دو شعر

سید شہزاد ناصر — مارچ 10، 2013 4:34 صبح
سر منڈاتے ہی اولے پڑے
کبھی بچپن میں یہ محاورہ سنا تھا مطلب کبھی سمجھ میں نہ آیا استادِ محترم الف عین کا حکم ہوا کہ اگر استاد کہتے ہو تو شاگردی کا کچھ ثبوت دینا پڑے گا تب ہم سمجھے کہ سرمنڈاتے ہی اولے پڑنے کا کیا مطلب ہوتا ہے اور ہمارا خیال ہے اس دھاگے کے بعد
"بے بھاؤ کی پڑنا" کا مطلب بھی عنقریب سمجھ میں آ جائے گا دو اشعار موزوں ہوئے ہیں اصلاح درکار ہے
میں اس مفلسی پہ بھی پیشماں نہیں ہوں
میں ان غموں میں گھرا پریشان نہیں ہوں
تو جلوتوں میں رہ کر بھی خلوتوں میں ہے
میں خلوتوں میں رہ کر بھی تنہا نہیں ہوں
الف عین@محمد خلیل الرحمٰن
مہدی نقوی حجاز — مارچ 10، 2013 5:03 صبح
جناب خیالات کمال ہیں۔۔۔ اصلاح بارے تو مصلح جانیں البتہ ہم صلاح دیے دیتے ہیں:
اول تو مصرع اول میں کم علم کو مفلسی اور پشیمانی میں کوئی ربط نظر نہیں آ رہا
دوسرے اگر آپ دقت کریں تو آخری مصرع میں جناب نے قافیے کی رعایت سے بھی صرف نظر فرما لیا ہے،
باقی ہم ان خیالت کو بحر میں لے آتے ہیں:
ہر چند مفلسی پہ پشیمان نہیں ہوں
میں ان غموں میں گھر کے بریشان نہیں ہوں
تو جلوتوں میں رہ کہ بھی ظاہر نہ ہو سکا
میں خلوتوں میں رہ کہ بھی پنہان نہیں ہوں
سید شہزاد ناصر — مارچ 10، 2013 5:07 صبح
مفلسی اور پشیمانی میں کوئی ربط نظر نہیں آ رہا
آپ کا اعتراض دل کو لگتا ہے
باقی اساتذہ کرام کا انتطار ہے
سید شہزاد ناصر — مارچ 10، 2013 5:12 صبح
@مہدی نقوی حجاز
آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے یہ شعر امیر مینائی کے ان اشعار سے متاثر ہو کر لکھے ہیں
شوق خلوت میں بھی ہے انجمن آرائی کا
آئینہ خانہ گوشہ ہے میر ی تنہائی کا
مہدی نقوی حجاز — مارچ 10، 2013 5:14 صبح
J
مفلسی اور پشیمانی میں کوئی ربط نظر نہیں آ رہا
آپ کا اعتراض دل کو لگتا ہے
باقی اساتذہ کرام کا انتطار ہے
جناب دلوں کو چیزیں دو طرح سے لگا کرتی ہیں۔۔۔ اب آپ فرما دیجے کہ آپ کو ہمارا اول تو اعتراض نہیں سوال دل کو کس طرح لگ رہا ہے؟؟ :D
سید شہزاد ناصر — مارچ 10، 2013 5:19 صبح
دلوں کو چیزیں دو طرح سے لگا کرتی ہیں
دونوں ہی حسب ِ مراتب ہیں باقی آپ خود سمجھدار ہیں :tongueout4:
مہدی نقوی حجاز — مارچ 10، 2013 5:21 صبح
@مہدی نقوی حجاز
آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے یہ شعر امیر مینائی کے ان اشعار سے متاثر ہو کر لکھے ہیں
شوق خلوت میں بھی ہے انجمن آرائی کا
آئینہ خانہ گوشہ ہے میر ی تنہائی کا

:eek:
سید شہزاد ناصر — مارچ 10، 2013 5:23 صبح
لگتا ہے لخلخہ سنگھانا پڑے گا :shocked:
الف عین — مارچ 10، 2013 7:25 صبح
خیال دوسرے شعر کا پسند آیا، پہلے شعر میں مہدی سے متفق ہوں۔ البتہ بحر و اوزان میں مہدی میاں سے بھی شاید جلد بازی میں غلطی ہو گئی ہے۔ یا ممکن ہے کہ دہ جائز سمجھتے ہوں دو بحروں کو ملایا جانا۔ جس بحر میں اشعار لائے گئے ہیں، شاید اس کی تقطیع ہوگی
مفعول فاعلات مفاعیل فعولن
جب کہ دو الگ الگ معروف بحروں کے ارکان ہیں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (یا فاعلات)
اور
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
پہلی بحر میں لانے کے لئے اس کی ردیف کی ترتیب الٹنی ہو گی۔ یعنی بریشان نہیں ہوں کی جگہ ’بریشان ہوں نہیں‘
میری پسند یہ ہو گی
مفلس ہوں مگر اس پہ پشیماں تو نہیں ہوں
محصور غموں میں ہوں، بریشاں تو نہیں ہوں
ظاہر نہ ہوا بھیڑ میں رہ کر تو، مگر میں
خلوت میں بھی رہتا ہوں پہ پنہاں تو نہیں ہوں
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
سید شہزاد ناصر — مارچ 10، 2013 11:45 صبح
استاد جی اگر اجازت ہو تو قافیہ تبدیل کر کے مکرّر شریکِ محفل کروں؟
الف عین
الف عین — مارچ 10، 2013 2:06 شام
استاد جی اگر اجازت ہو تو قافیہ تبدیل کر کے مکرّر شریکِ محفل کروں؟
الف عین
اجازت کی کیا ضرورت ہے، اصلاح کا مطلب ہی یہ ہے کہ اصلاح و تصحیح کے بعد دوبارہ کلام پوسٹ کیا جائے۔
سید شہزاد ناصر — مارچ 10، 2013 2:08 شام
اجازت کی کیا ضرورت ہے، اصلاح کا مطلب ہی یہ ہے کہ اصلاح و تصحیح کے بعد دوبارہ کلام پوسٹ کیا جائے۔
ٹھیک ہے استاد جی :)
شوکت پرویز — مارچ 11، 2013 9:21 صبح
واہ جناب سید شہزاد ناصر صاحب!
آپ تو چھپے رستم نکلے۔
آپ کے اشعار کافی سنجیدہ ہیں، اس لئے ہماری گفتگو ویسی نہیں ہو پائے گی جیسی ہم نے پچھلے کچھ دھاگوں میں کی ہے۔
اللہ آپ کی (اور ہم سب کی) پریشانیاں دور کرے اور (ہم سب کو) دونوں جہاں میں کامیاب کرے، آمین۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%88-%D8%B4%D8%B9%D8%B1.60881/