درد سے کہہ دو ٹھکانے سے رہے ! ۔۔ برائے اصلاح

کاشف اسرار احمد — اگست 24، 2015 11:18 صبح
السلام علیکم
ایک غزل اصلاح کے لئے پیش ہے۔
بحر رمل مسدس سالم مخبون محذوف
فاعلاتن فعلاتن فعلن
اساتذہء کِرام بطور خاص
جناب الف عین صاحب،
احباب محفل اور تمام دوستوں سے اصلاح ، توجہ اور رہنمائی کی درخواست ہے۔
*********** --------------------***********
غم کی پونجی تو گنوانے سے رہے !
درد سے کہہ دو ٹھکانے سے رہے !
صدقہِ دولتِ ہجراں ہی سہی
اشک اب ہم تو بہانے سے رہے !
ہم محبّت کو، عقیدہ نہ کریں!
الجھنیں، اور بڑھانے سے رہے !
سوزشِ جان فُزُوں ہے ، تو رہے !
ہم لگی دل کی بجھانے سے رہے !
روز آتے ہیں تو آئیں آلام
ہم تو مہمان بھگانے سے رہے !
دل کو بہلانے کی خاطر یارو
محفلیں روز سجانے سے رہے !
اب نہ دہرائینگے ہم کوئی دعا
پھر نیا درد جگانے سے رہے !
ہر سکوں مجھ سے خفا ہو کے گیا
روٹھے!، اب ہم تو منانے سے رہے !
اوپری دل سے یوں پوچھے گا اگر
حال اپنا تَو سنانے سے رہے !
کہنے کو کہہ تو دو کاشف لیکن
تیر لگنے پہ نشانے سے رہے !
*********** --------------------***********
جزاک اللہ
کاشف اسرار احمد — اگست 26، 2015 8:06 صبح
استاد محترم جناب الف عین صاحب
آپ کی دی جانے والی اصلاح کا منتظر ہوں۔
ممنون فرمائیں۔
آوازِ دوست — اگست 26، 2015 8:30 صبح
غم کی پونجی تو گنوانے سے رہے !
درد سے کہہ دو ٹھکانے سے رہے !
زوردار مطلع ہے کاشف صاحب۔ بہت خوب!
ابن رضا — اگست 26، 2015 8:51 صبح
زوردار مطلع ہے کاشف صاحب۔ بہت خوب!
ازراہِ علم استفسار ہے کہ کیا یہ دونوں مصرعے محاورتاً درست ہیں؟
درد سے کہہ دو ٹھکانے سے رہے
تیر لگنے پہ نشانے سے رہے !
کاشف اسرار احمد — اگست 26، 2015 9:00 صبح
زوردار مطلع ہے کاشف صاحب۔ بہت خوب!
شکریہ جناب۔
نوازش۔
کاشف اسرار احمد — اگست 26، 2015 9:02 صبح
ازراہِ علم استفسار ہے کہ کیا یہ دونوں مصرعے محاورتاً درست ہیں؟
درد سے کہہ دو ٹھکانے سے رہے
تیر لگنے پہ نشانے سے رہے !
درد والا مصرع میرے خیال میں بالکل درست ہے، لیکن تیر والا مصرع شاید اتنا رواں نہیں ہے۔
استاد محترم کا منتظر ہوں۔
ابن رضا — اگست 26، 2015 9:06 صبح
درد والا مصرع میرے خیال میں بالکل درست ہے، لیکن تیر والا مصرع شاید اتنا رواں نہیں ہے۔
استاد محترم کا منتظر ہوں۔
رواں یا سست کا مسئلہ نہیں بلکہ تعقید کا اور محاوراتی سقم کا معاملہ ہے جیسے کہ "ٹھکانے پہ رہا" جاتا ہے "ٹھکانے سے رہا" چہ معنی دارد؟ اسی طرح "نشانے پہ لگنے سے" بات درست ہے نہ کہ "لگنے پہ نشانے سے"۔ واللہ اعلم
کاشف اسرار احمد — اگست 27، 2015 6:20 شام
استاد محترم جناب الف عین سر۔
اصلاح کا منتظر ہوں۔
جزاک اللہ
الف عین — اگست 28، 2015 3:58 صبح
خوب ہے غزل۔
ٹھکانے سے رہنا تو قبول کیا جا سکتا ہے لیکن نشانے سے رہنا میں واقعی ابن رضا کی رائے مجھے درست محسوس ہوتی ہے۔
کاشف اسرار احمد — اگست 28، 2015 6:07 صبح
استاد محترم ' نشانے' والے شعر میں درستی کرتا ہوں. ان شا اللہ۔۔۔
کاشف اسرار احمد — ستمبر 3، 2015 2:15 شام
اصلاح اور کچھ اضافے کے ساتھ غزل پیش ہے۔
*********** --------------------***********
غم کی پونجی تو گنوانے سے رہے !
درد سے کہہ دو، ٹھکانے سے رہے !
صدقہِ دولتِ ہجراں ہی سہی
اشک اب ہم تو بہانے سے رہے !
اس محبّت کو، عقیدہ نہ کریں!
الجھنیں، اور بڑھانے سے رہے !
سوزشِ جان فُزُوں ہے ، تو رہے !
ہم لگی دل کی، بجھانے سے رہے !
روز آتے ہیں تو آئیں آلام !
ہم یہ مہمان، بھگانے سے رہے !
ہر سکوں، مجھ سے خفا ہو کے گیا
روٹھے!، اب ہم تو منانے سے رہے !
مردنی چہرے پہ پھیلی لیکن
قرض اک جاں کا چکانے سے رہے

اب نہ مانگیں گے، نئی کوئی دعا
پھر نیا درد، جگانے سے رہے !
اک نِدامت کا، گِراں بوجھ ہے جو
ہاں، وہ قِصّہ تو سنانے سے رہے !

اوپری دل سے یوں پوچھو گے اگر
حال اپنا تَو، سنانے سے رہے !
کہنے کو کہہ تو دیں کاشف، لیکن
ہر خلش دل کی، مٹانے سے رہے !
*********** --------------------***********
الف عین — ستمبر 5، 2015 2:56 صبح
درست ہے لیکن اب ،طلع زیادہ واضح نہیں رہا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D8%B1%D8%AF-%D8%B3%DB%92-%DA%A9%DB%81%DB%81-%D8%AF%D9%88-%D9%B9%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D8%B1%DB%81%DB%92-%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.84171/