بن عشق ملے دھول یہ منظور نہیں
بن آب کھلے پھول یہ دستور نہیں
کیسے نہ رہے چین سے خالی وہ دل
جو یاد خدا سے کبھی معمور نہیں
بن آب کھلے پھول یہ دستور نہیں
کیسے نہ رہے چین سے خالی وہ دل
جو یاد خدا سے کبھی معمور نہیں
سر کوئی تجویز؟
سر اس طرح خوبصورت تو ضرور لگے گی مگر رباعی کے اوزان میں نہ رہے گی
سر اگر پہلا مصرع یوں کردیا جائے تو کیسا رہے گا
منظور کو مقدور کر نا زیادہ بہتر ہے۔ یہاں ۔
بہت شکریہ سر جی سلامت رہیں
وہ غلطی سے کاپی پیسٹ ہوگئے تھے سر شکریہ اب ہٹا دیئے ہیں
سر یعقوب آسی صاحب سے اور الف عین صاحب سے گزارش ہے کہ راہنمائی فرمائیں نوازش ہو گی