کیا دیکھوں، سوچوں، روؤں، بھلاؤں، مٹاؤں وغیرہ ایک ہی غزل میں بطور قافیہ آ سکتے ہیں؟
استادِ محترم الف عین صاحب
استادِ محترم محمد یعقوب آسی صاحب
مزمل شیخ بسمل بھائی
استادِ محترم الف عین صاحب
استادِ محترم محمد یعقوب آسی صاحب
مزمل شیخ بسمل بھائی
”ایطاء“ باب افعال کا مصدر ہے، اس کے حروف اصلیہ ”و ط ء“ ہیں۔ ”وطئ“ کا ترجمہ ہے ”روندنا“ جبکہ ”ایطاء“ کا ترجمہ ہے روندوانا ، سوار کرانا ، موافقت کرنا۔ پھر جس طرح ”وطئ“ سے اصطلاحِ فقہ میں جماع مراد لیا جاتا ہے اسی طرح ”ایطاء“ سے اصطلاحِ شعر میں ”لفظا و معنا قافیہ دہرانا“ مراد لیا جاتا ہے۔ ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔
یا میرے اللہ!

اسامہ سرسری صاحب کے بالا کلام سے مہ جبین بہن کافی پریشان محسوس ہوئی ہیں کہ :
اس حوالے سے کچھ جسارت کرنا چاہوں گا کہ علامہ ، اسامہ اور مہ جبین تینوں جگہ ’’ مہ ‘‘ مختلف معنی و مفہوم لیے ہوئےہے ’’ علامہ ‘‘ میں مبالغہ کے لیے ، ’’ اسامہ ‘‘ میں تانیث لفظی کے طور پر ، جبکہ مہہ جبین میں بطور اسم (بمعنی چاند ) استعمال ہوا ۔
آپ کو شرمندہ کروں اور وہ بھی میں۔ توبہ توبہ۔