کاشف بھائی، اردو محفل اچھی ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس پر سبھی سب گنوں پورے ہوں۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے میں
ایک طنزیہ مراسلے پر بڑے بڑوں کے ردِ عمل دیکھ کر حیران رہ گیا۔ بابائے تحریف
محمد خلیل الرحمٰن صاحب کی شوخئِ اندیشہ کی وہ درگت بنائی گئی ہے کہ میں ان کی جگہ ہوتا تو احتجاجاً اردو لکھنا، پڑھنا، بولنا ہی چھوڑ دیتا۔

کسی شخص کی لیاقت قطعی طور پر اس کی کامرانی کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ اردو کے بڑے بڑے علما گزرے ہیں۔ شعر گوئی اکثر کے بس سے باہر کی شے رہی ہے۔ مصنف بحر الفصاحت مولوی نجم الغنی اور ملک العزیز خالد اس کی واضح مثالیں ہیں۔ جہاں تک آپ کا تعلق ہے تو میں آپ کے شوق اور موزونئِ طبع کا قتیل ہوں۔ میرا کہا لکھ لیجیے کہ یہ دونوں چیزیں بشرطِ نصیب آپ کو بہت اونچا اڑائیں گی۔ انشاء اللہ۔ بس گھبرائیے گا نہیں۔ سیکھتے رہیے۔ چلتے رہیے۔