امجد علی راجا — فروری 1، 2013 8:07 صبح
در کھلا رکھتے ہیں، گھر کو بھی سجا دیتے ہیں
رات بھر دل کو ہم ایسے ہی دغا دیتے ہیں
سانس تھم جاتی ہے، دھڑکن بھی بگڑ جاتی ہے
جب وہ چہرے پہ گری زلف ہٹا دیتے ہیں
تیری یادوں نے مجھے نیند سے محروم کیا
سو بھی جائوں تو ترے خواب جگا دیتے ہیں
بات چھوٹی ہی سہی، رسمِ زمانہ ہے یہی
حسبِ توفیق سبھی لوگ ہوا دیتے ہیں
اب تو وعدہ جو کرے کوئی تو یاد آتا ہے
وقت پڑنے پہ کئی لوگ دغا دیتے ہیں
سلسلہ باندھ لیا تم نے ستم کرنے کا
اس طرح لوگ محبت کا صلہ دیتے ہیں؟
بعد مرنے کے مرے بھی نہ تیرا دل پگھلا
ایک دو اشک تو دشمن بھی بہا دیتے ہیں
اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظرف کا پیکر ہوگا
اپنے قاتل کو بھی جینے کی دعا دیتے ہیں
رات بھر ساتھ نبھاتے ہیں ستارے راجا
دن نکلتا ہے تو پھولوں کو جگا دیتے ہیں
منیب احمد فاتح — فروری 1، 2013 8:37 صبح
راجا صاحب کی شاعری میں جذباتیت بہت ہے۔
عبدالقدوس راشد — فروری 1، 2013 8:48 صبح
بہت خوب۔ گرم نرم فی البدیہہ شاعری پر
آپ کا انعام آپ کے مانگنے سے پہلے حاضر ہے۔
باباجی — فروری 1، 2013 9:24 صبح
بہت خوب جناب
امجد علی راجا — فروری 1، 2013 10:39 صبح
ہاہاہاہاہاہا، عبدل القدوس بھائی! یہ تحفہ تو میں گھر جا کر کھولوں گا، شاید میری بیوی کو یقین آ ہی جائے کہ میں واقعی "شاعر" ہوں

اتنی بے پناہ محبت نے مجھے جذباتی کردیا

امجد علی راجا — فروری 1، 2013 10:40 صبح
الف عین — فروری 1، 2013 10:58 صبح
اچھی غزل ہے راجا، اوزان کے لحاظ سے بالکل درست ہے، کہیں کہیں روانی یا معنوی طور پر کچھ کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ تفصیلی رائے بعد میں۔ فی الحال کاپی پیسٹ کر رہا ہوں
امجد علی راجا — فروری 1، 2013 11:01 صبح
بہت بہت شکریہ، آپ نے میرے لئے وقت نکالا، جزا ک اللہ۔ اب مجھے شدت سے انتظار رہے گا۔
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 1، 2013 3:58 شام
خوبصورت غزل ہے راجا بھائی۔ بہت ساری داد قبول کیجیے
بعد مرنے کے مرے بھی نہ تیرا دل پگھلا
ایک دو اشک تو دشمن بھی بہا دیتے ہیں
مندرجہ بالا شعر میں شاید ٹائیپوہے۔ تیرا کی جگہ ترا ہونا چاہیے۔ کہیے تو تدوین کردیں؟
عبدالقدوس راشد — فروری 2، 2013 11:18 صبح
ہاہاہاہاہاہا، عبدل القدوس بھائی! یہ تحفہ تو میں گھر جا کر کھولوں گا، شاید میری بیوی کو یقین آ ہی جائے کہ میں واقعی "شاعر" ہوں

