رباعی برائے اصلاح

قتا دہ شا ذلی — مارچ 12، 2015 5:59 شام
بن عشق ملے دھول یہ منظور نہیں
بن آب کھلے پھول یہ دستور نہیں
کیسے نہ رہے چین سے خالی وہ دل
جو یاد خدا سے کبھی معمور نہیں
ادب دوست — مارچ 12، 2015 6:21 شام
بن عشق ملے دھول یہ منظور نہیں

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ رباعی کے پورے خیال سے یہ مصرع مطابقت نہیں رکھتا
بن آب کھلے پھول یہ دستور نہیں
کیسے نہ رہے چین سے خالی وہ دل
جو یاد خدا سے کبھی معمور نہیں

یہ بہت اچھا ہے
ادب دوست — مارچ 13، 2015 12:46 شام
محترم الف عین صاحب نے میرے تبصرے پر متفق کا ٹیگ چسپاں کیا ہے - یہ مجھ ناچیز کے لئے اعزاز ہے - بہت نوازش -
قتا دہ شا ذلی — مارچ 14، 2015 7:37 صبح
بہت شکریہ سر
قتا دہ شا ذلی — مارچ 14، 2015 7:38 صبح
میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ رباعی کے پورے خیال سے یہ مصرع مطابقت نہیں رکھتا
یہ بہت اچھا ہے
سر کوئی تجویز؟
لئیق احمد — مارچ 14، 2015 8:13 صبح
میں زیادہ شاعری سے واقفیت نہیں رکھتا مگر یوں لگتا ہے کہ اگر رباعی کی شکل یوں ہوتی تو زیادہ اچھی نا لگتی؟
بن عشق ملے دھول یہ منظور نہیں ہے
بن آب کھلے پھول یہ دستور نہیں ہے
کیسے نہ رہے چین سے خالی وہ دل کہ
جو یاد خدا سے کبھی معمور نہیں ہے

