دو شعر برائے اصلاح

نورالحسن جوئیہ — اپریل 4، 2016 8:38 صبح
محفل سے محض آپ نہیں اٹھ کے آ گئے
یاد آگیا تھا مجھ کو بھی اک کام دفعتاََ
سینے میں آسماں کے پلا ہے یہ مدتوں
وارد ہوا نہیں ہے یہ الہام دفعتاََ
الف عین — اپریل 5، 2016 7:53 صبح
پہلے مصرع میں محض کا تلفظ غلط بندھا ہے۔ یہاں ’صرف‘ استعمال کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ روانی اب بھی مجروح ہے اس مصرعے کی۔
بقی درست ہے۔
اکمل زیدی — اپریل 5، 2016 8:09 صبح
سینے میں آسماں کے پلا ہے یہ مدتوں
وارد ہوا نہیں ہے یہ الہام دفعتاََ
میری ناقص معلومات میں الہام دفعتاََ ہی ہوتا ہے پلتا نہیں ہے دوسرے یہ سینے کا آسمان کی اصطلاح سمجھ نہیں آئی ..سینے میں موجود شے کو گہرائی سے تشبیہ دیتے سنا ہے ..اونچائی دماغ سے تعلق رکھتی ہے ...سینے کا آسمان ..چہ معنی دارد ؟
نورالحسن جوئیہ — اپریل 5، 2016 8:55 صبح
سینے میں آسماں کے پلا ہے یہ مدتوں
وارد ہوا نہیں ہے یہ الہام دفعتاََ
شکریہ سر
سر اوپر دئے گئے دونوں مصروں میں یہ کا تکرار اچھا نہیں لگ رہا نا؟
سید لبید غزنوی — اپریل 5، 2016 9:09 صبح
یہ الہام جو ہے نا یہ دفعتاً ہی ہوتا ہے۔۔
ویسے میں اہل علم کی مجلس میں ہوں اک سوال عرض ہے یہ الہام اور القاء ایک ہی چیز کے دو نام ہیں یا الہام الگ اور القاء الگ چیز ہے؟؟
کیوں کہ میں نے پڑھا ہے (جب انسان کوئی برائی کرنےلگتا ہے تو فرشتہ اللہ کے حکم سے القاء کرتا ہے کہ یہ بر ا کام ہے اس سے بچ جاؤ۔۔۔۔کوئی روشنی ڈالے گا اس پر؟؟؟
نورالحسن جوئیہ — اپریل 5، 2016 10:05 صبح
یہ الہام جو ہے نا یہ دفعتاً ہی ہوتا ہے۔۔
ویسے میں اہل علم کی مجلس میں ہوں اک سوال عرض ہے یہ الہام اور القاء ایک ہی چیز کے دو نام ہیں یا الہام الگ اور القاء الگ چیز ہے؟؟
کیوں کہ میں نے پڑھا ہے (جب انسان کوئی برائی کرنےلگتا ہے تو فرشتہ اللہ کے حکم سے القاء کرتا ہے کہ یہ بر ا کام ہے اس سے بچ جاؤ۔۔۔۔کوئی روشنی ڈالے گا اس پر؟؟؟
انسان پر تو دفعتاََ ہی ہوتا ہے لیکن شعر میں یہ بات کہنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ بات آسمان کے سینے میں برسوں سے پل رہی ہوتی ہے، برسوں سے اس پر کام ہورہا ہوتا ہے
نورالحسن جوئیہ — اپریل 5، 2016 10:12 صبح
پہلے مصرع میں محض کا تلفظ غلط بندھا ہے۔ یہاں ’صرف‘ استعمال کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ روانی اب بھی مجروح ہے اس مصرعے کی۔
بقی درست ہے۔
سر 'محض' ، آپ کے وزن پہ ہوگا نا؟
مح ض۔ فِعْل
ولی دکنی کا ایک شعر
آزاد کوں جہاں میں تعلق ہے جال محض
دل باندھنا کسی سوں ہے دل پر وبال محض
نورالحسن جوئیہ — اپریل 5، 2016 10:21 صبح
وارد ہوا نہیں ہے یہ الہام دفعتاََ
دوسرےشعر کے دوسرے مصرع میں 'الہام' کے ساتھ 'وارد' کا لفظ آیا ہے۔ اس پر بھی اساتذہ تھوڑی روشنی ڈالیں کہ کیا ایسے ممکن ہے۔
شکریہ
عبیر خان — اپریل 5، 2016 10:23 صبح
محفل سے محض آپ نہیں اٹھ کے آ گئے
یاد آگیا تھا مجھ کو بھی اک کام دفعتاََ
سینے میں آسماں کے پلا ہے یہ مدتوں
وارد ہوا نہیں ہے یہ الہام دفعتاََ
بلکل بھی سمجھ نہیں آئی ہے۔ :)
نورالحسن جوئیہ — اپریل 5، 2016 1:35 شام
بلکل بھی سمجھ نہیں آئی ہے۔ :)
سمجھ آنا ضروری بھی نہیں ہے :)
الف عین — اپریل 5، 2016 5:43 شام
معذرت کسی دھن میں محض پر غلط اعتراض کر گیا۔ یہ درست ہے۔
’’یہ“ کی تکرار بھی قابل قبول ہے۔
سینے میں پلنے پر اکمل کی رائے میں دم ہے۔ ویسے غم بھی تو پلا کرتے ہیں، سینے یا دل میں۔ اس لئے نا گوار بھی نہیں۔
نورالحسن جوئیہ — اپریل 5، 2016 5:58 شام
معذرت کسی دھن میں محض پر غلط اعتراض کر گیا۔ یہ درست ہے۔
’’یہ“ کی تکرار بھی قابل قبول ہے۔
سینے میں پلنے پر اکمل کی رائے میں دم ہے۔ ویسے غم بھی تو پلا کرتے ہیں، سینے یا دل میں۔ اس لئے نا گوار بھی نہیں۔
جزاک اللہ سر
عبیر خان — اپریل 6، 2016 12:37 شام
سمجھ آنا ضروری بھی نہیں ہے :)
جی یہ بات بھی درست کی ہے آپ نے۔ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%88-%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.89079/