دو اشعار برائے تبصرہ و تنقید

مہدی نقوی حجاز — ستمبر 4، 2013 2:25 شام
ابھی دو اشعار کا خون ہوا ہے سو نظر ثانی کیے بغیر ہی تنقید و اصلاح کے لیے حاضر ہیں:
کھا رہا ہے اپنی خوئے نازبرداری کو زنگ
کچھ ادا، کچھ رقص، کچھ نخرا ہی دکھلا جائیے
میرؔ کی مانند منہ پر باندھیے ڈھاٹا حجازؔ
شعر اتنے خوب مت کہیے کہ نظراجائیے
ماہی احمد — ستمبر 4، 2013 2:28 شام
ابھی دو اشعار کا خون ہوا ہے سو نظر ثانی کیے بغیر ہی تنقید و اصلاح کے لیے حاضر ہیں:
کھا رہا ہے اپنی خوئے نازبرداری کو زنگ
کچھ ادا، کچھ رقص، کچھ نخرا ہی دکھلا جائیے
میرؔ کی مانند منہ پر ڈالیے ڈھاٹہ حجازؔ
شعر اتنے خوب مت کہیے کہ نظراجائیے
ارے واہ! بہت ہی خوب!!!:) :) :)
بس ذرا یہ بتائیں کہ یہ ڈھاٹہ، ڈھاٹا ہے یا کچھ اور؟
رحیم ساگر بلوچ — ستمبر 4، 2013 2:29 شام
ابھی دو اشعار کا خون ہوا ہے سو نظر ثانی کیے بغیر ہی تنقید و اصلاح کے لیے حاضر ہیں:
کھا رہا ہے اپنی خوئے نازبرداری کو زنگ
کچھ ادا، کچھ رقص، کچھ نخرا ہی دکھلا جائیے
میرؔ کی مانند منہ پر ڈالیے ڈھاٹہ حجازؔ
شعر اتنے خوب مت کہیے کہ نظراجائیے

آپ کے اشعار تو خود قاتل ھیں.بہت عمده
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 4، 2013 2:31 شام
ارے واہ! بہت ہی خوب!!!:) :) :)
بس ذرا یہ بتائیں کہ یہ ڈھاٹہ، ڈھاٹا ہے یا کچھ اور؟
جی یہ وہی ڈھاٹا ہے۔ شکریہ نشاندہی کا۔ اسی طرح ہم روز روز لغت کھولتے رہے تو انشاءاللہ ہماری اردو کے چار نہیں تو دو چاند تو لگ ہی جائیں گے!
طاھر جاوید — ستمبر 4، 2013 2:31 شام
:):):)
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 4، 2013 2:34 شام
آپ کے اشعار تو خود قاتل ھیں.بہت عمده
پسند فرمانے کا شکریہ محترم۔
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 4، 2013 2:35 شام
اس سے کیا سمجھا جائے؟ کہ مصرع دولخت ہے؟ :rolleyes:
طاھر جاوید — ستمبر 4، 2013 2:39 شام
دوسرے شعر کا پہلہ مصرع میری اس کیفیت کی ترجمانی ہے۔۔۔۔ کافی دلچسپ ہے
محمد علم اللہ — ستمبر 4، 2013 3:28 شام
جی یہ وہی ڈھاٹا ہے۔ شکریہ نشاندہی کا۔ اسی طرح ہم روز روز لغت کھولتے رہے تو انشاءاللہ ہماری اردو کے چار نہیں تو دو چاند تو لگ ہی جائیں گے!
اس ڈھاتا کی جگہ کچھ اور ہونا تھا بھائی جان کچھ عجیب اٹ پٹا سا لگا یہ۔ایسے دونوں اشعار بہت خوب ہیں ۔
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 4، 2013 3:38 شام
واہ کیا خوب ارشاد فرمایا۔۔۔ بہت اعلی۔۔۔
بہت سی داد قبول فرمائیے۔۔۔۔۔۔
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 4، 2013 4:07 شام
واہ کیا خوب ارشاد فرمایا۔۔۔ بہت اعلی۔۔۔
بہت سی داد قبول فرمائیے۔۔۔ ۔۔۔
بہت شکریہ داد کا۔ جناب اصلاح کی غرض سے یہاں ارسال کیے ہیں۔ کچھ تو آپ بھی زحمت کیجیے۔ سب ہم ہی کریں گے کیا؟ :mad:
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 4، 2013 4:07 شام
اس ڈھاتا کی جگہ کچھ اور ہونا تھا بھائی جان کچھ عجیب اٹ پٹا سا لگا یہ۔ایسے دونوں اشعار بہت خوب ہیں ۔
مثلاً کیا ہو تو بہتر ہوگا؟
محمد علم اللہ — ستمبر 4، 2013 4:10 شام
ہاں یہ تو اصولا مجھے بتانا چاہئے تھا :)۔
لیکن نہیں پتہ بس مجھے وہ اچھا نہیں لگا
سو میں نے کہہ دیا ۔
سوری
