درد

امجد میانداد — جولائی 25، 2013 6:35 شام
السلام علیکم،
اساتذہ اکرام کی مہربانی اور عنایت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنی ایک اور پرانی کوشش آپ کی خدمت میں پیش ہے امید ہے اصلاح کی جائے گی تاکہ بندہ کبھی اپنی شاعری کو اپنا سا منہ لے کر کہیں ٹھیک سے شئیر کرنے کے قابل ہو سکے۔
درد

درد پسِ تبسم، تبسم بامِ درد
گوشہ گوشہ درد، دل نامِ درد
گردن گردن پر لہو، کیا تلاشِ مجرم
جذبے، رفیق، رشتے، سب الہامِ درد
پارہ پارہ خواب، بے عکس وجود
ہے زیست بھی گویا جامِ درد
ہزاروں غم ہیں عشق میں لیکن
عشق ہے خود اِک دامِ درد
منزل ہے تُو پر تمہاری سمت
ہر گام ہے جیسے گامِ درد

ٹیگز: محمد اسامہ سَرسَری , مزمل شیخ بسمل , نیرنگ خیال , سید زبیر , زبیر مرزا , نیلم , بھلکڑ , غدیر زھرا , محمد بلال اعظم , مہدی نقوی حجاز , ملائکہ ، محمداحمد ، نمرہ ، سید ذیشان ، فاتح ، محمد یعقوب آسی ، الف عین , محمد خلیل الرحمٰن
بھلکڑ — جولائی 25، 2013 6:50 شام
ہائے میں مر گئی شوکت علی اس کو راگ میں لانے کی کوشش تو نہیں کرنے والے!!!!!!!!
اچھا بہت ساری داد وصولو بھیا !!!! زبردست ۔۔۔۔۔
پارہ پارہ خواب، بے عکس وجود
ہے زیست بھی گویا جامِ درد
یہ شعر تو بہت ہی زبردست ہے۔۔۔
نایاب — جولائی 25، 2013 6:53 شام
بہت خوب " فسانہ درد "
ملائکہ — جولائی 25، 2013 6:55 شام
اچھی غزل ہے بھیا ۔۔۔ درد کا ساتھ بہرحال زندگی کے ساتھ ہے
امجد میانداد — جولائی 25، 2013 7:02 شام
ہائے میں مر گئی شوکت علی اس کو راگ میں لانے کی کوشش تو نہیں کرنے والے!!!!!!!!
اچھا بہت ساری داد وصولو بھیا !!!! زبردست ۔۔۔ ۔۔
ایویں میں پریشان ہوتے اتنے اچھے سے تو اپنے احساسات کو قلم کی نذر کر دیا ہے

پارہ پارہ خواب، بے عکس وجود
ہے زیست بھی گویا جامِ درد
یہ شعر تو بہت ہی زبردست ہے۔۔۔

منزل ہے تُو پر تمہاری سمت
ہر گام ہے جیسے گامِ درد

(تمہاری کی جگہ تری کر کے دیکھو بھلا:p)
اللہ خیر کرے، آثار اچھے نہیں بھلکڑ یہ، افطار کے وقت منہ کے آگے ہاتھ رکھ رکھ کر شرمانا، ہائے میں مر گئی جیسے الفاظ اور اتنی گلابی اور رنگین تحریر نیرنگ خیال بھائی یہ ماجرا کیا ہے بھئی
اچھی غزل ہے بھیا ۔۔۔ درد کا ساتھ بہرحال زندگی کے ساتھ ہے
بے شک، بہت شکریہ ملائکہ :)
بہت خوب " فسانہ درد "
ایک بات بتاؤں، اس غزل سے کچھ ایسے واقعات بھی وابستہ ہیں جن میں درد بہت نمایاں رہا ;)
بھلکڑ — جولائی 25، 2013 7:08 شام
اللہ خیر کرے، آثار اچھے نہیں بھلکڑ یہ، افطار کے وقت منہ کے آگے ہاتھ رکھ رکھ کر شرمانا، ہائے میں مر گئی جیسے الفاظ اور اتنی رنگین تحریر نیرنگ خیال
بھائی یہ ماجرا کیا ہے بھئی
اوہ ! اوہ !!! کس طرف جاتے ہو !!!! ادھر ہی رہو تو زیادہ بہتر ہے!!! شرما تو بقول عمر بھائی مشرقی لڑکا ویسے بھی جاتا ہے
اور ہائے میں مر گئی کو واضح کرنے کے لئے یہ شعر
رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
سدو نی مینوں دھیدو رانجھا ،ہیر نہ آکھو کوئی

رنگین تحریر تو خیال بھائی کی اپنی بھی بہت ہوتی ہے اس کا کیا کرو گے!!!!
اور آثار کی وجہ سے پریشان نہ ہو !!! جب پریشانی حد سے بڑھے تو بتانا کوئی حل ڈھونڈ لیں گے!!!!:p[/quote]
امجد میانداد — جولائی 25، 2013 7:14 شام
شرما تو بقول عمر بھائی مشرقی لڑکا ویسے بھی جاتا ہے

