La Alma — اگست 30، 2016 6:51 شام
دلِ سوزاں!
خبر سیال کی کچھ لے
فراقِ یار سے گھبرا کے یہ قطرے
کبھی کی راہ اپنی بھول بیٹھے ہیں
کہ مدت سے سرِ مژ گاں تماشا ہے
لہو آنکھوں سے بہتا ہے
رگوں میں دوڑتے ہیں اشک صدیوں سے
ترے اس حلقہِ جاں میں
تغیر ہی تغیر ہے
خرابہ ہی خرابہ ہے
دلِ سوزاں!
اب اس ہنگامِ وحشت سے
نکل بھی آ
دلِ سوزاں!
سنبھل بھی جا ...
الف عین — اگست 31، 2016 6:23 صبح
درست ہے بلکہ اچھی ہے نظم
محمدابوعبداللہ — اگست 31، 2016 7:12 صبح
یہاں "اب" فَعْ کے وزن پر کیوں نہیں ہے۔؟
La Alma — اگست 31، 2016 7:21 صبح
یہاں "اب" فَعْ کے وزن پر کیوں نہیں ہے۔؟
ا بِس پڑھا جا رہا ہے اس لیے ..صحیح اصطلاح کا تو علم نہیں، غالباً اتصال کہتے ہیں .
محمدابوعبداللہ — اگست 31، 2016 7:23 صبح
ا بِس پڑھا جا رہا ہے اس لیے ..صحیح اصطلاح کا تو علم نہیں، غالباً اتصال کہتے ہیں .
اتصال کے متعلق کوئی لڑی ہے؟
La Alma — اگست 31، 2016 7:27 صبح
اتصال کے متعلق کوئی لڑی ہے؟
پتا نہیں .میری عروض سے واقفیت بہت واجبی سی ہے .
La Alma — اگست 31، 2016 7:30 صبح
عباد اللہ — اگست 31، 2016 3:28 شام
بہت خوب
نایاب — اگست 31، 2016 3:40 شام
خوبصورت نظم
بہت سی دعاؤں بھری داد
ڈھیروں دعائیں
La Alma — اگست 31، 2016 5:35 شام
خوبصورت نظم
بہت سی دعاؤں بھری داد
ڈھیروں دعائیں
.
بہت شکریہ .
صفی حیدر — اگست 31، 2016 6:29 شام
واہ ۔۔۔۔ عمدہ نظم ہے ۔۔۔۔۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 1، 2016 4:14 صبح
بہت خوب !! اچھی نظم ہے !
La Alma — ستمبر 1، 2016 9:55 صبح
واہ ۔۔۔۔ عمدہ نظم ہے ۔۔۔۔۔
پسندیدگی کے لیے شکر گزار ہوں .
کاشف اسرار احمد — ستمبر 6، 2016 6:04 شام
عمدہ نظم ہے. ماشاء اللہ۔