل کو مختلف جگہوں پر رکھا ہوا تھا. اس لیے گڑبڑ ہوگئی ہے، میں اسے ڈھونڈ کے یا اسے ہی دیکھ کے پوسٹ کرتی ہوں دوبارہ
نور وجدان — اگست 2، 2020 8:23 شام
آپ کا بہت شکریہ، میں نے اس غزل کو مختلف جگہوں پر رکھا ہوا تھا. اس لیے گڑبڑ ہوگئی ہے، میں اسے ڈھونڈ کے یا اسے ہی دیکھ کے پوسٹ کرتی ہوں دوبارہ

خونین قبا میں یہ ہے بسمل کا تماشا
دیوانے کو مل جائے کوئی اپنا، شناسا
مرکز ہے خیالات کا جو روضہ علی کا (رض)
درویش نے پایا ہے گدائی کا سہارا
کاتب نے یہ لکھی ہے ازل سے مری قسمت
وہ درد بڑھا کر ہی مجھے دے گا دلاسہ
جذبات کے سو رنگ دیے چہرے کو میرے
ہر رنگ میں پھر درد بہ خوبی ہے نوازا
ہستی مری جو غیر ہوئی اپنی زمیں میں
اسکو تو فلک سے ہے ملا کوئی شناسا
اب چیک کریں آپ
محمد ریحان قریشی — اگست 2، 2020 8:50 شام
جی اب اوزان درست ہیں۔ خونین البتہ اعلانِ نون کے ساتھ مستعمل نہیں، میرے علمِ ناقص کے مطابق۔
نور وجدان — اگست 2، 2020 8:54 شام
جی اب اوزان درست ہیں۔ خونین البتہ اعلانِ نون کے ساتھ مستعمل نہیں، میرے علمِ ناقص کے مطابق۔

آپ کی نِظر میں کوئی بہتر متبادل؟
محمد ریحان قریشی — اگست 2، 2020 9:26 شام
آپ کی نِظر میں کوئی بہتر متبادل؟
خونیں سی قبا کیا جا سکتا ہے، تاہم سی کچھ حشو سا معلوم ہوگا۔ دیگر متبادل بھی تلاش کرنا کچھ خاص مشکل نہیں مثلاً
اک پیکرِ خونیں میں ہے بسمل کا تماشا
نور وجدان — اگست 2، 2020 9:29 شام
خونیں سی قبا کیا جا سکتا ہے، تاہم سی کچھ حشو سا معلوم ہوگا۔ دیگر متبادل بھی تلاش کرنا کچھ خاص مشکل نہیں مثلاً
اک پیکرِ خونیں میں ہے بسمل کا تماشا
بہت شکریہ آپکا
الف عین — اگست 3، 2020 5:10 صبح
مطلع بدل ہی دو نور، شناسا اور تماشا قوافی میں کچھ ایطا کا سا احساس ہوتا ہے، درست قوافی کیونکہ بہت وسعت لئے ہیں، اس لئے آسانی سے بدلا جا سکتا ہے
باقی اشعار درست لگ رہے ہیں
نور وجدان — اگست 3، 2020 5:07 شام
اک کوشش دیکھیے
اک پیکرِ خونیں میں ہے بسمل کا تماشا
دیوانے کو مل جائے گا اب کوئی سہارا
یا
رنگین قبا میں ہے سَرِ بزم تماشا
بسمل نے اسی رقص میں پایا ہے سہارا
نور وجدان — اگست 4، 2020 7:29 صبح
مطلع ٹھیک ہوا اب؟
الف عین — اگست 5، 2020 5:37 صبح
اک کوشش دیکھیے
اک پیکرِ خونیں میں ہے بسمل کا تماشا
دیوانے کو مل جائے گا اب کوئی سہارا
یا
رنگین قبا میں ہے سَرِ بزم تماشا
بسمل نے اسی رقص میں پایا ہے سہارا
دونوں ہی بہتر ہیں، پہلا قابل ترجیح ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D9%88%D9%86%DB%8C%D9%86-%D9%82%D8%A8%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%8C%DB%81-%DB%81%DB%92-%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7.112673/