اتنی
بے پناہ محبت نے مجھے جذباتی کردیا
بھائی کیوں شرمندہ کررہے ہیں۔
امجد علی راجا — فروری 4، 2013 4:25 صبح
خوبصورت غزل ہے راجا بھائی۔ بہت ساری داد قبول کیجیے
مندرجہ بالا شعر میں شاید ٹائیپوہے۔ تیرا کی جگہ ترا ہونا چاہیے۔ کہیے تو تدوین کردیں؟
خلیل الرحمن بھائی، بہت بہت شکریہ۔
ہاں جی، بلکل تدوین کردیں۔
الف عین — فروری 10، 2013 7:33 صبح
در کھلا رکھتے ہیں، گھر کو بھی سجا دیتے ہیں
رات بھر دل کو ہم ایسے ہی دغا دیتے ہیں
//مفہوم سمجھ میں نہیں آیا۔ دغا سے یہاں مراد کیا ‘’دھوکا‘ ہے؟ ایک جگہ کھلا ‘رکھتے‘ ہیں، تو دوسری جگہ بھی ’رکھتے‘ ہی ہونا چاہئے۔ لیکن زمین کی وجہ سے پہلے مصرع میں در کا فعل بدل دو۔
در کو بھی کھولتے ہیں، گھر بھی سجا دیتے ہیں
سانس تھم جاتی ہے، دھڑکن بھی بگڑ جاتی ہے
جب وہ چہرے پہ گری زلف ہٹا دیتے ہیں
//درست
تیری یادوں نے مجھے نیند سے محروم کیا
سو بھی جائوں تو ترے خواب جگا دیتے ہیں
//درست
بات چھوٹی ہی سہی، رسمِ زمانہ ہے یہی
حسبِ توفیق سبھی لوگ ہوا دیتے ہیں
//درست
اب تو وعدہ جو کرے کوئی تو یاد آتا ہے
وقت پڑنے پہ کئی لوگ دغا دیتے ہیں
//درست
سلسلہ باندھ لیا تم نے ستم کرنے کا
اس طرح لوگ محبت کا صلہ دیتے ہیں؟
//درست، ویسے سلسلہ باندھ لیا کی جگہ کچھ بہتر فقرہ لایا جا سکتا ہے۔
بعد مرنے کے مرے بھی نہ تیرا دل پگھلا
ایک دو اشک تو دشمن بھی بہا دیتے ہیں
//پہلا مصرع رواں نہیں، اس کو یوں کر دو
میرے مرنے پہ بھی دل اس کا پگھل کر نہ دیا
یا
نہ پگھلنا تھا اسے اور نہ پگھلا پس مرگ
یا اس قسم کا کوئی اور مصرع
اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظرف کا پیکر ہوگا
اپنے قاتل کو بھی جینے کی دعا دیتے ہیں
//اس میں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ ہمارا ذکر ہے
ہم تو قاتل کو بھی جینے کی دعا دیتے ہیں
رات بھر ساتھ نبھاتے ہیں ستارے راجا
دن نکلتا ہے تو پھولوں کو جگا دیتے ہیں
//خوب۔
مجموعی طور سے ایک کامیاب غزل
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 10، 2013 5:22 شام
ہم کو عمدہ سی کوئی غزل سنانی ہو تو
راجا صاحب کی یہی غزل سنا دیتے ہیں
امجد علی راجا — فروری 11، 2013 5:31 صبح
در کھلا رکھتے ہیں، گھر کو بھی سجا دیتے ہیں
رات بھر دل کو ہم ایسے ہی دغا دیتے ہیں
//مفہوم سمجھ میں نہیں آیا۔ دغا سے یہاں مراد کیا ‘’دھوکا‘ ہے؟ ایک جگہ کھلا ‘رکھتے‘ ہیں، تو دوسری جگہ بھی ’رکھتے‘ ہی ہونا چاہئے۔ لیکن زمین کی وجہ سے پہلے مصرع میں در کا فعل بدل دو۔
در کو بھی کھولتے ہیں، گھر بھی سجا دیتے ہیں
سانس تھم جاتی ہے، دھڑکن بھی بگڑ جاتی ہے
جب وہ چہرے پہ گری زلف ہٹا دیتے ہیں
//درست
