دو اشعار

عاصم راحیل عاصم — مارچ 1، 2018 4:17 شام
ترے عشق میں ہم نے جیسے گزارے
خدا دشمنوں کو نہ وہ دن دکھائے
نشانہ تو باندھا مرا دشمنوں نے
مگر تیر یاروں کی جانب سے آئے
الف عین — مارچ 2، 2018 11:31 صبح
درست ہیں اشعار وزن میں۔ لیکن ردیف قافیہ سمجھ میں نہیں آتے۔
یوں کر دیں تو بہتر ہے:
ترے عشق میں ہم نے جیسے بِتائے
خدا دشمنوں کو نہ وہ دن دکھائے
نشانہ تو باندھا مرا دشمنوں نے
مگر تیر یاروں کی جانب سے آئے
۔۔۔ اب قوافی آئے، جائے، ستائے وغیرہ ہوں گے۔ پہلے چاروں مصرعے ہم قافیہ ہو گئے تھے، رے، ئے، نے اور ئے
عاصم راحیل عاصم — مارچ 3، 2018 5:00 شام
محترم الف عین صاحب! اصلاح کا بے حد شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%88-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1.100350/