دل دِیا جا چکا ہے یہ جاں جائے گی ۔

عظیم — ستمبر 27، 2017 8:21 صبح

دل دیا جا چکا ہے یہ جاں جائے گی
کیوں نہ اس در پہ میری فغاں جائے گی
دل سے نکلے گی جب آہ کانپے گا شہر
میری فریاد تا آسماں جائے گی
یونہی روکے گی دنیا جو اس راہ سے
ہم غریبوں کی ٹولی کہاں جائے گی
ظلمتِ شہر بچ کر ذرا بھاگ دیکھ
صبحِ روشن ہی ہو گی جہاں جائے گی
دیکھ لو اہلِ عالم تماشا مرا
"میری فریاد تا آسماں جائے گی"
*****
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 27، 2017 3:02 شام
شاعر کی خواہش کے بموجب اس غزل کو “اصلاحِ سُخن” کے زمرے میں منتقل کیا جارہا ہے۔
الف عین — ستمبر 29، 2017 12:01 شام
اور مزے کی بات یہ ہے کہ مجھے اس میں کوئی خامی نظر نہیں آئی!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%84-%D8%AF%D9%90%DB%8C%D8%A7-%D8%AC%D8%A7-%DA%86%DA%A9%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D8%AC%D8%A7%DA%BA-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%DA%AF%DB%8C-%DB%94.98426/