رات ڈھلتی ہے دِن نکلتا ہے غزل نمبر 174 شاعر امین شارؔق

امین شارق — ستمبر 25، 2022 9:40 صبح
الف عین سر یاسر شاہ
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
رات ڈھلتی ہے دِن نکلتا ہے
یُوں جہاں کا ِنظام چلتا ہے
جو اکڑ کر زمیں پہ چلتا ہے
ایک نا ایک دِن پِھسلتا ہے
رات اور دِن بدلتے رہتے ہیں
ایک کو دُوسرا نِگلتا ہے
آگے بڑھنے کی نفسا نفسی میں
ایک کو دُوسرا کُچلتا ہے
فانی دُنیا میں ہے ثبات کہاں؟
چڑھتا سُورج بھی دیکھ ڈھلتا ہے
میرے رب کی ہی مہربانی سے
آنے والا عذاب ٹلتا ہے
جِس کا جو ہے نصیب ملتا ہے
جلنے والا ہمیشہ جلتا ہے
عشق تو ہی بتا کہ پروانہ
حُسن کی آگ میں کیوں جلتا ہے؟
سب سنبھلتے ہیں پر، نگاہوں سے
گِرنے والا کہاں سنبھلتا ہے
زِندگی کیوں گزاری عِصیاں میں؟
کس لئے ہاتھ اب تُو ملتا ہے؟
جب سے دیکھا ہے تُجھ کو جانِ غزل
دِل بہت سِینے میں مچلتا ہے
جس طرح بدلیں ہیں ترے تیور
ایسے موسم بھی کب بدلتا ہے؟
چھوڑتا جو نہیں اُمیدِ بہار
ایک دن وہ شجر بھی پھلتا ہے
تُو سُناتا ہی رہ غزل
شارؔق
تیرے شعروں سے دِل بہلتا ہے
یاسر شاہ — ستمبر 25، 2022 10:39 صبح
حُسن کی آگ میں کیوں جلتا ہے؟
یہ مصرع بے وزن ہے باقی غزل اچھی ہے ۔ماشاء اللہ
امین شارق — ستمبر 25، 2022 2:38 شام
یہ مصرع بے وزن ہے باقی غزل اچھی ہے ۔ماشاء اللہ
بہت شکریہ سر میں وزن میں لانے کی کوشش کرتا ہوں۔
امین شارق — ستمبر 25، 2022 2:42 شام
روفی بھائی شکریہ غزل کی پسندیدگی کے لئے۔۔
امین شارق — ستمبر 25، 2022 3:42 شام
شکریہ صریر بھائی مقبول بھائی
الف عین — ستمبر 26، 2022 5:02 صبح
آگے بڑھنے کی نفسا نفسی میں
ایک کو دُوسرا کُچلتا ہے
میرے خیال میں یہاں نفسا نفسی درست نہیں، بھاگ دوڑ، گڑبڑ، ہوڑ، دوڑ جیسے الفاظ استعمال کرنا بہتر ہو گا، نفسا نفسی میں تو کچھ ہوش ہی نہیں ہونا چاہیے کہ کہاں جانا ہے، کس سے آگے نکلنا ہے!
فانی دُنیا میں ہے ثبات کہاں؟
چڑھتا سُورج بھی دیکھ ڈھلتا ہے
دیکھ بھرتی کا لفظ ناگوار ہے
باقی اشعار درست ہیں سوائے یاسر شاہ کے بتائے مصرع کے
امین شارق — ستمبر 27، 2022 8:38 شام
الف عین سر یاسر شاہ سر تینوں اشعار کیا اب درست ہوگئے ہیں۔
رات ڈھلتی ہے دِن نکلتا ہے
یُوں جہاں کا ِنظام چلتا ہے
جو اکڑ کر زمیں پہ چلتا ہے
ایک نا ایک دِن پِھسلتا ہے
رات اور دِن بدلتے رہتے ہیں
ایک کو دُوسرا نِگلتا ہے
آگے بڑھنے کی جلد بازی میں
ایک کو دُوسرا کُچلتا ہے
فانی دُنیا میں ہے ثبات کہاں؟
چڑھتا سورج اخیر ڈھلتا ہے

میرے رب کی ہی مہربانی سے
آنے والا عذاب ٹلتا ہے
جِس کا جو ہے نصیب ملتا ہے
جلنے والا ہمیشہ جلتا ہے
عشق تو ہی بتا کہ پروانہ
کِس لئے روشنی میں جلتا ہے؟

سب سنبھلتے ہیں پر، نگاہوں سے
گِرنے والا کہاں سنبھلتا ہے
زِندگی کیوں گُزاری عِصیاں میں؟
کس لئے ہاتھ اب تُو ملتا ہے؟
جب سے دیکھا ہے تُجھ کو جانِ غزل
دِل بہت سِینے میں مچلتا ہے
جس طرح بدلیں ہیں ترے تیور
ایسے موسم بھی کب بدلتا ہے؟
چھوڑتا جو نہیں اُمیدِ بہار
ایک دن وہ شجر بھی پھلتا ہے
تُو سُناتا ہی رہ غزل شارؔق
تیرے شعروں سے دِل بہلتا ہے
الف عین — ستمبر 29، 2022 4:48 صبح
یہ تینوں اشعار قافیہ بندی ہی زیادہ لگ رہے ہیں، انہیں نکال ہی دو
اشرف علی — اکتوبر 11، 2022 8:01 شام
تُو سُناتا ہی رہ غزل شارؔق
تیرے شعروں سے دِل بہلتا ہے
وااااہ ! بہت خوووب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%DA%88%DA%BE%D9%84%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D8%AF%D9%90%D9%86-%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1-174-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86-%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D8%94%D9%82.118887/