دل اُس سے بچھڑ کر بہل کیوں گیا ہے

نوید ناظم — جنوری 26، 2019 7:27 شام
دل اُس سے بچھڑ کر بہل کیوں گیا ہے
یہ کم ظرف اتنا بدل کیوں گیا ہے
وہ جس نے مِرے گھر کو چنگاری دی تھی
وہ اب پوچھتا ہے کہ جل کیوں گیا ہے
مِری شب کو امید جس سے لگی تھی
وہ سورج کہیں دُور ڈھل کیوں گیا ہے
محبت نہیں ہے اگر اُس کو مجھ سے
مرا نام سن کر مچل کیوں گیا ہے
تری یاد کا اژدہا مجھ کو آخر
نگلتا نگلتا نگل کیوں گیا ہے
یہ پیتا رہا خون قلب و جگر سے
نہ پوچھو کہ غم مجھ میں پل کیوں گیا ہے
نوید ناظم — جنوری 26، 2019 7:28 شام
محترم سر الف عین
ارشد چوہدری — جنوری 27، 2019 4:26 صبح
ماشاء اللہ کافی اچھی ہے مگر کافی دنوں بعد نظر آئے ہیں آپ ۔
الف عین — جنوری 27، 2019 5:04 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے
چنگاری دینا نہیں، چنگاری دکھانا محاورہ ہوتا ہے میرے خیال میں، اگر الفاظ بدل سکو تو بہتر ہے کہ ویسے بھی چنگاری کی ی کا اسقاط اتنا اچھا نہیں لگ رہا ہے
عبداللہ جان — جنوری 27، 2019 5:13 صبح
محبت نہیں ہے اگر اُس کو مجھ سے
مرا نام سن کر مچل کیوں گیا ہے
بہت خوبصورت شعر،
نوید ناظم — جنوری 27، 2019 6:03 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے
چنگاری دینا نہیں، چنگاری دکھانا محاورہ ہوتا ہے میرے خیال میں، اگر الفاظ بدل سکو تو بہتر ہے کہ ویسے بھی چنگاری کی ی کا اسقاط اتنا اچھا نہیں لگ رہا ہے
بہت شکریہ سر، مصرع بدل کر شعر یوں کر دیا۔
لگائی مِرے گھر کو خود آگ جس نے
وہ اب پوچھتا ہے کہ جل کیوں گیا ہے
نوید ناظم — جنوری 27، 2019 6:13 صبح
ماشاء اللہ کافی اچھی ہے مگر کافی دنوں بعد نظر آئے ہیں آپ ۔
نوازش۔۔۔ جی ہاں بالکل، طبیعت نے ساتھ نہیں دیا تھا کافی دن۔
نوید ناظم — جنوری 27، 2019 6:15 صبح
بہت مہربانی۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%84-%D8%A7%D9%8F%D8%B3-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%DA%86%DA%BE%DA%91-%DA%A9%D8%B1-%D8%A8%DB%81%D9%84-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92.105216/