محمد ریحان قریشی — جون 5، 2016 3:00 شام
جناب محمد تابش صدیقی کی پوسٹ دیکھ کر تحریک اردو والوں کے لیے ایک رباعی لکهی ہے ویسے بدلنے کی ہمت نہیں ہے مگر پهر بهی ....
جو یاں ہے زینتِ لباں اردو ہے
جس کا ہے منفرد بیاں اردو ہے
اس کا نہ نفاذ ہو وطن میں کیونکر
بے مثل فقط ہے جو زباں اردو ہے
محمد ریحان قریشی — جون 5، 2016 3:03 شام
محمد وارث — جون 5، 2016 3:21 شام
خوب ہے قریشی صاحب

محمد تابش صدیقی — جون 5، 2016 3:34 شام
بہت خوب
La Alma — جون 5، 2016 3:55 شام
بہت عمدہ . تھوڑی اور توجہ سے اس خیال کو آپ مزید بھی نکھار سکتے ہیں .
عباد اللہ — جون 5، 2016 5:47 شام
وااہ
بہت خوب ریحان
عباد اللہ — جون 5، 2016 5:50 شام
اس کی خوبی کا شہرہ ہے ہر دو جہاں
جز اردو ڈھونڈو یہ سلاست ہے کہاں
دنیا میں نہیں ہے اس سے بڑھ کر کوئی اور
ہو جائے اب آخر نافذ یہ زباں
اس کی بھی اصلاح کر دیجئے
الف عین سر
محمد وارث سر
الف عین — جون 6، 2016 2:13 صبح
ریحان کی رباعی خوب ہے۔
عباد کی بھی خوب ہے، لیکن مجھے شک ہو رہا ہے کہ اس مصرع میں ’ہے‘ زائد ہے
دنیا میں نہیں ہے اس سے بڑھ کر کوئی اور
محمد وارث — جون 6، 2016 5:48 صبح
اس کی خوبی کا شہرہ ہے ہر دو جہاں
جز اردو ڈھونڈو یہ سلاست ہے کہاں
دنیا میں نہیں ہے اس سے بڑھ کر کوئی اور
ہو جائے اب آخر نافذ یہ زباں
اس کی بھی اصلاح کر دیجئے
الف عین سر
محمد وارث سر
خوب رباعی ہے عباد اللہ صاحب

محمد تابش صدیقی — جون 6، 2016 8:04 صبح
بہت خوب عباد بھائی.
آپ بھی اسے
مقابلے میں ضرور بھیجیں
عباد اللہ — جون 6، 2016 8:06 صبح
بہت خوب عباد بھائی.
آپ بھی اسے
مقابلے میں ضرور بھیجیں
بھیا مجھ سے تو یہ پڑھی ہی نہیں جا رہی مقابلے میں کیا بھیجوں
محمد تابش صدیقی — جون 6، 2016 8:13 صبح
بھیا مجھ سے تو یہ پڑھی ہی نہیں جا رہی مقابلے میں کیا بھیجوں
مقابلے کا دامن وسیع ہے. اس پر مطمئن نہیں تو قطعہ، نظم، شعر وغیرہ ہی بھیج دو.
عباد اللہ — جون 6، 2016 8:13 صبح
مقابلے کا دامن وسیع ہے. اس پر مطمئن نہیں تو قطعہ، نظم، شعر وغیرہ ہی بھیج دو.
جی ضرور انشا اللہ