خُدا خیر کرے جی ۔۔۔عابی مکھنوی

عابی مکھنوی — جون 26، 2014 10:11 شام
نشتر کی جگہ ہاتھ میں مرہم وہ لیے ہیں
اِس درجہ عِنایات خُدا خیر کرے جی
اِک بار ِ گراں ٹھہرا ہمیں اپنا تنفس
پھر اُن کے مفادات خُدا خیر کرے جی
کہتے ہیں کہ مر جاؤ تو پھر زندہ کریں گے
اُف اُن کی کرامات خُدا خیر کرے جی
عابی مکھنوی
ساقی۔ — جون 27، 2014 3:35 صبح
واہ! بہت اعلیٰ جناب ۔کیا خوب طرز بیاں ہے۔
الف عین — جون 27، 2014 3:48 صبح
بہت خوب، اگر اصلاح کی غرض سے ہے تو ’جی‘ کا استعمال پسند نہیں آیا، محاورے کے خلاف ہے، محاورہ صرف خدا خیر کرے ہوتا ہے، ’جی‘ کا اضافہ غزل کی لفظیات سے میل نہیں کھاتا۔
عابی مکھنوی — جون 27، 2014 5:59 صبح
شکریہ جناب الف عین صاحب ۔۔۔کوشش کرتا ہوں کوئی مناسب ترمیم ہو جائے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D9%8F%D8%AF%D8%A7-%D8%AE%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%DB%92-%D8%AC%DB%8C-%DB%94%DB%94%DB%94%D8%B9%D8%A7%D8%A8%DB%8C-%D9%85%DA%A9%DA%BE%D9%86%D9%88%DB%8C.75624/