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 4، 2013 4:14 شام
ہاں یہ تو اصولا مجھے بتانا چاہئے تھا :)۔
لیکن نہیں پتہ بس مجھے وہ اچھا نہیں لگا
سو میں نے کہہ دیا ۔
سوری
بھائی میرے یہ کیا مذاق ہے؟ سوری کس بات کی؟
ابن سعید — ستمبر 4، 2013 4:46 شام
ابھی دو اشعار کا خون ہوا ہے سو نظر ثانی کیے بغیر ہی تنقید و اصلاح کے لیے حاضر ہیں:
کھا رہا ہے اپنی خوئے نازبرداری کو زنگ
کچھ ادا، کچھ رقص، کچھ نخرا ہی دکھلا جائیے
میرؔ کی مانند منہ پر ڈالیے ڈھاٹا حجازؔ
شعر اتنے خوب مت کہیے کہ نظراجائیے
یہ اشعار کا خون ہے یا قتل عام؟ :) :) :)
مہدی بھائی جب بھی کہتے ہیں، کیا ہی خوب کہتے ہیں۔۔۔ اور ایسا بھی نہیں کہ کبھی کبھار ہی کہتے ہوں۔۔۔ یعنی مقدار بھی خوب اور معیار بھی خوب! :) :) :)
چند چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، محض سیکھنے کی غرض سے، اس لیے کسی فرد مخصوص پر جواب لازم نہیں، جو کوئی بھی اس بابت رائے رکھتا ہو بصد شوق مستفید فرمائے۔ :) :) :)
1: "ڈھاٹا باندھنا" ہی سنا ہے اکثر، کیا "ڈھاٹا ڈالنا" بھی مستعمل ہے؟ :) :) :)
2: "نظرا جانا" غلاباً نظر لگ جانا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا یوں استعمال کس حد تک عام ہے؟ ہمارے یہاں گاؤں کی زبان میں (جو کہ اردو کی انتہائی بگڑی ہوئی شکل ہے) "نظریا جانا" مستعمل ہے، مثلاً، "نظر لگانا" کے لیے، "نظریانا"، "نظر لگنا" کے لیے بھی "نظریانا"۔۔۔ لیکن وہ گاؤں کی زبان ہے، فصیح اردو نہیں ہے۔ اس بابت کچھ حوالے، کوئی رائے؟ :) :) :)
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 4، 2013 5:52 شام
یہ اشعار کا خون ہے یا قتل عام؟ :) :) :)
مہدی بھائی جب بھی کہتے ہیں، کیا ہی خوب کہتے ہیں۔۔۔ اور ایسا بھی نہیں کہ کبھی کبھار ہی کہتے ہوں۔۔۔ یعنی مقدار بھی خوب اور معیار بھی خوب! :) :) :)
چند چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، محض سیکھنے کی غرض سے، اس لیے کسی فرد مخصوص پر جواب لازم نہیں، جو کوئی بھی اس بابت رائے رکھتا ہو بصد شوق مستفید فرمائے۔ :) :) :)
1: "ڈھاٹا باندھنا" ہی سنا ہے اکثر، کیا "ڈھاٹا ڈالنا" بھی مستعمل ہے؟ :) :) :)
2: "نظرا جانا" غلاباً نظر لگ جانا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا یوں استعمال کس حد تک عام ہے؟ ہمارے یہاں گاؤں کی زبان میں (جو کہ اردو کی انتہائی بگڑی ہوئی شکل ہے) "نظریا جانا" مستعمل ہے، مثلاً، "نظر لگانا" کے لیے، "نظریانا"، "نظر لگنا" کے لیے بھی "نظریانا"۔۔۔ لیکن وہ گاؤں کی زبان ہے، فصیح اردو نہیں ہے۔ اس بابت کچھ حوالے، کوئی رائے؟ :) :) :)
ابھی ہم نے دوسرے ہی شعر میں ڈھاٹا باندھ لیا تھا کہ نظر نہ لگ جائے ہماری شاعری کو لیکن پھر آپ نے اتنی تعریف فرما دی۔ کچھ تو خوف خدا کریں۔
ڈھاٹا باندھنا ہی یقیناً محاورہ ہے۔ لیکن ڈھاٹا خود اس کپڑے کو کہا جاتا ہے جو منہ سے مناسبت رکھتا ہو کسی بھی شکل میں یعنی منہ کو پوشش دیتا ہو۔ اس طرز سے میں نے یوں استعمال کر لیا کہ ایک تو ڈھاٹا لفظ سے مصرع ویسے ہی ثقیل ثقیل سا معلوم ہونے لگتا ہے پھر باندھنا بھی آ گیا تو اور کھنچا کھنچا ہو جائے گا۔ ویسے بھی ڈالنا اور باندھنا کو ایک دوسرے سے بدلا جا سکتا ہے سو ہم آپ کی رائے کو یقیناً مقدم گردانتے ہوے باندھنا کئے دیتے ہیں!
