دل میں حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا

سعید احمد سجاد — دسمبر 4، 2020 7:23 شام
سر اصلاح کے لئے پیشِ خدمت ہوں
سر الف عین
سید عاطف علی
محمد احسن سمیع راحل اور دیگر احباب
وقتِ آخر نہ اگر تیرا نظارا ہوتا
کس طرح کرب کے ماروں کا گذارا ہوتا
اس طرح وصل کے لمحات میسر ہوتے
ہم کو گھِر کر بھی فقط تیرا سہارا ہوتا
ہجر کے درد سے بہتر تھا کہ پہلے سے کہیں
روح میں قرب کا احساس اتارا ہوتا
بستر مرگ پہ بھی خود کو ہے تنہا پایا
دل میں حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا
اس قدر کرب سے کیوں درد چھپائے تْو نے
کاش اک بار ہمیں دل سے پکارا ہوتا
بارہا کوئی جو تقدیر ہماری لکھتا
پھر بھی قسمت میں وہ ٹوٹا ہوا تارا ہوتا
گر ترا عشق ہی بن جاتا متاعِ ہستی
اپنے دامن میں نہ یکسر یہ خسارہ ہوتا
شکریہ
الف عین — دسمبر 5، 2020 10:45 صبح
وقتِ آخر نہ اگر تیرا نظارا ہوتا
کس طرح کرب کے ماروں کا گذارا ہوتا
.. جب وقت آخر ہی تھا تو گزارےکی کیا
ضرورت؟
اس طرح وصل کے لمحات میسر ہوتے
ہم کو گھِر کر بھی فقط تیرا سہارا ہوتا
،... واضح نہیں
ہجر کے درد سے بہتر تھا کہ پہلے سے کہیں
روح میں قرب کا احساس اتارا ہوتا
... 'پہلے سے کہیں' کی معنویت سمجھ میں نہیں آئی
بستر مرگ پہ بھی خود کو ہے تنہا پایا
دل میں حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا
... 'ہے تنہا' کو 'اکیلا' سے
بدل دو، روانی بہتر ہو جاتی ہے
اس قدر کرب سے کیوں درد چھپائے تْو نے
کاش اک بار ہمیں دل سے پکارا ہوتا
... درست
بارہا کوئی جو تقدیر ہماری لکھتا
پھر بھی قسمت میں وہ ٹوٹا ہوا تارا ہوتا
.. کاتب تقدیر ہی تو لکھتا ہو گا، کوئی اور تو نہیں
بارہا کا استعمال بھی درست نہیں، جبب ھی کہنا بہتر
ہے
گر ترا عشق ہی بن جاتا متاعِ ہستی
اپنے دامن میں نہ یکسر یہ خسارہ ہوتا
.. واضح یہ بھی نہیں۔ عشق ہی کیوں؟
سعید احمد سجاد — دسمبر 6، 2020 12:00 شام
وقتِ آخر نہ اگر تیرا نظارا ہوتا
کس طرح کرب کے ماروں کا گذارا ہوتا
.. جب وقت آخر ہی تھا تو گزارےکی کیا
ضرورت؟
اس طرح وصل کے لمحات میسر ہوتے
ہم کو گھِر کر بھی فقط تیرا سہارا ہوتا
،... واضح نہیں
ہجر کے درد سے بہتر تھا کہ پہلے سے کہیں
روح میں قرب کا احساس اتارا ہوتا
... 'پہلے سے کہیں' کی معنویت سمجھ میں نہیں آئی
بستر مرگ پہ بھی خود کو ہے تنہا پایا
دل میں حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا
... 'ہے تنہا' کو 'اکیلا' سے
بدل دو، روانی بہتر ہو جاتی ہے
اس قدر کرب سے کیوں درد چھپائے تْو نے
کاش اک بار ہمیں دل سے پکارا ہوتا
... درست
بارہا کوئی جو تقدیر ہماری لکھتا
پھر بھی قسمت میں وہ ٹوٹا ہوا تارا ہوتا
.. کاتب تقدیر ہی تو لکھتا ہو گا، کوئی اور تو نہیں
بارہا کا استعمال بھی درست نہیں، جبب ھی کہنا بہتر
ہے
گر ترا عشق ہی بن جاتا متاعِ ہستی
اپنے دامن میں نہ یکسر یہ خسارہ ہوتا
.. واضح یہ بھی نہیں۔ عشق ہی کیوں؟