اور باقی سارے تو جرمنی سے امپورٹ ہوئے ہیں نا؟؟
اور آثار کی وجہ سے پریشان نہ ہو !!! جب پریشانی حد سے بڑھے تو بتانا کوئی حل ڈھونڈ لیں گے!!!!:p
ارے بھئی کوئی بیوقوفی مت کر بیٹھنا، اور خاص طور پر یہ دیواروں کے اشتہاروں والے حکیموں کے چکر میں تو بالکل مت پڑنا، اللہ خیر کرے گا انشاءاللہ کوئی نا کوئی حل نکل ہی جائے گا، پریشان بالکل مت ہونا، پریشانی تو ہمیں ظاہر ہے بہت ہے آخر ہماری محفل میں ہوئے سو ہمارے اپنے ہوئے، لیکن انشاءاللہ سب مل کر کوئی نا کوئی حل ڈھونڈ لیں گے اب تو سائنس نے ویسے بھی بہت ترقی کر لی ہے۔
بھلکڑ — جولائی 25، 2013 7:21 شام
اور باقی سارے تو جرمنی سے امپورٹ ہوئے ہیں نا؟؟
ارے بھئی کوئی بیوقوفی مت کر بیٹھنا، اور خاص طور پر یہ دیواروں کے اشتہاروں والے حکیموں کے چکر میں تو بالکل مت پڑنا، اللہ خیر کرے گا انشاءاللہ کوئی نا کوئی حل نکل ہی جائے گا، پریشان بالکل مت ہونا، پریشانی تو ہمیں ظاہر ہے بہت ہے آخر ہماری محفل میں ہوئے سو ہمارے اپنے ہوئے، لیکن انشاءاللہ سب مل کر کوئی نا کوئی حل ڈھونڈ لیں گے اب تو سائنس نے ویسے بھی بہت ترقی کر لی ہے۔
اوہ پائی معافی مل سکدی اے !!!!کیوں محفلین سے مار پڑوانی ہے!!!!!اور ویسے بھی اتنا تجسس کیوں ہے!!!:eek:
ہاں لیکن شادی شہدا لوگوں کے دماغ کہاں اپنی جگہ پر ررہتے ہیں !!!:D:p:D
اس لئے مجھے پتہ ہے بھائی میرے کا کوئی قصو ر نہیں!!!:cool:
شاہد شاہنواز — جولائی 25، 2013 8:39 شام
بڑی دردناک شاعری کی ہے بھئی ۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 26، 2013 4:14 صبح
لیجیے صاحب ہماری صلاح ملاحظہ فرمائیے۔ شعروں میں مطلب ابھی ہرگز ہرگزنہ ڈھونڈئیے۔ اساتذہ کی نظر پڑجائے تو وہ خود ہی دورانِ اصلاح اسے بامعنی بھی کردیں گے۔ فی الحال سب سے بڑا مسئلہ اسے بحر میں لانا تھا، خدا جانے اس میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں۔
ہنسی ہے درد ، تبسم ہے آج بامِ درد
ہے گوشہ گوشہ دل زار کا بنامِ درد

’میں کِس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں‘
رفیق، رشتے، یہ جذبے سبھی بنامِ درد

ہیں پارہ پارہ مرے خواب، بے کلی سی ہے

بنی ہے زیست بھی گویا بس ایک جامِ درد

بڑھے ہیں جانبِ منزل تو یہ خیال ہوا
ہر ایک گام ہوا ہےمثالِ گامِ درد


ہزار غم ہیں محبت میں، پر نہیں امجدؔ
بنا ہےعشق بھی خود آج ایک دامِ درد

ٹیگز: محمد خلیل الرحمٰن
نیلم — جولائی 26، 2013 9:50 صبح
واہ امجد بھائی بہت خُوب
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 26، 2013 10:10 صبح
بہت خوب امجد میانداد بھائی اور بہت اعلیٰ جناب محمد خلیل الرحمٰن صاحب!
الف عین — جولائی 27، 2013 7:36 شام
خوب خلیل۔ بحر میں تو لے آئے، لیکن اس بحر میں یا تو ’بنامے‘ پڑھنا پڑے گا، بر وزن فعولن۔ یا پھر درد کو ’دَرَد‘ پڑھنا پڑے گا۔ پہلی صورت جائز تو ہے، لیکن اچھا تاثر نہیں چھوڑتی
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 27، 2013 7:40 شام
خوب خلیل۔ بحر میں تو لے آئے، لیکن اس بحر میں یا تو ’بنامے‘ پڑھنا پڑے گا، بر وزن فعولن۔ یا پھر درد کو ’دَرَد‘ پڑھنا پڑے گا۔ پہلی صورت جائز تو ہے، لیکن اچھا تاثر نہیں چھوڑتی
جزاک اللہ استادِ محترم

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D8%B1%D8%AF.66041/