میں نے ہمیشہ نظراجانا ہی سنا ہے محترم۔ عجیب نکتہ ہے۔ لغات میں بھی واضح نہیں۔ خیر تحقیق کرتے ہیں اس بارے میں۔
اور ہاں تعریف کا شکریہ بھی ادا کرنا تھا کیا؟:D
ابن سعید — ستمبر 4، 2013 6:01 شام
ابھی ہم نے دوسرے ہی شعر میں ڈھاٹا باندھ لیا تھا کہ نظر نہ لگ جائے ہماری شاعری کو لیکن پھر آپ نے اتنی تعریف فرما دی۔ کچھ تو خوف خدا کریں۔
بھئی داد و ستائش پر کوئی جزیہ تو دینا نہین پڑتا، پھر کنجوسی کیوں کی جائے۔۔۔ وہ بھی تب جب داد مستحقین کو ملے۔ :) :) :)
ڈھاٹا باندھنا ہی یقیناً محاورہ ہے۔ لیکن ڈھاٹا خود اس کپڑے کو کہا جاتا ہے جو منہ سے مناسبت رکھتا ہو کسی بھی شکل میں یعنی منہ کو پوشش دیتا ہو۔ اس طرز سے میں نے یوں استعمال کر لیا کہ ایک تو ڈھاٹا لفظ سے مصرع ویسے ہی ثقیل ثقیل سا معلوم ہونے لگتا ہے پھر باندھنا بھی آ گیا تو اور کھنچا کھنچا ہو جائے گا۔ ویسے بھی ڈالنا اور باندھنا کو ایک دوسرے سے بدلا جا سکتا ہے سو ہم آپ کی رائے کو یقیناً مقدم گردانتے ہوے باندھنا کئے دیتے ہیں!
دیکھیں، آپ کی اس گفتگو سے کیا کچھ سیکھنے کو ملا۔ :) :) :)
"آپ کی رائے" کا الزام بھی خوب رہا۔ ہم نے تو صاف الفاظ میں ایک سوال کیا تھا، بغرض معلومات۔۔۔ کیوں کہ یہ لفظ ہمارے علاقے میں اتنا مستعمل نہیں۔ آپ نے نہ صرف اس میں سے ہماری رائے اخذ کر لی بلکہ اس کو مقدم بھی کر دیا۔۔۔ اللہ کی پناہ! :) :) :)
میں نے ہمیشہ نظراجانا ہی سنا ہے محترم۔ عجیب نکتہ ہے۔ لغات میں بھی واضح نہیں۔ خیر تحقیق کرتے ہیں اس بارے میں۔
یہ تحقیق ہی اصل حاصل ہے۔۔۔ ورنہ شاعری کا کیا ہے، وہ تو ہوتی ہی رہتی ہے۔ :) :) :)
اور ہاں تعریف کا شکریہ بھی ادا کرنا تھا کیا؟:D
اجی چھوڑیں پیارے، اس کی کیا ضرورت تھی۔ تعریف تو ادھار کی چیز ہوتی ہے، کسی موقع پر حساب برابر کر دیتے۔۔۔ :) :) :)
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 4، 2013 6:06 شام
بھئی داد و ستائش پر کوئی جزیہ تو دینا نہین پڑتا، پھر کنجوسی کیوں کی جائے۔۔۔ وہ بھی تب جب داد مستحقین کو ملے۔ :) :) :)
دیکھیں، آپ کی اس گفتگو سے کیا کچھ سیکھنے کو ملا۔ :) :) :)
"آپ کی رائے" کا الزام بھی خوب رہا۔ ہم نے تو صاف الفاظ میں ایک سوال کیا تھا، بغرض معلومات۔۔۔ کیوں کہ یہ لفظ ہمارے علاقے میں اتنا مستعمل نہیں۔ آپ نے نہ صرف اس میں سے ہماری رائے اخذ کر لی بلکہ اس کو مقدم بھی کر دیا۔۔۔ اللہ کی پناہ! :) :) :)
یہ تحقیق ہی اصل حاصل ہے۔۔۔ ورنہ شاعری کا کیا ہے، وہ تو ہوتی ہی رہتی ہے۔ :) :) :)
اجی چھوڑیں پیارے، اس کی کیا ضرورت تھی۔ تعریف تو ادھار کی چیز ہوتی ہے، کسی موقع پر حساب برابر کر دیتے۔۔۔ :) :) :)
بس آپ کی محبت ہے ورنہ مستحقین کی مستحق جانیں!
اور شکریہ ادا کرنے کے بارے میں ہمارا وہی نظریہ ہے جو آپ کا داد و ستائش کرنے کے بارے میں ہے
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 6، 2013 2:54 شام
ابھی دو اشعار کا خون ہوا ہے سو نظر ثانی کیے بغیر ہی تنقید و اصلاح کے لیے حاضر ہیں:
کھا رہا ہے اپنی خوئے نازبرداری کو زنگ
کچھ ادا، کچھ رقص، کچھ نخرا ہی دکھلا جائیے
میرؔ کی مانند منہ پر باندھیے ڈھاٹا حجازؔ
شعر اتنے خوب مت کہیے کہ نظراجائیے

بہت عمدہ اشعار۔ ڈھیروں داد۔
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 6، 2013 3:49 شام
بہت عمدہ اشعار۔ ڈھیروں داد۔
آداب محترم۔ شاد رہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%88-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF.67465/