دو شعر برائے اصلا ح

خورشید بھارتی — اکتوبر 23، 2016 10:08 صبح
کہاں کا قصہ کہاں لا کے اس نے جوڑ دیا
بڑے سلیقے سے رخ گفتگو کا موڑ دیا
تمام گھر میں کرن خوشبوؤں کی پھیل گئی
صنم نے کونا دوپٹے کا جب نچوڑ دیا
سید عاطف علی — اکتوبر 23، 2016 10:38 صبح
کہاں کا قصہ کہاں لا کے اس نے جوڑ دیا
بڑے سلیقے سے رخ گفتگو کا موڑ دیا
تمام گھر میں کرن خوشبوؤں کی پھیل گئی
صنم نے کونا دوپٹے کا جب نچوڑ دیا
خوشبو کے ساتھ کرن کا جوڑ کچھ پیوند سا لگ رہا ہے۔یہاں مہک ،فضا ،ہوا ،جھونکا وغیرہ باندھا جائے تو بہتر ہو۔
کاشف اسرار احمد — اکتوبر 23، 2016 11:42 صبح
ایک اور تکنیکی بات کہ خوشبو دوپٹہ نچوڑنے سے نہیں لہرانے یا پھیلانے سے نکلتی ہے، لیکن شاید نچوڑنے کا واقعہ بھی قابلِ قبول ہو.
الف عین — اکتوبر 23، 2016 8:04 شام
’سنم‘ جیسے الفاظ سے مجھے بالی ووڈ کے گیت یاد آتے ہیں۔ ایسے الفاظ سے بچیں بطور خاص بحر کی ضرورت پوری کرنے کے لیے۔ یہاں محبوب کے لیے سہی، لیکن کچھ الفاظ بدلنا بہتر ہو گا۔
خورشید بھارتی — اکتوبر 24، 2016 5:32 شام
گلاب و بیلا کی خوشبو فضا میں پھیل گئی
صنم نے کونا دوپٹے کا جب نچوڑ دیا
اب کیسا رہےگا
خورشید بھارتی — اکتوبر 24، 2016 5:35 شام
خوشبو کے ساتھ کرن کا جوڑ کچھ پیوند سا لگ رہا ہے۔یہاں مہک ،فضا ،ہوا ،جھونکا وغیرہ باندھا جائے تو بہتر ہو۔
گلاب و بیلا کی خوشبو فضا میں پھیل گئی
صنم نے کونا دوپٹے کا جب نچوڑ دیا
کیسا رہے گا محترم

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%88-%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7-%D8%AD.92668/