اپنی رائے سے ضرور نوازیے :)
ادب دوست — مارچ 14، 2015 10:00 صبح

قتا دہ شا ذلی صاحب ، لئیق احمد صاحب نے جو راے دی ہے احقر اسے اپنی دانست میں ممکنہ بہتر سمجھتا ہے
بن عشق ملے دھول یہ منظور نہیں ہے
بن آب کھلے پھول یہ دستور نہیں ہے
کیسے نہ رہے چین سے خالی وہ دل کہ
جو یاد خدا سے کبھی معمور نہیں ہے
قتا دہ شا ذلی — مارچ 15، 2015 2:54 صبح
میں زیادہ شاعری سے واقفیت نہیں رکھتا مگر یوں لگتا ہے کہ اگر رباعی کی شکل یوں ہوتی تو زیادہ اچھی نا لگتی؟
بن عشق ملے دھول یہ منظور نہیں ہے
بن آب کھلے پھول یہ دستور نہیں ہے
کیسے نہ رہے چین سے خالی وہ دل کہ
جو یاد خدا سے کبھی معمور نہیں ہے
اپنی رائے سے ضرور نوازیے :)
سر اس طرح خوبصورت تو ضرور لگے گی مگر رباعی کے اوزان میں نہ رہے گی
قتا دہ شا ذلی — مارچ 15، 2015 2:56 صبح
قتا دہ شا ذلی صاحب ، لئیق احمد صاحب نے جو راے دی ہے احقر اسے اپنی دانست میں ممکنہ بہتر سمجھتا ہے
سر اگر پہلا مصرع یوں کردیا جائے تو کیسا رہے گا
قانونِ خدائی کا یہ منشور نہیں
بن آب کھلے پھول یہ دستور نہیں
کیسے نہ رہے چین سے خالی وہ دل
جو یاد خدا سے کبھی معمور نہیں
سید عاطف علی — مارچ 15، 2015 4:38 صبح
صرف ۔عشق اور دھول ۔ کی جگہ باہم بدل دی جائے تو ؟
ویسے رباعی یقیناً بہت اچھی ہے ۔
قتا دہ شا ذلی — مارچ 15، 2015 7:36 صبح
بہت شکریہ عاطف بھائی یعنی آپ یہ فرماتے ہیں کہ
بن دھول ملے عشق یہ منظور نہیں؟
سید عاطف علی — مارچ 15، 2015 8:30 صبح
بہت شکریہ عاطف بھائی یعنی آپ یہ فرماتے ہیں کہ
بن دھول ملے عشق یہ منظور نہیں؟
منظور کو مقدور کر نا زیادہ بہتر ہے۔ یہاں ۔
قتا دہ شا ذلی — مارچ 15، 2015 8:57 صبح
منظور کو مقدور کر نا زیادہ بہتر ہے۔ یہاں ۔
بہت شکریہ سر جی سلامت رہیں
کیا اب یہ فائنل ہے احباب کی نظر میں؟
بن دھول ملے عشق یہ مقدور نہیں
بن آب کھلے پھول یہ دستور نہیں
کیسے نہ رہے چین سے خالی وہ دل
جو یاد خدا سے کبھی معمور نہیں
سید عاطف علی — مارچ 15، 2015 9:19 صبح
کچھ الفاظ غیر ضروری زیادہ کر دیے آپ نے کیوں ؟مثلاً ، باقی رباعی بہت اچھی ہے۔
بن آب کھلے پھول یہ دستور نہیں ہے
کیسے نہ رہے چین سے خالی وہ دل کہ
قتا دہ شا ذلی — مارچ 15، 2015 9:30 صبح
کچھ الفاظ غیر ضروری زیادہ کر دیے آپ نے کیوں ؟مثلاً ، باقی رباعی بہت اچھی ہے۔
بن آب کھلے پھول یہ دستور نہیں ہے
کیسے نہ رہے چین سے خالی وہ دل کہ
وہ غلطی سے کاپی پیسٹ ہوگئے تھے سر شکریہ اب ہٹا دیئے ہیں
الف عین — مارچ 15، 2015 10:36 صبح
لیکن لفظ دھول کو ہی استعمال کرنے کی کیا مجبوری ہے؟ مجھے کم از کم دھول اور عشق میں کوئی ربط راست محسوس نہیں ہوتا۔
ادب دوست — مارچ 15، 2015 11:48 صبح
سر اگر پہلا مصرع یوں کردیا جائے تو کیسا رہے گا
قانونِ خدائی کا یہ منشور نہیں

اس میں مضمون تو وہی ہے جو پوری رباعی میں ہے مگر قانون کا منشور سے بات بے مزہ لگتی ہے
اصلاح کے لئے یہاں اساتذہ موجود ہیں - یعقوب آسی ، الف عین کو میں جانتا ہوں شائد اور بھی ہوں -
قتا دہ شا ذلی — مارچ 17، 2015 8:05 صبح
اس میں مضمون تو وہی ہے جو پوری رباعی میں ہے مگر قانون کا منشور سے بات بے مزہ لگتی ہے
اصلاح کے لئے یہاں اساتذہ موجود ہیں - یعقوب آسی ، الف عین کو میں جانتا ہوں شائد اور بھی ہوں -
سر یعقوب آسی صاحب سے اور الف عین صاحب سے گزارش ہے کہ راہنمائی فرمائیں نوازش ہو گی
الف عین — مارچ 23، 2015 3:38 صبح
میں تو یہی کہوں گا کہ دھول اور عشق میں کوئی معنوی ربط نہیں۔ آخر دھول استعمال کرنے کی کیا مجبوری ہے؟
ادب دوست — مارچ 23، 2015 7:38 صبح
یں تو یہی کہوں گا کہ دھول اور عشق میں کوئی معنوی ربط نہیں۔ آخر دھول استعمال کرنے کی کیا مجبوری ہے؟

استادِگرامی ، قتا دہ شا ذلی کی ذیل میں درج کاوش عشق اور دھول سے ہٹ کر ہے-
سر اگر پہلا مصرع یوں کردیا جائے تو کیسا رہے گا
قانونِ خدائی کا یہ منشور نہیں
بن آب کھلے پھول یہ دستور نہیں
کیسے نہ رہے چین سے خالی وہ دل
جو یاد خدا سے کبھی معمور نہیں

اس پر رہنمائی کی درخواست ہے-

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B9%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.80716/