دوست سارے ہی مجھ سے جدا ہو گئے

ارشد چوہدری — جولائی 16، 2022 5:14 صبح
الف عین
محمد عبدالرؤوف
عظیم
سید عاطف علی
محمّد احسن سمیع :راحل:
------------
دوست سارے ہی مجھ سے جدا ہو گئے
جرم کیا تھا مرا جو خفا ہو گئے
-------
وقت کٹتا نہیں ہے تمہارے بنا
دن ہمارے لئے اب سزا ہو گئے
-----
کھو گئے اس طرح سے تری یاد میں
سینکڑوں اپنے سجدے قضا ہو گئے
-----------
یاد کچھ بھی نہیں ہے تمہارے سوا
ہم تو خود سے بھی جیسے جدا ہو گئے
---------
بات ایسی سُنی دل پریشان ہے
لوگ کہتے ہیں تم بے وفا ہو گئے
----------
اور جچتا نہیں دل میں کوئی حسیں
ہم اداؤں پہ تیری فدا ہو گئے
-----------
جو تکبّر سے اکڑے ہوئے لوگ ہیں
وہ سمجھتے ہیں جیسے خدا ہو گئے
------
شکر کرتے نہیں پا کے دولت کو جو
لوگ دیکھے ہیں پھر سے گدا ہو گئے
-----------
حال ارشد نے پوچھا جو آ کر مرا
بول اس کے ہی میری دوا ہو گئے
------------
ارشد چوہدری — جولائی 17، 2022 3:20 صبح
الف عین
ارشد چوہدری — جولائی 17، 2022 9:54 صبح
الف عین
محمد عبدالرؤوف
عظیم
سید عاطف علی
محمّد احسن سمیع :راحل:
صریر — جولائی 17، 2022 10:31 صبح
بات ایسی سُنی دل پریشان ہے
لوگ کہتے ہیں تم بے وفا ہو گئے
👍👍
صریر — جولائی 17، 2022 10:34 صبح
شکر کرتے نہیں پا کے دولت کو جو
لوگ دیکھے ہیں پھر سے گدا ہو گئے
کیا اس کو ایسا کر سکتے ہیں؟
شکر کرتے نہیں پا کے دولت کو جو
ہم نے دیکھا ہے وہ پھر گدا ہو گئے
ارشد چوہدری — جولائی 18، 2022 3:52 صبح
الف عین
فاخر — جولائی 18، 2022 6:52 صبح
جو تکبّر سے اکڑے ہوئے لوگ ہیں
وہ سمجھتے ہیں جیسے خدا ہو گئے
بہت عمدہ سبحان اللٰہ !!!
الف عین — جولائی 18، 2022 6:50 شام
الف عین
محمد عبدالرؤوف
عظیم
سید عاطف علی
محمّد احسن سمیع :راحل:
------------
دوست سارے ہی مجھ سے جدا ہو گئے
جرم کیا تھا مرا جو خفا ہو گئے
-------
ٹھیک ہے، ویسے دوسرے مصرعے کے فاعل کے بارے میں سوچنا پڑے گا، مگر مطلع میں میں چھوٹے موٹے اسقام کو قبول کر لیتا ہوں
وقت کٹتا نہیں ہے تمہارے بنا
دن ہمارے لئے اب سزا ہو گئے
-----
درست ، اچھا شعر ہے
کھو گئے اس طرح سے تری یاد میں
سینکڑوں اپنے سجدے قضا ہو گئے
-----------
کون؟ اس طرح واضح ہو سکتا ہے
کھو گئے اس طرح ہم تری یاد میں
سینکڑوں اپنے سجدے قضا ہو گئے
یاد کچھ بھی نہیں ہے تمہارے سوا
ہم تو خود سے بھی جیسے جدا ہو گئے
---------
درست، اچھا ہے
بات ایسی سُنی دل پریشان ہے
لوگ کہتے ہیں تم بے وفا ہو گئے
----------
ٹھیک
اور جچتا نہیں دل میں کوئی حسیں
ہم اداؤں پہ تیری فدا ہو گئے
-----------
درست
جو تکبّر سے اکڑے ہوئے لوگ ہیں
وہ سمجھتے ہیں جیسے خدا ہو گئے
------
بہتر ہو کہ دوسرے مصرعے کو
یوں سمجھتے ہیں....
کر دیا جائے
شکر کرتے نہیں پا کے دولت کو جو
لوگ دیکھے ہیں پھر سے گدا ہو گئے
-----------
درست
حال ارشد نے پوچھا جو آ کر مرا
بول اس کے ہی میری دوا ہو گئے
------------
درست
ماشاء اللہ یہ بہت بہتر غزل کہی ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA-%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92-%DB%81%DB%8C-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%D8%B3%DB%92-%D8%AC%D8%AF%D8%A7-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A6%DB%92.118654/