دریا بنا دیا کبھی صحرا بنا دیا

یاسر علی — نومبر 15، 2020 5:39 صبح
الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:
دریا بنا دیا کبھی صحرا بنادیا
تم نے ہماری ذات کو کیا کیا بنا دیا
سارے جہاں کا حسنِ سراپا سمیٹ کر
رب نے فقط وجود تمھارا بنا دیا
پوچھا کسی نے میری اداسی کا جب سبب
کاغذ پہ میں نے آپ کا چہرہ بنا دیا
مفلس امیرِ شہر میں فاقے سے مر گئے
دولت نے شہر والوں کو اندھا بنا دیا
چہرے سے لگ نہیں رہا پر نوجوان ہوں
فکرِ معاش نے مجھے بوڑھا بنا دیا
خوشیاں تو زندگی میں سدا غیر ہی رہیں
لیکن خدا نے درد کو میرا بنا دیا
پہلے نہیں تھا ایسا، کہ جیسا تو آج ہے
کس نے ترے مزاج کو ایسا بنا دیا
الف عین — نومبر 15، 2020 6:01 صبح
باقی تو درست ہیں لیکن
چہرے سے لگ نہیں رہا پر نوجوان ہوں
فکرِ معاش نے مجھے بوڑھا بنا دیا
.. پہلا مصرع بدلو، روانی اچھی نہیں
خوشیاں تو زندگی میں سدا غیر ہی رہیں
لیکن خدا نے درد کو میرا بنا دیا
.. میرا کی جگہ 'اپنا' کہو، غیر کے مقابلے میں یہ بہتر رہے گا
یاسر علی — نومبر 15، 2020 2:23 شام
باقی تو درست ہیں لیکن
چہرے سے لگ نہیں رہا پر نوجوان ہوں
فکرِ معاش نے مجھے بوڑھا بنا دیا
.. پہلا مصرع بدلو، روانی اچھی نہیں
خوشیاں تو زندگی میں سدا غیر ہی رہیں
لیکن خدا نے درد کو میرا بنا دیا
.. میرا کی جگہ 'اپنا' کہو، غیر کے مقابلے میں یہ بہتر رہے گا
شکریہ سر!
دوبارہ دیکھیں۔
الف عین
لگتا نہیں ہوں چہرے سے، پر نوجوان ہوں
فکرِ معاش نے مجھے بوڑھا بنا دیا
محمد تابش صدیقی — نومبر 15، 2020 2:39 شام
مفلس امیرِ شہر میں فاقے سے مر گئے
یہ مصرع دوبارہ دیکھ لیں
یاسر علی — نومبر 15، 2020 2:44 شام
یہ مصرع دوبارہ دیکھ لیں
بھائی میں سمجھا نہیں ۔۔کیا نقص ہے بتا دیجئے۔۔
محمد تابش صدیقی — نومبر 15، 2020 2:50 شام
بھائی میں سمجھا نہیں ۔۔کیا نقص ہے بتا دیجئے۔۔
اس کا کیا مطلب ہے۔
مفلس امیرِ شہر میں فاقے سے مر گئے
شہر میں تو فاقے سے مر سکتے ہیں۔
امیرِ شہر میں کیسے؟
محمد تابش صدیقی — نومبر 15، 2020 2:51 شام
اس کا کیا مطلب ہے۔
مفلس امیرِ شہر میں فاقے سے مر گئے
شہر میں تو فاقے سے مر سکتے ہیں۔
امیرِ شہر میں کیسے؟
یا غالباً آپ امیر شہر لکھنا چاہ رہے ہیں۔
امیرِ شہر کا مطلب تو حاکمِ شہر ہے۔
یاسر علی — نومبر 15، 2020 2:58 شام
اس کا کیا مطلب ہے۔
مفلس امیرِ شہر میں فاقے سے مر گئے
شہر میں تو فاقے سے مر سکتے ہیں۔
امیرِ شہر میں کیسے؟

امیر شہر میں تمام امیر تھوڑی رہتے ہیں۔۔
وہاں کچھ نہ کچھ غریب بھی ہوتے ہیں۔۔
تعداد میں کم سہی لیکن ہوتے ہیں۔۔
اسی طرح غریب شہر میں تمام غریب تھوڑی ہوتے ہیں۔۔
تعداد میں کم سہی لیکن امیر ہوتے ہیں۔۔
محمد تابش صدیقی — نومبر 15، 2020 3:04 شام
امیر شہر میں تمام امیر تھوڑی رہتے ہیں۔۔
وہاں کچھ نہ کچھ غریب بھی ہوتے ہیں۔۔
تعداد میں کم سہی لیکن ہوتے ہیں۔۔
اسی طرح غریب شہر میں تمام غریب تھوڑی ہوتے ہیں۔۔
تعداد میں کم سہی لیکن امیر ہوتے ہیں۔۔
اضافت کی وجہ سے ابہام ہوا۔ یہاں اضافت نہیں آئے گی۔
امیر کے نیچے زیر نہیں لکھا جائے گا
یاسر علی — نومبر 15، 2020 3:23 شام
اضافت کی وجہ سے ابہام ہوا۔ یہاں اضافت نہیں آئے گی۔
امیر کے نیچے زیر نہیں لکھا جائے گا
بہت بہت شکریہ اس طرف توجہ دلوانے کا ۔۔
سلامت رہیں
الف عین — نومبر 16، 2020 3:29 صبح
نوجوان والا شعر درست ہو گیا ہے
الیرِ شہر پر میں نے بھی غور نہیں کیا تھا۔ امیر لفظ ہی بدل دو، کہ کنفیوژن نہ ہو کسی کو۔ جیسے
کتنے غریب...
یاسر علی — نومبر 16، 2020 4:56 صبح
نوجوان والا شعر درست ہو گیا ہے
الیرِ شہر پر میں نے بھی غور نہیں کیا تھا۔ امیر لفظ ہی بدل دو، کہ کنفیوژن نہ ہو کسی کو۔ جیسے
کتنے غریب...
بہت بہت شکریہ سر!
سلامت رہیے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7-%D8%A8%D9%86%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7-%D8%A8%D9%86%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%D8%A7.113928/