تیری یادوں نے مجھے نیند سے محروم کیا
سو بھی جائوں تو ترے خواب جگا دیتے ہیں
//درست
بات چھوٹی ہی سہی، رسمِ زمانہ ہے یہی
حسبِ توفیق سبھی لوگ ہوا دیتے ہیں
//درست
اب تو وعدہ جو کرے کوئی تو یاد آتا ہے
وقت پڑنے پہ کئی لوگ دغا دیتے ہیں
//درست
سلسلہ باندھ لیا تم نے ستم کرنے کا
اس طرح لوگ محبت کا صلہ دیتے ہیں؟
//درست، ویسے سلسلہ باندھ لیا کی جگہ کچھ بہتر فقرہ لایا جا سکتا ہے۔
بعد مرنے کے مرے بھی نہ تیرا دل پگھلا
ایک دو اشک تو دشمن بھی بہا دیتے ہیں
//پہلا مصرع رواں نہیں، اس کو یوں کر دو
میرے مرنے پہ بھی دل اس کا پگھل کر نہ دیا
یا
نہ پگھلنا تھا اسے اور نہ پگھلا پس مرگ
یا اس قسم کا کوئی اور مصرع
اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظرف کا پیکر ہوگا
اپنے قاتل کو بھی جینے کی دعا دیتے ہیں
//اس میں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ ہمارا ذکر ہے
ہم تو قاتل کو بھی جینے کی دعا دیتے ہیں
رات بھر ساتھ نبھاتے ہیں ستارے راجا
دن نکلتا ہے تو پھولوں کو جگا دیتے ہیں
//خوب۔
مجموعی طور سے ایک کامیاب غزل
شکریہ استادِ محترم، آپ کی محبت، محنت اور توجہ نے میرے الفاظ میں جان ڈال دی۔ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے، تندرست و توانا رکھے۔
امجد علی راجا — فروری 11، 2013 5:42 صبح
ہم کو عمدہ سی کوئی غزل سنانی ہو تو
راجا صاحب کی یہی غزل سنا دیتے ہیں
جزاک اللہ اسامہ بھیا! آپ حوصلہ افزائی کر دیتے ہیں تو اندر کا شاعر مطمئن ہو جاتا ہے۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 11، 2013 3:47 شام
جزاک اللہ اسامہ بھیا! آپ حوصلہ افزائی کر دیتے ہیں تو اندر کا شاعر مطمئن ہو جاتا ہے۔
ارئے بھائی حوصلہ افزائی تو بڑوں کا کام ہے، میں تو بس آپ جیسوں کو مکھن لگا رہا ہوں۔
امجد علی راجا — فروری 12، 2013 4:50 صبح
ارئے بھائی حوصلہ افزائی تو بڑوں کا کام ہے، میں تو بس آپ جیسوں کو مکھن لگا رہا ہوں۔
میری طرح یقینا آپ بھی اچھی شوہر ثابت ہوئے ہیں، مکھن لگانے کا ہنر بھلا ہر کسی کے نصیب میں کہاں؟

آپ حوصلہ افزائی فرمایا کریں، میرے لئے آپ بڑے ہی ہیں، بہت قابلِ احترام بھائی۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 12، 2013 3:32 شام
میری طرح یقینا آپ بھی اچھی شوہر ثابت ہوئے ہیں، مکھن لگانے کا ہنر بھلا ہر کسی کے نصیب میں کہاں؟

آپ حوصلہ افزائی فرمایا کریں، میرے لئے آپ بڑے ہی ہیں، بہت قابلِ احترام بھائی۔
”اچھی شوہر“

میرے خیال میں بیچ میں ”کا“ چھوٹ گیا ہے۔
محسن وقار علی — فروری 12، 2013 4:11 شام
اب تو وعدہ جو کرے کوئی تو یاد آتا ہے
وقت پڑنے پہ کئی لوگ دغا دیتے ہیں