وقتِ رخصت جو نہ جی بھر کے نظارا ہوتا
کس طرح کرب کے ماروں کا گذارا ہوتا
اس طرح وصل کے لمحات میسر ہوتے
درد ہوتا نہ کوئی تیرا سہارا ہوتا
حدتِ ہجر کی تکلیف سے بچنے کے لئے
روح میں قرب کا احساس اتارا ہوتا
بستر مرگ پہ بھی خود کو اکیلا پایا
دل میں حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا
اس قدر کرب سے کیوں درد چھپائے تْو نے
کاش اک بار ہمیں دل سے پکارا ہوتا
جب بھی کاتب کوئی، تقدیر ہماری لکھتا
پھر بھی قسمت میں وہ ٹوٹا ہوا تارا ہوتا
گر ترا درد فقط ہوتا متاعِ ہستی
اپنے دامن میں نہ یکسر یہ خسارہ ہوتا
سر دوبارہ کوشش کی ہے نظر ثانی فرما دیجئے
سعید احمد سجاد — دسمبر 6، 2020 12:01 شام
وقتِ رخصت جو نہ جی بھر کے نظارا ہوتا
کس طرح کرب کے ماروں کا گذارا ہوتا
اس طرح وصل کے لمحات میسر ہوتے
درد ہوتا نہ کوئی تیرا سہارا ہوتا
حدتِ ہجر کی تکلیف سے بچنے کے لئے
روح میں قرب کا احساس اتارا ہوتا
بستر مرگ پہ بھی خود کو اکیلا پایا
دل میں حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا
اس قدر کرب سے کیوں درد چھپائے تْو نے
کاش اک بار ہمیں دل سے پکارا ہوتا
جب بھی کاتب کوئی، تقدیر ہماری لکھتا
پھر بھی قسمت میں وہ ٹوٹا ہوا تارا ہوتا
گر ترا درد فقط ہوتا متاعِ ہستی
اپنے دامن میں نہ یکسر یہ خسارہ ہوتا
سر دوبارہ کوشش کی ہے نظر ثانی فرما دیجئے
الف عین — دسمبر 6، 2020 2:25 شام
ہاں اب درست لگ رہی ہے غزل
یہ شعر مگر
اس طرح وصل کے لمحات میسر ہوتے
درد ہوتا نہ کوئی تیرا سہارا ہوتا
محاورہ میسر آنا ہوتا ہے، ہونا نہیں، اگرچہ آج کل یہ بھی رائج ہو گیا ہے
دوسرے، 'کوئی تیرا' رواں نہیں، 'ترا کوئی' بہتر ہے، یا 'کوئی اور' ہو تو؟
سعید احمد سجاد — دسمبر 6، 2020 3:08 شام
ہاں اب درست لگ رہی ہے غزل
یہ شعر مگر
اس طرح وصل کے لمحات میسر ہوتے
درد ہوتا نہ کوئی تیرا سہارا ہوتا
محاورہ میسر آنا ہوتا ہے، ہونا نہیں، اگرچہ آج کل یہ بھی رائج ہو گیا ہے
دوسرے، 'کوئی تیرا' رواں نہیں، 'ترا کوئی' بہتر ہے، یا 'کوئی اور' ہو تو؟
شکریہ سر
سعید احمد سجاد — دسمبر 6، 2020 4:42 شام
ہاں اب درست لگ رہی ہے غزل
یہ شعر مگر
اس طرح وصل کے لمحات میسر ہوتے
درد ہوتا نہ کوئی تیرا سہارا ہوتا
محاورہ میسر آنا ہوتا ہے، ہونا نہیں، اگرچہ آج کل یہ بھی رائج ہو گیا ہے
دوسرے، 'کوئی تیرا' رواں نہیں، 'ترا کوئی' بہتر ہے، یا 'کوئی اور' ہو تو؟

اس طرح وصل کے لمحات میسر ہوتے
درد ہوتا نہ کوئی، تیرا سہارا ہوتا
یہ کاما لگانا بھول گیا تھا سر
یا
اس طرح وصل کے لمحات میسر آتے
درد ہوتا نہ اگر تیرا سہارا ہوتا
اس طرح ہو جائے سر تو ٹھیک ہو گا
الف عین — دسمبر 7، 2020 5:57 صبح
اس طرح وصل کے لمحات میسر ہوتے
درد ہوتا نہ کوئی، تیرا سہارا ہوتا
یہ کاما لگانا بھول گیا تھا سر
یا
اس طرح وصل کے لمحات میسر آتے
درد ہوتا نہ اگر تیرا سہارا ہوتا
اس طرح ہو جائے سر تو ٹھیک ہو گا
درست ہو جائے گا، اگر کے بعد کاما لگایا جائے
سعید احمد سجاد — دسمبر 7، 2020 8:10 صبح
درست ہو جائے گا، اگر کے بعد کاما لگایا جائے
شکریہ سر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA-%DB%81%DB%8C-%D8%B1%DB%81%DB%8C-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7.114165/