دنیا ترے مزاج میں ڈھلنا تو ہے نہیں۔۔۔ اصلاح کے لئے

کاشف اسرار احمد — دسمبر 25، 2018 6:51 صبح
ایک نئی کاوش اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں ۔ استاد محترم جناب@الف عین سر اور احباب سے توجہ کی گزارش ہے ۔۔۔
بحر مضارع : مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
دنیا ترے مزاج میں ڈھلنا تو ہے نہیں
اور ضد سے اپنی تجھ کو بھی ہٹنا تو ہے نہیں
ہم جس کے ہم مزاج نہیں، چھوڑ دے ہمیں
اب سب سے اتنی بات پہ لڑنا تو ہے نہیں
تقدیر ہنس کے کہتی ہے کوشش کو چھوڑ دو
سکّہ تمھارے نام کا چلنا تو ہے نہیں
ہم مستقل مزاجی کے عادی مریض ہیں
اپنی روش سے ہم کو بھی ہٹنا تو ہے نہیں
کیا اسم با مسمّٰی ہو دیکھیں گے ہم ضرور
دھوکا دوبارا نام سے کھانا تو ہے نہیں
جس کا پتہ نہیں ہو وہیں ڈالتے ہیں ہاتھ
فطرت میں اپنی یوں بھی جھجھکنا تو ہے نہیں
چہرہ بگاڑ دے گا یہ تیزاب آنکھ کا
دل کی طرف کو موڑ دو رکنا تو ہے نہیں
نظروں کی اس تلاش کا کچھ فائدہ نہیں
کاشف تمھارا پیار یہ بٹنا تو ہے نہیں
سیّد کاشف

استاد محترم کیا اسم با مسمّٰی کی ترکیب کا استعمال اور شعر دونوں درست ہیں؟
یاسر شاہ — دسمبر 25، 2018 10:40 صبح
استاد کے آنے تک احباب کی خدمت میں احباب کی عرض ہے کہ غزل کاقافیہ نادرست ہے بلکہ ایطائے جلی کے سبب قافیہ ندارد ہے -آسان منطق یہی ہے :
ڈھلناتو ہے نہیں = ڈھل-ناتو ہے نہیں
ہٹنا تو ہے نہیں=ہٹ-نا تو ہے نہیں
لڑنا تو ہے نہیں=لڑ-نا تو ہے نہیں
چلنا تو ہے نہیں =چل-نا تو ہے نہیں
ہٹنا تو ہے نہیں=ہٹ-نا تو ہے نہیں
____________________________________
--------------=(ڈھل-ہٹ -لڑ -چل -ہٹ )نا تو ہے نہیں
یعنی "نا " ہوبہو تکرار کی وجہ سے ردیف کا حصّہ ہوگیا (ردیف کی تعریف کے مطابق )پیچھے رہنے والے الفاظ (ڈھل-ہٹ -لڑ -چل -ہٹ )قافیے نہیں -
سفیر آفریدی — دسمبر 27، 2018 12:43 صبح
دو تین مصرعے یہی لکهہ کر ردیف اور قافیے پر سہی درست کی نشان لگا کر یہی سہی ہے اصلاح فرماتے اشاروں میں کچهہ حد تک سمجهہ آئی سہی ردیف اور قافیے پر ایسے کیسے لکهے جاتے
سفیر آفریدی — دسمبر 27، 2018 12:49 صبح
بہتر سمجهہ دی ہے بس تهوڑا الجهن ہے حل ہوجائے گا
الف عین — دسمبر 27، 2018 5:26 صبح
قوافی کی بات یاسر شاہ نے کہہ ہی دی ہے
اسم با مسمی کا استعمال درست ہے اور شعر بھی درست ہے اگر مجرد ہو تو مگر اس غزل میں نہیں
کاشف اسرار احمد — دسمبر 27، 2018 12:54 شام
ببہتر سر
جزاک الله
کاشف اسرار احمد — جنوری 9، 2019 4:14 صبح
محترم
الف عین سر۔۔غزل مطلع میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ پیش ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
باغی رویہ گو مجھے زیبا تو ہے نہیں
دنیا ترے مزاج میں ڈھلنا تو ہے نہیں
کاشف ہمارا، ظرف کا اوچھا تو ہے نہیں
پر چھوٹ تم کو دے یہ ارادہ تو ہے نہیں
ہم جس کے ہم مزاج نہیں، چھوڑ دے ہمیں
اب سب سے اتنی بات پہ لڑنا تو ہے نہیں
تقدیر ہنس کے کہتی ہے کوشش کو چھوڑ دو
سکّہ تمھارے نام کا چلنا تو ہے نہیں
ہم مستقل مزاجی کے عادی مریض ہیں
اپنی روش سے ہم کو بھی ہٹنا تو ہے نہیں
کیا اسم با مسمّٰی ہو دیکھیں گے ہم ضرور
دھوکا دوبارا نام سے کھانا تو ہے نہیں
جس کا پتہ نہیں ہو وہیں ڈالتے ہیں ہاتھ
فطرت میں اپنی یوں بھی جھجھکنا تو ہے نہیں
چہرہ بگاڑ دے گا یہ تیزاب آنکھ کا
دل کی طرف کو موڑ دو رکنا تو ہے نہیں
نظروں کی اس تلاش کا کچھ فائدہ نہیں
کاشف تمھارا پیار یہ بٹنا تو ہے نہیں

الف عین — جنوری 9، 2019 7:58 صبح
دوسرے شعر کو بعد میں 'نا' والے قوافی کے درمیان لگا دو۔ اور کم از کم ایک شعر کا قافیہ مزید بدل دو تو ظاہری صورت بہتر ہو جائے گی.۔
مفہوم کے اعتبار سے آخری تینوں اشعار واضح نہیں یا دو لخت ہیں
کاشف اسرار احمد — جنوری 10، 2019 6:21 صبح
بہت بہتر سر ۔۔۔۔
ان شا اللہ درست کرتا ہوں ۔۔
جزاک اللہ ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%D8%B1%DB%92-%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%88%DA%BE%D9%84%D9%86%D8%A7-%D8%AA%D9%88-%DB%81%DB%92-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92.104813/