اگر چہ عشق میں در در کی خاک چھانتے ہیں۔
مگر یہ اہل ِ جنوں کب کسی کی مانتے ہیں۔
حنیف دھوپ کی شدت سے جب بھی گھبرائیں۔
ہم ان کی یاد کی چادر کو خود پہ تانتے ہیں۔
مگر یہ اہل ِ جنوں کب کسی کی مانتے ہیں۔
حنیف دھوپ کی شدت سے جب بھی گھبرائیں۔
ہم ان کی یاد کی چادر کو خود پہ تانتے ہیں۔