ساقی۔ — اپریل 26، 2014 8:35 صبح
رات ہی تو ہے آخر
رات کٹ ہی جائے گی
بے پناہ تاریکی میں
راستے جو کھو جائیں
تم ذرا نہ گھبرانا
ڈر کے رک جو جاو گے
اپنے فیصلے پر پھر
تم سدا پچھتاو گے
رات ہی تو ہے آخر
رات کٹ ہی جائے گی
تیرگی کے پہلو سے
کرن کوئی پھوٹے گی
رات کی پیشانی پر
اک ستارہ چمکے گا
عزم گر بڑے ہوں تو
مشکلیں بھی بھاری ہیں
حوصلے جواں رکھنا
منزلیں تمھاری ہیں
تقطیع
جناب الف عین صاحب
جناب محمد اسامہ سَرسَری صاحب
جناب ابن رضا صاحب
اور تمام اساتذہ اکرام
ابن رضا — اپریل 26، 2014 9:53 صبح
اچھی کوشش هے ساقی صاحب. تھوڑی سی کانٹ چھانٹ سے نکھار آ جائے گا.
ساقی۔ — اپریل 26، 2014 11:07 صبح
کانٹ چھانٹ کا منتظر ہوں۔
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 26، 2014 12:59 شام
وزن؟
ساقی۔ — اپریل 26، 2014 1:21 شام
برابر ہے۔
اگر آپ پہلی پوسٹ میں "تقطیع" پر کلک کرتے تو وزن مل جاتا۔ بہر حال یہ رہا۔
فاعلن مفاعیلن
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 26، 2014 4:13 شام
اگر آپ پہلی پوسٹ میں "تقطیع" پر کلک کرتے تو وزن مل جاتا۔ بہر حال یہ رہا۔
فاعلن مفاعیلن
درج ذیل مصرع وزن سے خارج ہیں:
بے پناہ تاریکی میں
تم سدا پچھتاو گے
کرن کوئی پھوٹے گی
رات کی پیشانی پر
ساقی۔ — اپریل 26، 2014 4:52 شام
درج ذیل مصرع وزن سے خارج ہیں:
بے پناہ تاریکی میں
تم سدا پچھتاو گے
کرن کوئی پھوٹے گی
رات کی پیشانی پر
اسے وزن میں کیسے لائیں؟
ابن رضا — اپریل 26، 2014 5:08 شام
نشست و برخاست میں تبدیلی سے یا نئے لفظوں سے
تیرگی کے بڑھتے هی
راستے جو کھو جایں
جاو گھاو کھاو بروزن درد باندھا جاتا هے
هو نه تم کو پچھتاوا
......
ماه نور نکلے گا
رات کے اندھیروں کی
موت بن کے چمکے گا
............
عزم گر مصمم هوں
مشکلیں نه بھاری هیں
ساقی۔ — اپریل 26، 2014 6:40 شام
نشست و برخاست میں تبدیلی سے یا نئے لفظوں سے
تیرگی کے بڑھتے هی
راستے جو کھو جایں
جاو گھاو کھاو بروزن درد باندھا جاتا هے
هو نه تم کو پچھتاوا
......
ماه نور نکلے گا
رات کے اندھیروں کی
موت بن کے چمکے گا
............
