دیوانِ غالب نسخۂ اردو ویب

مزمل شیخ بسمل — اگست 24، 2012 3:03 شام
آج ایک ایس ایم ایس پے مجھے غالب کی ایک غزل موصول ہوئی جس کے ایک مصرعے کا وزن تھوڑا بحر سے خارج تھا۔ سوچا تصدیق کروں تو اردو ویب کے دیوانِ غالب پے پہنچا اور یہاں بھی وہی غلطی پائی۔
اردو ویب کے نسخہء دیوانِ غالب میں اتفاقاً پڑھنے میں آیا تو سوچا مخفی نہ رہے کہ غزل 4 کے پہلے شعر کا دوسرا مصرعہ معمولی سی املائی غلطی کے باعث بے وزن ہوگیا ہے۔
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا
”کیجیے“ بوزن فاعلن ہونے کی وجہ سے مصرعہ غلط ہوا۔ یہاں ”کیجے“ بوزن فعلن ہونا تھا۔
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 14، 2012 8:16 صبح
تقطیع درکار۔۔۔۔!!!!
جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کر ہو رشکِ فارسی
گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں
محمد وارث
الف عین
فاتح
طارق شاہ
فاتح — اکتوبر 14، 2012 9:07 صبح
تقطیع درکار۔۔۔ ۔!!!!
جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کر ہو رشکِ فارسی
گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں
محمد وارث
الف عین
فاتح
طارق شاہ
مفتعلن ۔ مفاعلن ۔ مفتعلن ۔ مفاعلن
جو یہ کہے ۔ کِ ریختہ ۔ کُو کرُ رش ۔ کِ فارسی
مفتعلن ۔ مفاعلان ۔ مفتعلن ۔ مفاعلن
گفتۂ غا ۔ لبیک بار ۔ پڑ کِ اُسے ۔ سُنا کِ یُو
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 14، 2012 9:10 صبح
مفتعلن ۔ مفاعلن ۔ مفتعلن ۔ مفاعلن
جو یہ کہے ۔ کِ ریختہ ۔ کُو کرُ رش ۔ کِ فارسی
مفتعلن ۔ مفاعلان ۔ مفتعلن ۔ مفاعلن
گفتۂ غا ۔ لبیک بار ۔ پڑ کِ اُسے ۔ سُنا کِ یُو

کیونکر کے بعد ”ہو“ سے ہ کہاں گئی؟
محمد وارث — اکتوبر 14، 2012 3:05 شام
تقطیع درکار۔۔۔ ۔!!!!
جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کر ہو رشکِ فارسی
گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں
محمد وارث
الف عین
فاتح
طارق شاہ

آپ نے شعر درست نہیں لکھا، درست شعر کچھ یوں ہے
جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کہ ہو رشکِ فارسی
گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں
بحوالہ دیوانِ غالب نسخہٴ مہر مرتبہ مولانا غلام رسول مہر۔
اب تقطیع کیجیے تو کچھ اشکال پیدا نہ ہوگا۔
اور یہ بھی کہ ویب پر اکثر و بیشتر یہ شعر اسی طرح غلط لکھا ہے جس طرح آپ نے لکھا ہے اور اسی سے ہو سکتا ہے کچھ دوست یہ سمجھیں کہ غالب نے شعر غلط اور بے وزن لکھ مارا ہے۔
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 14، 2012 3:21 شام
آپ نے شعر درست نہیں لکھا، درست شعر کچھ یوں ہے
جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کہ ہو رشکِ فارسی
گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں
بحوالہ دیوانِ غالب نسخہٴ مہر مرتبہ مولانا غلام رسول مہر۔
اب تقطیع کیجیے تو کچھ اشکال پیدا نہ ہوگا۔
اور یہ بھی کہ ویب پر اکثر و بیشتر یہ شعر اسی طرح غلط لکھا ہے جس طرح آپ نے لکھا ہے اور اسی سے ہو سکتا ہے کچھ دوست یہ سمجھیں کہ غالب نے شعر غلط اور بے وزن لکھ مارا ہے۔

