دلبر ہمارا ایک ہے ، دلساز الگ الگ

محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 5، 2013 4:15 شام
دلبر ہمارا ایک ہے ، دلساز الگ الگ
ہم نے بنائے اپنے ہیں ہمراز الگ الگ
غم اور خوشی کا طرز ہے ان کا جدا جدا
ہم نے اٹھایا ان کا ہر اک ناز الگ الگ
طور و سما پہ کوئی گیا ، کوئی عرش تک
پیغمبروں کو دی گئی پرواز الگ الگ
نطقِ حجر ہو ، شقِ قمر ہو ، قرآن ہو
سرکار لے کے آئے ہیں اعجاز الگ الگ
تلوار سے ، زباں سے ، قلم سے ، کسی سے ہو
دعوت کی محنتوں کے ہیں انداز الگ الگ
طوفان ، جنگ ، زلزلے ، سیلاب ، غربتیں
تنبیہِ حق کی ہے یہ ہر آواز الگ الگ
جاری رکھو اسامہ! تخیل کی یہ اڑان
ہر دن شکار کرتا ہے شہباز الگ الگ
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 5، 2013 4:20 شام
جناب محمد خلیل الرحمٰن صاحب اور دیگر اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے بشرط سہولت۔
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 5، 2013 4:26 شام
دلبر ہمارا ایک ہے ، دلساز الگ الگ
ہم نے بنائے اپنے ہیں ہمراز الگ الگ
دوسرے مصرعے میں تعقید لفظی معلوم ہو رہی ہے۔ کچھ اور سوچیے۔
غم اور خوشی کا طرز ہے ان کا جدا جدا
ہم نے اٹھایا ان کا ہر اک ناز الگ الگ

مضمون بہت جاندار ہے۔ اس حساب سے لفظ "طرز" ساتھ نہیں دے پا رہا جس کی وجہ سے مطلب کا حق ادا نہیں ہو رہا۔ بدل کے دیکھیے۔

طور و سما پہ کوئی گیا ، کوئی عرش تک
پیغمبروں کو دی گئی پرواز الگ الگ
سما اور عرش تو ایک ہی ہیں۔ اگر یوں کر لیں تو کیسا ہے؟ "پہنچا ہے کوئی طور، کوئی آسمان تک"
نطقِ حجر ہو ، شقِ قمر ہو ، قرآن ہو
سرکار لے کے آئے ہیں اعجاز الگ الگ

اچھا شعر ہے لیکن ردیف ساتھ چھوڑ رہی ہے۔ الگ الگ کی جگہ یہاں محض جدا جدا کا محل ہے۔

