دل فقط عرضِ مدعا جانے

La Alma — مئی 31، 2016 2:27 شام

دل فقط عرضِ مدعا جانے
شعر کیا ہے مری بلا جانے
مجھ پہ عقدہ نہ کھل سکا اپنا
کس طرح کوئی دوسرا جانے
تنگئِ دامنِ جہاں کو ہم
وسعتِ شوق کی دوا جانے
محض وہ ساز تھے زمانوں کے
ہم جسے سوزِ ارتقا جانے
لذتِ فکر کیا بھلی شے ہے
جس نے چکھا وہ ہی مزا جانے
جاں گئی تھی فراق میں اس کے
سب اجل کا کیا دھرا جانے
حیف! یہ مٹی بھی پرائی ہے
کس کی ہوں قبر میں خدا جانے

محمد تابش صدیقی — مئی 31، 2016 2:29 شام
واہ. بہت خوب
تنگئِ دامنِ جہاں کو ہم
وسعتِ شوق کی دوا جانے

لذتِ فکر کیا بھلی شے ہے
جس نے چکھا وہ ہی مزا جانے
آوازِ دوست — مئی 31، 2016 2:29 شام
دل فقط عرضِ مدعا جانے
شعر کیا ہے مری بلا جانے
بہت خوب!!
صفی حیدر — مئی 31، 2016 2:45 شام
بہت عمدہ ۔۔۔۔۔۔
شکیب — مئی 31، 2016 4:46 شام
دل فقط عرضِ مدعا جانے
شعر کیا ہے مری بلا جانے
درست۔ اچھا مطلع ہے۔
مجھ پہ عقدہ نہ کھل سکا اپنا
کس طرح کوئی دوسرا جانے
یہاں مصرع اولی میں ”مجھی پہ اپنا عقدہ نہیں کھل سکا“ لانے کی کوشش کریں، شعر درست معنی پہن لے گا۔ یعنی زور لفظ ”مجھی یا مجھ ہی“ پر رہے۔
تنگئِ دامنِ جہاں کو ہم
وسعتِ شوق کی دوا جانے
لفظ ”ہم“ کے سبب اخیر میں ”جانیں“ کا محل ہے۔ دوم یہ کہ خیال بھی درست نہیں۔۔۔۔ وسعتِ شوق کوئی مرض تو ہے نہیں کہ اس کی دوا ہو۔
یہ ترکیب کے آپ کیا معنی لے رہے ہیں؟ نیز اس کا کہیں استعمال دیکھا ہے آپ نے؟
لذتِ فکر کیا بھلی شے ہے
جس نے چکھا وہ ہی مزا جانے
یہ سراسر بھرتی محسوس ہوتی ہے۔
جاں گئی تھی فراق میں اس کے
سب اجل کا کیا دھرا جانے
یہ عجزِ بیان کی بہترین مثال ہے۔
حیف! یہ مٹی بھی پرائی ہے
کس کی ہوں قبر میں خدا جانے
مصرع ثانی میں تعقید در آئی ہے۔ الفاظ کے ہیر پھیر کو سیدھا کیجیے۔ خیال اچھا ثابت ہو سکتا ہے اگر کما حقہ باندھا جائے۔ اس طرح کہ قاری چونک پڑے۔
فرقان احمد — مئی 31، 2016 4:55 شام
دل فقط عرضِ مدعا جانے
شعر کیا ہے مری بلا جانے