حضور یہ بات تو میرے ذہن میں ہی نہیں تھی کہ بے وزن مصرع لکھ مارا غالب نے۔
اشکال جو تھا وہ ”کیوں کہ“ پر تھا۔ یہاں کیونکر تو درست لگتا ہے مگر ”کیوں کہ“ سے مطلب واضح نہیں ہوا مجھ ناقص العقل پر۔ یا تو یوں کہوں کہ کیونکہ کو ”کیونکر“ کے معانی میں استعمال کیا ہے۔ لیکن لغات میں اس بات کی تصدیق نہیں ہوتی۔ :roll:
محمد وارث — اکتوبر 14، 2012 3:30 شام
حضور یہ بات تو میرے ذہن میں ہی نہیں تھی کہ بے وزن مصرع لکھ مارا غالب نے۔
اشکال جو تھا وہ ”کیوں کہ“ پر تھا۔ یہاں کیونکر تو درست لگتا ہے مگر ”کیوں کہ“ سے مطلب واضح نہیں ہوا مجھ ناقص العقل پر۔ یا تو یوں کہوں کہ کیونکہ کو ”کیونکر“ کے معانی میں استعمال کیا ہے۔ لیکن لغات میں اس بات کی تصدیق نہیں ہوتی۔ :roll:

تو اس صورت میں آپ کو صحیح اور درست شعر لکھ کر اسکی لغت پر بات کرنی چاہیے تھی نہ کہ غلط اور بے وزن شعر لکھ کر اس کی تقطیع طلب کرتے :)
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 14، 2012 3:33 شام
تو اس صورت میں آپ کو صحیح اور درست شعر لکھ کر اسکی لغت پر بات کرنی چاہیے تھی نہ کہ غلط اور بے وزن شعر لکھ کر اس کی تقطیع طلب کرتے :)

دو نسخے بشمول اردو ویب نسخہ کیونکر ہی لکھا ہے۔ اور غالباً گفتہ غالب میں بھی کیونکر ہے۔
فاتح — اکتوبر 14، 2012 6:21 شام
کیونکر کے بعد ”ہو“ سے ہ کہاں گئی؟
اگر یہ "کیونکر ہو" بھی ہے تب بھی اس "ہو" کی ہ وہیں گئی جہاں میر کے اس شعر میں "ہی" کی ہ گئی تھی۔ :)
اگر ہ کا گذشتہ حرف سے اتصال درست نہیں تو میرؔ کے درج ذیل شعر کی درست تقطیع کیونکر ممکن ہے؟
نہ ہونا ہی بھلا تھا سامنے اس چشم گریاں کے​
نظر اے ابرِ تر آپ ہی نہ آوے گا برس بہتر​
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 14، 2012 6:32 شام
اگر یہ "کیونکر ہو" بھی ہے تب بھی اس ہو کی تقطیع وہیں گئی جہاں میر کے اس شعر میں "ہی" کی ہے گئی تھی۔ :)

یہ بھی ٹھیک ہے۔ :grin:
فاتح — اکتوبر 14، 2012 7:41 شام
آج ایک ایس ایم ایس پے مجھے غالب کی ایک غزل موصول ہوئی جس کے ایک مصرعے کا وزن تھوڑا بحر سے خارج تھا۔ سوچا تصدیق کروں تو اردو ویب کے دیوانِ غالب پے پہنچا اور یہاں بھی وہی غلطی پائی۔
اردو ویب کے نسخہء دیوانِ غالب میں اتفاقاً پڑھنے میں آیا تو سوچا مخفی نہ رہے کہ غزل 4 کے پہلے شعر کا دوسرا مصرعہ معمولی سی املائی غلطی کے باعث بے وزن ہوگیا ہے۔
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا
”کیجیے“ بوزن فاعلن ہونے کی وجہ سے مصرعہ غلط ہوا۔ یہاں ”کیجے“ بوزن فعلن ہونا تھا۔
کاش اللہ میاں خود ٹائپنگ کا کام کر دیتے تو ایسی انسانی اغلاط نہ ہوتیں لیکن چونکہ انھوں نے کیا نہیں تو انسانوں کو کرنا پڑا اور ب مجبوری ہے کہ ایسی چھوٹی چھوٹی انسانی اغلاط وقت کے ساتھ ساتھ ہی دور ہو سکتی ہیں۔ :)
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 14، 2012 7:46 شام
کاش اللہ میاں خود ٹائپنگ کا کام کر دیتے تو ایسی انسانی اغلاط نہ ہوتیں لیکن چونکہ انھوں نے کیا نہیں تو انسانوں کو کرنا پڑا اور ب مجبوری ہے کہ ایسی چھوٹی چھوٹی انسانی اغلاط وقت کے ساتھ ساتھ ہی دور ہو سکتی ہیں۔ :)