عزم گر مصمم هوں
مشکلیں نه بھاری هیں
بہت شکریہ بھائی جی۔
رات ہی تو ہے آخر
رات کٹ ہی جائے گی
تیرگی کے بڑھتے ہی
راستے جو کھو جائیں
تم ذرا نہ گھبرانا
ڈر کے رک جو جاو گے
اپنے فیصلے پر پھر
ہو گا تم کو پچھتاوا
رات ہی تو ہے آخر
رات کٹ ہی جائے گی
تیرگی کے پہلو سے
ماہ نور نکلے گا
رات کے اندھیروں کی
موت بن کے چمکے گا
عزم گر مصمم ہوں
مشکلیں نہ بھاری ہیں
حوصلے جواں رکھنا
منزلیں تمھاری ہیں
ابن رضا — اپریل 26، 2014 8:37 شام
بہت شکریہ بھائی جی۔
رات ہی تو ہے آخر
رات کٹ ہی جائے گی
تیرگی کے بڑھتے ہی
راستے جو کھو جائیں
تم ذرا نہ گھبرانا
ڈر کے رک جو جاو گے
اپنے فیصلے پر پھر
ہو گا تم کو پچھتاوا
رات ہی تو ہے آخر
رات کٹ ہی جائے گی
تیرگی کے پہلو سے
ماہ نور نکلے گا
رات کے اندھیروں کی
موت بن کے چمکے گا
عزم گر مصمم ہوں
مشکلیں نہ بھاری ہیں
حوصلے جواں رکھنا
منزلیں تمھاری ہیں
ڈر کے رک گئے جو تم
فیصلے په اپنے پھر
.......
رات ہی تو ہے آخر
یه بھی کٹ ہی جائے گی
محمد علم اللہ — اپریل 26، 2014 10:45 شام
خوب آج کل شاعری کی مشق ہو رہی ۔
ماشاء اللہ
ساقی بھائی
آپ کے لئے بس یہی کہوں گا لگے رہو منا بھائی

الف عین — اپریل 27، 2014 2:23 صبح
ابن رضا کی اصلاح کے بعد بہت بہتر ہو گئی ہے نظم،
لیکن دوسرا مصرع ویسے ہی رہنے دیا جائے، رات کا دہرایا جانا برا نہیں لگتا۔
البتہ مشکلیں نہ بھاری ہیں اچھا نیانیہ نہیں ہے، اسے بدل دیں۔
ماہ نور؟ یہاں محض چاند کا محل ہے، چاندنی کا نہیں
۔۔چاند پھر بھی نکلے گا
ساقی۔ — اپریل 27، 2014 9:17 صبح
رات ہی تو ہے آخر
رات کٹ ہی جائے گی
تیرگی کے بڑھتے ہی
راستے جو کھو جائیں
تم ذرا نہ گھبرانا
ڈر کے رک گئے جو تم
فیصلے پہ اپنے پھر
ہو گا تم کو پچھتاوا
رات ہی تو ہے آخر
رات کٹ ہی جائے گی
تیرگی کے پہلو سے
چاند پھر بھی نکلے گا
رات کے اندھیروں کی
موت بن کے چمکے گا
عزم گر مصمم ہوں
سوچ مت ذرا بھی کہ یہ
راہ میں شکاری ہیں
حوصلے جواں رکھنا
منزلیں تمھاری ہیں
ابن رضا — اپریل 27، 2014 9:25 صبح
که کوتاه شمار کیا جاتا هے. کچھ اور لایں
ساقی۔ — اپریل 27، 2014 9:28 صبح
سوچ مت ذرا بھی یہ؟
سوچ مت ذرا بھی تُو؟
ابن رضا — اپریل 27، 2014 9:33 صبح
عزم گر مصمم هوں
بھی اضافی هو گیا اب
ابن رضا — اپریل 27، 2014 9:34 صبح
سوچ مت ذرا بھی یہ؟
سوچ مت ذرا بھی تُو؟
تو اور تم کو ایک نظم میں ایک ساتھ نهیں لایا جاتا
ساقی۔ — مئی 11، 2014 7:55 صبح
رات ہی تو ہے آخر
رات کٹ ہی جائے گی
تیرگی کے بڑھتے ہی
راستے جو کھو جائیں
تم ذرا نہ گھبرانا
ڈر کے رک گئے جو تم
فیصلے پہ اپنے پھر
ہو گا تم کو پچھتاوا
رات ہی تو ہے آخر
رات کٹ ہی جائے گی
تیرگی کے پہلو سے
چاند پھر بھی نکلے گا
رات کے اندھیروں کی
موت بن کے چمکے گا
سوچ مت ذرا بھی یہ
راہ میں شکاری ہیں
حوصلے جواں رکھنا
منزلیں تمھاری ہیں