محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 12، 2014 12:38 شام
دن کو بھی اگر رات بتاتا ہوں غزل میں
میں دل کی ہر اک بات سناتا ہوں غزل میں
سب اپنے سوالات سرِ عام سنائیں
میں اپنے جوابات چھپاتا ہوں غزل میں
روجاتے ہیں سب اشک شوئی کرنے کے ماہر
جب درد کے جذبات بہاتا ہوں غزل میں
تخئیل ، محاکات ، عروض اور قوافی
چاروں کے کمالات دکھاتا ہوں غزل میں
مطلع سے مزین ہے جو مقطع تک اسامہ!
رو رو کے خیالات سجاتا ہوں غزل میں
سید عاطف علی — ستمبر 12، 2014 12:59 شام
بہت خوب ۔ استاد سرسری صاحب ۔۔۔ خوب کمالات دکھائے ہیں ماشاءاللہ۔
ایک جگہ کچھاشارہ کر نے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔۔ رو جانا ۔ اہل زبان کا لہجہ نہیں لگتا ۔ رو پڑنا بہتر ہو گا ذرا غو ر کیجیے ۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 12، 2014 1:11 شام
بہت خوب ۔ استاد سرسری صاحب ۔۔۔ خوب کمالات دکھائے ہیں ماشاءاللہ۔
ایک جگہ کچھاشارہ کر نے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔۔ رو جانا ۔ اہل زبان کا لہجہ نہیں لگتا ۔ رو پڑنا بہتر ہو گا ذرا غو ر کیجیے ۔۔
ہمم ، روجانا ہی زیادہ ٹھیک ہوگا۔ وہی کردیتا ہوں۔
تصحیح اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔ جزاک اللہ خیرا۔

عظیم — ستمبر 12، 2014 1:36 شام
اک میں ہوں کہ سر اپنا کهپاتا ہوں غزل میں -

محمداحمد — ستمبر 12، 2014 1:37 شام
بہت ہی اعلیٰ سرسری بھائی ۔۔۔!
لاجواب غزل ہے۔
سب اپنے سوالات سرِ عام سنائیں
میں اپنے جوابات چھپاتا ہوں غزل میں
واہ ۔ زبردست۔
الف عین — ستمبر 13، 2014 4:41 صبح
اشک شوئی کے ماہرین تو خوشی کے جذبات پر بھی ’رو جا‘ سکتے ہیں )یا ’رو پڑ‘ سکتے ہیں۔ مجھے یہ مصرع ہی پسند نہیں آیا۔
باقی سب خوب اشعار ہیں۔
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 13، 2014 5:17 صبح
آپ سب حضرات کی محبتوں کا شکرگزار ہوں۔