فاتح بھائی اللہ میاں غالب کا دیوان یونی کوڈ میں ٹائپنگ کیوں کرینگے؟ یہ تو اللہ نے ہم پر چھوڑا ہے کہ تمھیں غالب سے محبت ہے تم ہی کرو یہ کام۔ :cool:
فاتح — اکتوبر 14، 2012 7:56 شام
فاتح بھائی اللہ میاں غالب کا دیوان یونی کوڈ میں ٹائپنگ کیوں کرینگے؟ یہ تو اللہ نے ہم پر چھوڑا ہے کہ تمھیں غالب سے محبت ہے تم ہی کرو یہ کام۔ :cool:
ہم نے درست کر دیا ہے اردو ویب نسخے میں۔
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 14، 2012 7:59 شام
ہم نے درست کر دیا ہے اردو ویب نسخے میں۔

بہت شکریہ۔ میرا تو کام ہی غلطیاں نکالنا ہے۔ :D
ممکن ہے آپ کو بار بار یہ زحمت کرنی پڑے۔ :p
فاتح — اکتوبر 14، 2012 8:01 شام
بہت شکریہ۔ میرا تو کام ہی غلطیاں نکالنا ہے۔ :D
ممکن ہے آپ کو بار بار یہ زحمت کرنی پڑے۔ :p
ضرور نکالیں۔۔۔ ویسے جو کتاب غلطیاں نکالنے کے لیے ہم نے آپ کو دی تھی، خدارا اس میں سے بھی نکال دیں۔ :laughing:
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 14، 2012 8:08 شام
ضرور نکالیں۔۔۔ ویسے جو کتاب غلطیاں نکالنے کے لیے ہم نے آپ کو دی تھی، خدارا اس میں سے بھی نکال دیں۔ :laughing:

اس کا کام بھی روز کی روٹین کی طرح جاری ہے.
عقدہ تو تب کھلے گا جب وہ "کتاب" منظر عام پر آئے گی.
بہر حال یہی کہونگا کہ غلطیاں نکالنا کافی محنت طلب کام ہے. اور یہ محنت آج کل بڑی دیانت داری کے ساتھ آپ کی دی گئی کتاب پر کر رہا ہوں جو کہ جلد ہی سب کے سامنے ہوگی. :)
فاتح — اکتوبر 14، 2012 8:11 شام
اس کا کام بھی روز کی روٹین کی طرح جاری ہے.
عقدہ تو تب کھلے گا جب وہ "کتاب" منظر عام پر آئے گی.
بہر حال یہی کہونگا کہ غلطیاں نکالنا کافی محنت طلب کام ہے. اور یہ محنت آج کل بڑی دیانت داری کے ساتھ آپ کی دی گئی کتاب پر کر رہا ہوں جو کہ جلد ہی سب کے سامنے ہوگی. :)
پروف ریڈنگ بلا شبہ بے حد محنت طلب کام ہے۔
کتنی غزلیں ہو گئیں؟؟
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 14، 2012 8:16 شام
پروف ریڈنگ بلا شبہ بے حد محنت طلب کام ہے۔
کتنی غزلیں ہو گئیں؟؟
تین سو...... نوے کی دھائی چل رہی ہے. تین سو ہی سمجھیں.
الف عین — اکتوبر 15، 2012 3:47 صبح
اغلاط کی نشان دہی کا شکریہ۔ میں بھی تصحیح کر دیتا ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%90-%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8-%D9%86%D8%B3%D8%AE%DB%82-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D9%88%DB%8C%D8%A8.53752/