دو اشعار برائے تنقید و اصلاح

محمد امجد نذیر الہ آبادی — مارچ 29، 2015 9:19 صبح
چمن میں مرے اک عجب سا شجر ہے
ہرے جس کے پتے کٹی جس کی جڑ ہے
بھروسہ نہیں مجھ کو وعدوں پہ اس کے
کہ باتوں میں اس کی اگر ہے مگر ہے
الف عین — مارچ 31، 2015 12:08 شام
شجر اور جڑ قوافی غلط ہیں۔
باقی درست ہے
x boy — مارچ 31، 2015 12:34 شام
ہمم
محمد امجد نذیر الہ آبادی — اپریل 1، 2015 6:47 صبح
شجر اور جڑ قوافی غلط ہیں۔
باقی درست ہے
بہت شکریہ سر۔۔۔۔
ایک اور شعر اسی زمین پر: اس پر بھی نظرِکرم کیجیے
برستی نہیں یاں محبت کی بارش
عداوت کا مارا ہمارا نگر ہے
الف عین — اپریل 1، 2015 8:19 صبح
مبتدیوں کے معیار کے مطابق یہ نیا شعر بھی درست ہے
محمد امجد نذیر الہ آبادی — اپریل 1، 2015 11:13 صبح
مبتدیوں کے معیار کے مطابق یہ نیا شعر بھی درست ہے
ممنون ہوں جی آپ کا۔۔۔۔۔ اچھا سر قوافی میں تھوڑامسئلہ ہوتا ہے۔ اس پر اگر کوئی آرٹیکل مل جائے تو لنک عنایت کر دیجیے مہربانی ہوگی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%88-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.81053/