محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 3، 2014 7:14 صبح
دے کوئی طبیب آ کے ہمیں ایسی دوا بھی
لذت بھی رہے درد کی ، مل جائے شفا بھی
دم گھٹنے لگا سن کے وفاداری تمھاری
ہم کو تو نہ لگنے دی کبھی تم نے ہوا بھی
روح و بدن و طاقت اسی رب نے ہیں بخشے
اعمال ہوں اچھے تو وہی دے گا جزا بھی
ناداں! طلبِ علم خود آغازِ عمل ہے
پھر پوچھنا کیسا کہ عمل تم نے کیا بھی
اچھوں سے تو اچھائی سبھی اچھے ہیں کرتے
اچھا یہ ہے اچھائی کا قائل ہو برا بھی
ہے میرے خیالات کی پرواز جو محتاط
بدعت سے بھی بچنا ہے ، دکھانا ہے نیا بھی
محرومِ اجابت نہ سمجھ خود کو اسامہ!
ہے نعمتِ عظمیٰ تجھے توفیقِ دعا بھی
سید عاطف علی — اپریل 3، 2014 9:20 صبح
بہت ہی خوبصورت ہے۔ خصوصاً مطلع کا جواب نہیں۔واہ سرسری صاحب۔
۔اچھے ہیں کرتے۔کی جگہ ۔ کرتے ہیں اچھے۔شاید زیادہ مناسب رہے۔۔۔۔ یہ اچھائی والا مصرع بہت "اچھا " ہے۔

ابن رضا — اپریل 3، 2014 9:41 صبح

عمده قلم آرائی است . ڈیروں داد قبول هو
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 3، 2014 9:58 صبح
بہت ہی خوبصورت ہے۔ خصوصاً مطلع کا جواب نہیں۔واہ سرسری صاحب۔
۔اچھے ہیں کرتے۔کی جگہ ۔ کرتے ہیں اچھے۔شاید زیادہ مناسب رہے۔
اس لاجواب پسندیدگی کا بہت شکریہ۔۔۔۔
پہلے ”کرتے ہیں اچھے“ لکھا تھا ، مگر اس میں ذو معنی ہورہا ہے ، یعنی ”اچھے“ مخاطب بھی لگ رہا تھا اس لیے میں نے ”اچھے ہیں کرتے“ کرکے معنی فی البطن کو من البطن کرکے علی البطن کردیا۔

ایک بار پھر بہت شکریہ تعریف کا۔
جزاکم اللہ خیرا۔
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 3، 2014 9:59 صبح

عمده قلم آرائی است . ڈیروں داد قبول هو
پھول دینے ، تعریف کرنے اور حوصلہ افزائی فرمانے کا بہت شکریہ۔
جزاکم اللہ خیرا۔
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 3، 2014 10:01 صبح
یہ اچھائی والا مصرع بہت "اچھا " ہے۔
اچھا جی!

الف عین — اپریل 3، 2014 3:34 شام
خوب
ناداں! طلبِ علم خود آغازِ عمل ہے
پھر پوچھنا کیسا کہ عمل تم نے کیا بھی
ناداں کے ساتھ اگر ’تو‘ کا صیغہ ہو تو بہتر ہو۔
مقطع میں ’اجابت‘ لفظ ہٹا ہی دو تو اچھا ہے، کچھ اور کہا جائے کہ اس لفظ کے دوسرے معنی بھی ہوتے ہیں، جو زیادہ عام ہے
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 4، 2014 7:22 صبح
خوب
ناداں! طلبِ علم خود آغازِ عمل ہے
پھر پوچھنا کیسا کہ عمل تم نے کیا بھی
ناداں کے ساتھ اگر ’تو‘ کا صیغہ ہو تو بہتر ہو۔
مقطع میں ’اجابت‘ لفظ ہٹا ہی دو تو اچھا ہے، کچھ اور کہا جائے کہ اس لفظ کے دوسرے معنی بھی ہوتے ہیں، جو زیادہ عام ہے
توجہ کا بہت شکریہ استاد جی!
ناداں والا مصرع اس طرح کردوں؟
ناداں! طلبِ علم خود آغازِ عمل ہے
پھر
پوچھتے کیوں ہو کہ عمل تم نے کیا بھی
اور مقطع۔۔۔
محرومِ
عنایت نہ سمجھ خود کو اسامہ!
ہے نعمتِ عظمیٰ تجھے توفیقِ دعا بھی
الف عین — اپریل 4، 2014 6:13 شام
درست ہو گیا ہے اب۔
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 5، 2014 6:18 صبح
امان زرگر — دسمبر 26، 2017 3:13 شام
اک ادا سے دل چھلنی, اک ادا تسلی کی
یارِ مَن ستمگر بھی، یارِ مَن مسیحا بھی
ایک جگہ غزل نظر سے گزری تو درج بالا شعر بھی تھا اس غزل میں۔۔۔۔۔؟؟؟؟