دکھ گر دیا کسی نے ہم مسکرا دیے۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم

راقم — مارچ 14، 2010 2:19 شام
استاذِ محترم، السلام علیکم!
ایک اور پرانی غزل برائے اصلاح حاضر ہے۔ وقت ملنے پر دیکھ لیجیے گا۔
والسلام
دکھ گر دیا کسی نے ہم مسکرا دیے
پوچھا کسی نے حال تو آنسو نکل پڑے
جب تک رہا وصال رہے غم بھی دور دور
ملنا ہوا محال تو آنسو نکل پڑے
وہ سنگ دل جو عمر بھر روئے نہ تھے کبھی
دیکھا مرا جو حال تو آنسو نکل پڑے
روداد زندگی کی سناتے تو کس طرح
دل کو لیا سنبھال تو آنسو نکل پڑے
مسرور تو ہوئے تھے کچھ دیر کے لیے
آیا ترا خیال تو آنسو نکل پڑے
بربادیوں کا میری تھے اسباب اور بھی
دیکھا ترا کمال تو آنسو نکل پڑے
قصے تو سُن رکھے تھے فرہاد و قیس کے
راقم بنے مثال تو آنسو نکل پڑے
الف عین — مارچ 14، 2010 5:10 شام
کچھ معمولی سی عروضی اغلاط ہیں راقم، بعد میں دیکھتا ہوں، بھول جاؤں تو یاد دلا دینا!!
مغزل — مارچ 15، 2010 7:52 شام
رسید حاضر ہے راقم صاحب، میں بھی آپ کے ساتھ بابا جانی کا انتظار کرتا ہوں۔
ایم اے راجا — مارچ 19، 2010 9:03 صبح
بہت خوب راقم صاحب واہ واہ
الف عین — مارچ 21، 2010 10:16 صبح
حاضر ہوں اصلاح کے ساتھ۔۔
<h3> </h3>
دکھ گر دیا کسی نے ہم مسکرا دیے
پوچھا کسی نے حال تو آنسو نکل پڑے
///
پہلا مصرع بحر سے خارج۔ یوں ہو سکتا ہے
دکھ گر دیا کسی نے تو ہم مسکرا دیے
لیکن ’دکھ گر دیا‘ سے بہتر یوں ہو گا۔
دکھ بھی دیا۔۔۔۔
جب تک رہا وصال رہے غم بھی دور دور
ملنا ہوا محال تو آنسو نکل پڑے
۔۔۔ درست
وہ سنگ دل جو عمر بھر روئے نہ تھے کبھی
دیکھا مرا جو حال تو آنسو نکل پڑے
۔۔۔ پہلا مصرع بحر سے خارج ہے۔۔ یوں کر دیں
روئے نہ تھے جو عمر میں اک بار بھی کبھی
دیکھا جو میرا حال۔۔۔۔
(دوسرے مصرع میں ’دیکھا جو میرا ھال‘ زیادہ رواں لگتا ہے۔
روداد زندگی کی سناتے تو کس طرح
دل کو لیا سنبھال تو آنسو نکل پڑے
۔۔۔۔۔عروض کے لحاظ سے درست
مسرور تو ہوئے تھے کچھ دیر کے لیے
آیا ترا خیال تو آنسو نکل پڑے
۔۔۔۔مسرور ہو گئے تھے ذرا دیر کے لئے
بطور پہلا مصرع کیسا رہے گاَ؟ موجودہ صورت بحر سے خارج ہے
بربادیوں کا میری تھے اسباب اور بھی
دیکھا ترا کمال تو آنسو نکل پڑے
پہلا مصرع زیادہ رواں ہو سکتا ہے، جیسے
بربادیوں کے اور بھی اسباب
تھے مرے
۔۔ معنی کے حساب سے۔۔۔زیادہ واضح نہیں کہ محبوب کا کمال کیا ہے۔
قصے تو سُن رکھے تھے فرہاد و قیس کے
راقم بنے مثال تو آنسو نکل پڑے
۔۔۔ پہلا مصرع خارج از بحر۔۔۔۔
افسانے سنتے آئے تھے فرہاد و قیس کے
راقم کی دی مثال۔۔۔۔۔
راقم — اپریل 1، 2010 4:41 شام
السلام علیکم، استاذ محترم!
بجلی کی 22 گھنٹے یومیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کافی دن محفل میں حاضر نہیں ہو سکا۔ ابھی تک صورتِ حال اتنی بہتر نہیں ہے۔
آپ کی تجاویز کے مطابق غزل کو بہتر کرنے کی کوشش کروں گا اگر بجلی نے مہلت دے دی تو؟
والسلام

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%DA%A9%DA%BE-%DA%AF%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%D9%86%DB%92-%DB%81%D9%85-%D9%85%D8%B3%DA%A9%D8%B1%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2-%D8%B1%D8%A7%D9%82%D9%85.29067/