لذتِ فکر کیا بھلی شے ہے
جس نے چکھا وہ ہی مزا جانے

حیف! یہ مٹی بھی پرائی ہے
کس کی ہوں قبر میں خدا جانے
بہت خوب! سلامت رہیں!
عباد اللہ — مئی 31، 2016 5:07 شام
بہترین
مبارکباد قبول فرمائیں!
عباد اللہ — مئی 31، 2016 5:10 شام
لذتِ فکر کیا بھلی شے ہے
جس نے چکھا وہ ہی مزا جانے
دوسرا مصرع دیکھئے چکھا نہیں چکھی اس پر غور کیجئے مزید بہتر ہو سکتا ہے
شکیب — مئی 31، 2016 5:13 شام
معذرت کہ میں آپ کو مذکر سمجھ رہا تھا۔ معذرت چاہتا ہوں۔ غالبا یہ ”المی“ ہے۔ لیکن ”لا“ ہے تو المی تو ”نہیں“ ہے۔ :)
خیر معذرت بارِ ”تگر“
عباد اللہ — مئی 31، 2016 5:18 شام
ابھی ابھی معلوم ہوا کہ فکر مذکر بھی ہے اور مونث بھی لذت البتہ مونث ہی ہے میرے خیال میں تو مونث کا صیغہ استعمال ہونا چاہئے
La Alma — مئی 31، 2016 6:01 شام
بہت شکریہ .
La Alma — مئی 31، 2016 6:02 شام
پسندیدگی کے لئے مشکور ہوں .
La Alma — مئی 31، 2016 6:02 شام
شکریہ
La Alma — مئی 31، 2016 6:06 شام
درست۔ اچھا مطلع ہے۔
یہاں مصرع اولی میں ”مجھی پہ اپنا عقدہ نہیں کھل سکا“ لانے کی کوشش کریں، شعر درست معنی پہن لے گا۔ یعنی زور لفظ ”مجھی یا مجھ ہی“ پر رہے۔
لفظ ”ہم“ کے سبب اخیر میں ”جانیں“ کا محل ہے۔ دوم یہ کہ خیال بھی درست نہیں۔۔۔۔ وسعتِ شوق کوئی مرض تو ہے نہیں کہ اس کی دوا ہو۔
یہ ترکیب کے آپ کیا معنی لے رہے ہیں؟ نیز اس کا کہیں استعمال دیکھا ہے آپ نے؟
یہ سراسر بھرتی محسوس ہوتی ہے۔
یہ عجزِ بیان کی بہترین مثال ہے۔
مصرع ثانی میں تعقید در آئی ہے۔ الفاظ کے ہیر پھیر کو سیدھا کیجیے۔ خیال اچھا ثابت ہو سکتا ہے اگر کما حقہ باندھا جائے۔ اس طرح کہ قاری چونک پڑے۔
میں نے تو ان اشعار پر اعتراضات اٹھنے سے پہلے ہی حفظ ما تقدم کے طور پر کہہ دیا تھا
دل فقط عرضِ مدعا جانے
شعر کیا ہے مری بلا جانے ☺
لیکن آپ کی رائے محترم ہے دوبارہ غور کروں گی
.
"تنگئ دامنِ جہاں کو ہم
وسعتِ شوق کی دوا جانے"
وسعتِ شوق ایک عارضہ ہی ہے جنہیں لاحق ہے وہی جانتے ہیں .
مجھے لگتا ہے یہاں " ہم " کے ساتھ " جانے " بھی درست ہے . 'جانے'' بمعنی ''سمجھے " ہے
نثر دیکھئے .
ہم تنگیِ دامنِ جہاں کو وسعتِ شوق کی دوا سمجھے (جانے )
" جاں گئی تھی فراق میں اس کے
سب اجل کا کیا دھرا جانے"
یہاں عجزِ بیاں والی بات آپ کی درست معلوم ہو رہی ہے .شکریہ
La Alma — مئی 31، 2016 6:08 شام
دل فقط عرضِ مدعا جانے
شعر کیا ہے مری بلا جانے

لذتِ فکر کیا بھلی شے ہے
جس نے چکھا وہ ہی مزا جانے
حیف! یہ مٹی بھی پرائی ہے
کس کی ہوں قبر میں خدا جانے
بہت خوب! سلامت رہیں!
بہت بہت شکریہ
La Alma — مئی 31، 2016 6:15 شام
دوسرا مصرع دیکھئے چکھا نہیں چکھی اس پر غور کیجئے مزید بہتر ہو سکتا ہے
اس چکھا چکھی کے بارے میں تا حال کشمکش میں ہوں .
'لذتِ فکر 'اور 'شے 'کی مناسبت سے چکھی ہونا چاہیے جبکہ 'مزا '' مذکر ہے اس لحاظ سے چکھا درست ہے ..کچھ سمجھ نہیں آ رہا .
La Alma — مئی 31، 2016 6:18 شام
غالبا یہ ”المی“ ہے۔ لیکن ”لا“ ہے تو المی تو ”نہیں“ ہے۔ :)
آپ صحیح سمجھے ہم ہو کر بھی نہیں ہیں .
محمد ریحان قریشی — مئی 31، 2016 6:28 شام
آپ صحیح سمجھے ہم ہو کر بھی نہیں ہیں .
ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے
La Alma — مئی 31، 2016 6:31 شام
ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے
پھر یہی فنا دائمی بقا پر دلیل ہے .
اکمل زیدی — جون 1، 2016 5:54 صبح
غالبا یہ ”المی“ ہے۔ لیکن ”لا“ ہے تو المی تو ”نہیں“ ہے
شکیب بھائی آپ تو پھر بھی قریب قریب سمجھے ...شروع میں تو ہم "المیہ " سمجھے تھے ..مگر پھر وقت نے ثابت کیا خوب قلمیہ اور علمیہ ہے بھئی :D
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%84-%D9%81%D9%82%D8%B7-%D8%B9%D8%B1%D8%B6%D9%90-%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92.90203/