درد سہہ کر بھی شکایت نہیں کرتے

ارشد چوہدری — اکتوبر 13، 2022 5:04 صبح
الف عین
شاہد شاہنواز
محمد عبدالرؤوف
سید عاطف علی
عظیم
-------
درد سہہ کر بھی شکایت نہیں کرتے
ہم وفاؤں کی تجارت نہیں کرتے
-------
بات کوئی تو کرو پیار کی ہم سے
ہم پہ کیوں تم یہ عنایت نہیں کرتے
---------
دل میں دنیا کے خیالات بسا کر
--------یا
جب کہ دنیا ہو بسی دل میں تمہارے
رب کی ایسے میں عبادت نہیں کرتے
-------------
جن کی خاطر میں بنا پیار کا روگی
پاس آ کر وہ عیادت نہیں کرتے
--------
دیس ہم نے تھا کیا جن کے حوالے
کیوں بھلا اس کی حفاظت نہیں کرتے
----------
لوگ مظلوم سدا بن کے ہیں رہتے
سر اٹھانے کی جسارت نہیں کرتے
--------
پیار قسمت سے ہی ملتا ہے جہاں میں
خوش نصیبوں سے رقابت نہیں کرتے
-----------
کچھ خطا کر کے بھی ہوتے نہیں نادم
دل میں اظہارِ ندامت نہیں کرتے
------
ہو کے مجبور چراتا ہے جو روٹی
اس کو ہرگز بھی ملامت نہیں کرتے
----------
جن کی باتوں میں نہ ہو خیر تو ارشد
ان کی ہرگز بھی حمایت نہیں کرتے
--------
الف عین — اکتوبر 13، 2022 7:43 صبح
پہلے چار اشعار تو درست ہیں، باقی کو پھر دیکھو، فاعل کسی میں واضح نہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D8%B1%D8%AF-%D8%B3%DB%81%DB%81-%DA%A9%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92.118932/