تلوار سے ، زباں سے ، قلم سے ، کسی سے ہو
دعوت کی محنتوں کے ہیں انداز الگ الگ
محنتوں کو تبدیل کیجیے۔حق ادا نہیں ہو رہا شعر کا۔
طوفان ، جنگ ، زلزلے ، سیلاب ، غربتیں
تنبیہِ حق کی ہے یہ ہر آواز الگ الگ
دوسرا مصرع چست نہیں۔ کچھ اور دیکھیے۔
جاری رکھو اسامہ! تخیل کی یہ اڑان
ہر دن شکار کرتا ہے شہباز الگ الگ
یہاں بھی ردیف کا حق ادا نہ ہو سکا شاید۔
بہت خوب غزل ہے۔ ماشاءاللہ۔ ہمارے مشورے نیلے رنگ سے اوپر درج ہیں۔ لیکن یہ محض ذاتی ارا ہیں۔
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 5، 2013 4:40 شام
جناب مہدی نقوی حجاز صاحب آپ کی آرا کو سامنے رکھ کر غزل اب یوں کردی ہے:
دلبر ہمارا ایک ہے ، دلساز الگ الگ
امراضِ دل کے آج ہیں ہمراز الگ الگ
غم اور خوشی میں ان کی ادا ہے جدا جدا
ہم نے اٹھایا ان کا ہر اک ناز الگ الگ
طور و سما پہ کوئی گیا ، کوئی عرش تک
پیغمبروں کو دی گئی پرواز الگ الگ
سما اور عرش تو ایک ہی ہیں۔ اگر یوں کر لیں تو کیسا ہے؟ "پہنچا ہے کوئی طور، کوئی آسمان تک"
طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف لے گئے تھے، آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھایا گیا ہے اور عرش تک نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے موقع پر تشریف لے گئے تھے۔
نطقِ حجر ہو ، شقِ قمر ہو ، قرآن ہو
سرکار لے کے آئے ہیں اعجاز الگ الگ
اچھا شعر ہے لیکن ردیف ساتھ چھوڑ رہی ہے۔ الگ الگ کی جگہ یہاں محض جدا جدا کا محل ہے۔
آپ کی یہ تفریق بندہ سمجھ نہیں سکا، وضاحت فرمادیں۔
تلوار سے ، زباں سے ، قلم سے ، کسی سے ہو
دعوت الی الہدیٰ کے ہیں انداز الگ الگ
طوفان ، جنگ ، زلزلے ، سیلاب ، غربتیں
تنبیہِ حق کی ہوتی ہے آواز الگ الگ
جاری رکھو اسامہ! تخیل کی یہ اڑان
ہر دن شکار کرتا ہے شہباز الگ الگ
یہاں بھی ردیف کا حق ادا نہ ہو سکا شاید۔
واقعی۔۔۔ اسے مزید سوچتا ہوں۔
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 5، 2013 4:46 شام
اب تمام اشعار بہت خوب ہو گئے ہیں ہماری نظر میں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 5، 2013 4:48 شام
اب تمام اشعار بہت خوب ہو گئے ہیں ہماری نظر میں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!
بہت شکریہ جناب اتنی توجہ فرمانے کا۔
محمد علم اللہ — ستمبر 5، 2013 4:56 شام
سبحان اللہ کیا پاکیزہ کلام
سینے میں تکلیف ہونے کے باوجود میں نے اسے آج خوب گنگنا کے پڑھا
دوستوں نے بھی کافی پسند کیا
ڈھیروں دعائیں :)
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 5، 2013 5:03 شام
سبحان اللہ کیا پاکیزہ کلام
سینے میں تکلیف ہونے کے باوجود میں نے اسے آج خوب گنگنا کے پڑھا
دوستوں نے بھی کافی پسند کیا
ڈھیروں دعائیں :)
جزاکم اللہ خیرا علم بھائی!
آپ نے تو مجھے پھلادیا اتنی تعریف کرکے۔
محمد علم اللہ — ستمبر 5، 2013 5:07 شام
نہیں واقعی ہمیشہ کی طرح ایک خوبصورت غزل ،بقیہ پوسٹ مارٹم تو اساتذہ کریں گے ہی گھبرا کیوں رہے :)
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 5، 2013 5:13 شام
نہیں واقعی ہمیشہ کی طرح ایک خوبصورت غزل ،بقیہ پوسٹ مارٹم تو اساتذہ کریں گے ہی گھبرا کیوں رہے :)
اللہ خوش رکھے۔:)
نایاب — ستمبر 5، 2013 5:19 شام
سبحان اللہ
بلند پروازی خیال کا حامل بہت جاندار کلام ہے بلا شبہ ۔
ذرا سی توجہ دیں تو رواں دواں ہوجائے کلام حق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 5، 2013 5:27 شام
سبحان اللہ
بلند پروازی خیال کا حامل بہت جاندار کلام ہے بلا شبہ ۔
ذرا سی توجہ دیں تو رواں دواں ہوجائے کلام حق ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
جزاکم اللہ خیرا۔
آپ کی ذرا سی توجہ میرے لیے بہت کچھ ہے جناب!
انتہا — ستمبر 6، 2013 8:25 صبح
محو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پر
ماشاءاللہ، بہت خوب علامہ صاحب
آصف اثر — ستمبر 6، 2013 8:52 صبح
محترم محمد اسامہ سَرسَری بھائی بہت خوب۔ اسی طرح لکھتے رہیے۔
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 6، 2013 4:24 شام
محو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پر
ماشاءاللہ، بہت خوب علامہ صاحب
انتہائی متشکر ہوں۔
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 6، 2013 4:24 شام
محترم محمد اسامہ سَرسَری بھائی بہت خوب۔ اسی طرح لکھتے رہیے۔
بہت شکریہ بھائی ، اسی طرح حوصلہ افزائی فرماتے رہیے۔
الف عین — ستمبر 8، 2013 2:55 صبح
ہاں، اب بہتر ہو گئی ہے غزل
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 8، 2013 5:23 صبح
ہاں، اب بہتر ہو گئی ہے غزل
جزاکم اللہ خیرا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1-%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DB%81%DB%92-%D8%8C-%D8%AF%D9%84%D8%B3%D8%A7%D8%B2-%D8%A7%D9%84%DA%AF-%D8%A7%D9%84%DA%AF.67489/