دنیا میں آئے الجھ کے رہ گئے

محمد حسین — جنوری 1، 2014 6:31 شام
دنیا میں آئے الجھ کے رہ گئے
انقلابی خواب ادھورے رہ گئے
غیر جینا ہم سے سیکھے،جی گئے
اور ہم آپس میں لڑتے رہ گئے
برق بن کر اس کے دل پر گر نہ پائے
اشک آنکھوں میں ہی بہتے رہ گئے
گندگی دل کی نہیں دیکھی حسین
ھم تو زلفوں میں الجھتے رہ گئے
شوکت پرویز — جنوری 2، 2014 6:54 صبح
اچھی غزل ہے محمد حسین بھائی !
صرف پہلے مصرع میں 'دنیا' کا الف گرنا ذرا ثقیل لگ رہا ہے۔۔۔
اسے اس طرح کر کے دیکھیں:
دہر میں آئے الجھ کے رہ گئے
یا اگر دنیا ہی استعمال کرنا ہے تو:
آئے دنیا میں الجھ کے رہ گئے
:)
محمد حسین — جنوری 3، 2014 3:43 شام
اچھا کہا۔ شکریہ
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 3، 2014 5:05 شام
غیر جینا ہم سے سیکھے،جی گئے
اور ہم آپس میں لڑتے رہ گئے
بہت اعلی جناب۔۔۔۔۔ بہت سی داد قبول فرمائیں۔
ناچیز کا شعر:
غیر نے سیکھی ہمیں سے الفتوں کی زندگی
بھاگئی کیوں ہم کو جانے نفرتوں کی زندگی
محمد حسین — جنوری 3، 2014 5:49 شام
خوب جناب! بہت خوب۔۔۔
الف عین — جنوری 4، 2014 5:01 صبح
مطلع کے علاوہ سارے قوافی ’تے‘ والے ہیں۔ کچھ اور اشعار کا اضاافہ کر دیں یا ایک آدھ قافیہ بدل دیں تو بہتر ہے۔
احمد بلال — جنوری 4، 2014 5:21 شام
خیالات میں پختگی آ رہی ہے۔ اچھی غزل کہی ہے۔ پسند آئی ہے
محمد حسین — جنوری 4، 2014 6:39 شام
شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE-%DA%A9%DB%92-%D8%B1%DB%81-%DA%AF%D8%A6%DB%92.70782/