مریم افتخار — فروری 11، 2016 10:36 صبح
دل کی قندیل بجھی جائے ہے دھیرے دھیرے
اشک آنکھوں سے چھلک پائے ہے دھیرے دھیرے
فصل کاٹی ہے ببولوں کی جو من کے اندر
فصل یہ آپ بڑھی آئے ہے دھیرے دھیرے
"یہ محبت نہ کسی کام کا چھوڑے ہے اب"
سائیں بس نغمہ یہی گائے ہے دھیرے دھیرے
عشقِ حق کے سوا جس سُو بھی تُو بھٹکا پِھرے ہے
ایک دِن آپ تُو پچھتائے ہے دھیرے دھیرے
اکمل زیدی — فروری 11، 2016 10:45 صبح
غزل اچھی ہے مگر آپ کی جسارت بڑھ گئی ہے اس بار پوری ایک ساتھ چار ...

نایاب — فروری 11، 2016 11:28 صبح
ناپنا تولنا استادوں کے کام ۔
ہمیں تو غرض صرف خیال سے ۔۔۔۔
اور کیا ہی خوب کہا محترم بٹیا نے ۔۔۔۔۔
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
عشقِ حق کے سوا جس سُو بھی تُو بھٹکا پِھرے ہے
ایک دِن آپ تُو پچھتائے ہے دھیرے دھیرے
مریم افتخار — فروری 11، 2016 11:44 صبح
ناپنا تولنا استادوں کے کام ۔
ہمیں تو غرض صرف خیال سے ۔۔۔۔
اور کیا ہی خوب کہا محترم بٹیا نے ۔۔۔۔۔
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
بہت مہربانی انکل!
نور وجدان — فروری 11، 2016 12:34 شام
عشقِ حق کے سوا جس سُو بھی تُو بھٹکا پِھرے ہے
ایک دِن آپ تُو پچھتائے ہے دھیرے دھیرے
یہاں سے ''تو'' نکال دیں ۔۔بحر میں آجائے گا مصرعہ
سلمان دانش جی — فروری 11، 2016 12:51 شام
یہاں سے ''تو'' نکال دیں ۔۔بحر میں آجائے گا مصرعہ
مصرع تو ابھی "تو" کے ساتھ بھی وزن میں ہے۔
سلمان دانش جی — فروری 11، 2016 12:56 شام
یہاں سے ''تو'' نکال دیں ۔۔بحر میں آجائے گا مصرعہ
مصرع تو وزن میں ہے لیکن ایک دن آپ تو پچھتائے ہے کا " ہے" غلط ہے۔ ہونا تو " گا" چاہیے۔ ردیف نبھانے کیلیے زبردستی ہے لگا دیا گیا ہے۔ اس غزل میں ردیف میں "ہے " کی بجائے" گا" ہوتا تو قدرے بہتر تھا
مریم افتخار — فروری 11، 2016 1:16 شام
مصرع تو وزن میں ہے لیکن ایک دن آپ تو پچھتائے ہے کا " ہے" غلط ہے۔ ہونا تو " گا" چاہیے۔ ردیف نبھانے کیلیے زبردستی ہے لگا دیا گیا ہے۔ اس غزل میں ردیف میں "ہے " کی بجائے" گا" ہوتا تو قدرے بہتر تھا
لیکن سر باقی مصرعوں میں "گا" فٹ نہیں آ رہا
سلمان دانش جی — فروری 11، 2016 2:10 شام
لیکن سر باقی مصرعوں میں "گا" فٹ نہیں آ رہا
مریم صاحبہ ایک مصرع کیلیے باقی مصروں اور باقی کیلیے ایک مصرع کو قربان گھاٹ پر چڑھانے کے چکر میں کیوں پڑیں۔ ان قوافی کے ساتھ آپکا ردیف گا کے ساتھ ہی ہونا چاہیے۔ میری رائے ہے کہ آپ دوسرے اشعار کو بھی گا کے ردیف کے مطابق ہی ڈھالیں۔ آئے جائے گائے فعل مستقبل کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، ان ساتھ گا ہی درست ہوتا ہے۔ باقی زبردستی کی بات ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ جوں جوں لکھتی رہیں گی آپ کی خود اعتمادی بڑھتی جائے گی۔
الف عین — فروری 12، 2016 4:05 شام
صرف آخری شعر میں ’ہے‘ مستقبل کے معنی میں آ رہا ہے۔ باقی جگہ تو ردیف درست ہے۔
مریم افتخار — فروری 12، 2016 4:09 شام
صرف آخری شعر میں ’ہے‘ مستقبل کے معنی میں آ رہا ہے۔ باقی جگہ تو ردیف درست ہے۔
اس کا کیا کِیا جائے سَر؟
الف عین — فروری 13، 2016 6:09 صبح
میں اردو کا آدمی ہوں بھئی انگریزی کا سَر نہیں۔
اس شعر کو کسی مرتبان میں محفوظ کر لو، آئندہ کام آئے گا۔