فاروق احمد بھٹی — مئی 25، 2016 2:46 شام
السلام علیکم
امید ہے تمام احباب خیریت سے ہوں گے
اساتذہ کرام جناب محمد یعقوب آسی صاحب اور جناب الف عین صاحب سے اصلاحی نظر فرمانے کی درخواست ہے۔اور دیگر صاحبانِ علم و محفلین سے درخواست ہے کہ وہ بھی اپنی آرا سے زینت بخشیں۔
رخ یار پہ جب سے پڑی ہے نظر مجھے ہوش و خرد کا پتہ نہ رہا
دل زار کو چین و سکوں تو ملا، پہ خلش، وہ کسک، وہ مزا نہ رہا
اسے کوئی بتائے یہ جا کے ذرا کہ بیمار کا حال بگڑنے لگا
سر بالیں جو آئے تو کام بنے کہ علاج دعا و دوا نہ رہا ا
محمد ریحان قریشی — مئی 25، 2016 3:06 شام
بیمار کی ی دب رہی ہے اگر میں صحیح پڑھ رہا ہوں تو یعنی بحر زمزمہ کے ردھم پر۔ مریض سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
شکیب — مئی 25، 2016 3:17 شام
اسے کوئی بتائے یہ جا کے ذرا کہ بیمار کا حال بگڑنے لگا
سر بالیں جو آئے تو کام بنے کہ علاج دعا و دوا نہ رہا
علاج دعا و دوا نہ رہا ؟ کیا کہنا چاہ رہے ہیں میں سمجھ نہیں سکا۔ اگر یہ مطلب ہے کہ دعا اور دوا علاج نہیں کر پا رہے تو ”رہا“ کی بجائے ”رہے“ کا محل ہے۔
علاجِ اضافت کے ساتھ ہے تو مصرع ہی بے معنی ہو جائے گا۔
آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں ویسے؟
محمد ریحان قریشی — مئی 25، 2016 3:22 شام
علاجِ دوا و دعا نہ چلا
شاید کہنا چاہ رہے ہیں۔
یعنی خوب وقت آئے تم اس عاشقِ بیمار کے پاس
اور
یار لائے اسے بالیں پہ مری پر کس وقت
سے ابھی تھوڑی پہلے کی صورتحال ہے۔
عباد اللہ — مئی 25، 2016 4:12 شام
علاج دعا و دوا نہ رہا ؟ کیا کہنا چاہ رہے ہیں میں سمجھ نہیں سکا۔ اگر یہ مطلب ہے کہ دعا اور دوا علاج نہیں کر پا رہے تو ”رہا“ کی بجائے ”رہے“ کا محل ہے۔
علاجِ اضافت کے ساتھ ہے تو مصرع ہی بے معنی ہو جائے گا۔
آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں ویسے؟
کوئی چارہ اب اس کے سوا نہ رہا کہنا چاہ رہے ہیں شاید
مہدی نقوی حجاز — مئی 25، 2016 4:33 شام
علاج دوا و دعا پر جو اعتراض ہے وہ بجا ہے۔
اس کے علاوہ چین و سکوں کی ترکیب ٹھیک نہیں۔ کہ سکون عربی فارسی ہے اور چین ہندی سنسکرت۔ ان دونوں کو ملا کر ایک ترکیب بنانا غلط ہے۔ صبر و قرار سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
الف عین — مئی 25، 2016 8:57 شام
علاج دوا و دعا پر جو اعتراض ہے وہ بجا ہے۔
اس کے علاوہ چین و سکوں کی ترکیب ٹھیک نہیں۔ کہ سکون عربی فارسی ہے اور چین ہندی سنسکرت۔ ان دونوں کو ملا کر ایک ترکیب بنانا غلط ہے۔ صبر و قرار سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
لیکن صبر و قرار کے ساتھ ’تو‘ نہیں آتا وزن میں۔اسکے علاوہ بالیں کو بھی محض ’بال‘ تقطیعاچھی نہیں لگ رہی۔
مہدی نقوی حجاز — مئی 26، 2016 10:34 صبح
لیکن صبر و قرار کے ساتھ ’تو‘ نہیں آتا وزن میں۔اسکے علاوہ بالیں کو بھی محض ’بال‘ تقطیعاچھی نہیں لگ رہی۔
جملہ تو کے بغیر ہی فصیح ہے میرے خیال سے!؟
مہدی نقوی حجاز — مئی 26، 2016 10:37 صبح
ویسے تو پہ بھی اب اگر کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ لیکن احمد فراز نے کیا ہے: پہ کیا کریں ہمیں اک دوسرے کی عادت ہے۔ یہ استعمال متروک ہے شاید