رسوا ہوئے ہیں وہ سرِ بازار عشق میں - فرحان محمد خان

فرحان محمد خان — جنوری 9، 2018 12:52 شام
رسوا ہوئے ہیں وہ سرِ بازار عشق میں
بن کے جو لوگ آئے خریدار عشق میں
کیسے کوئی وہ سمجھے محبت کیے بغیر
کہتے ہیں جو بھی صاحبِ اسرار عشق میں
منصور سے یہ پوچھیو دے گا جواب وہ
سر دینا کیوں ضروری ہے سرکار عشق میں
مجھ سے کہا یہ عشق نے کافر ہے تُو مرا
مارے گا تجھ کو کوئی مرے یار عشق میں
مجھ سے کیا سوال یہ دل نے جواب دے
کیوں ہوتا ہے یوں آدمی سرشار عشق میں
عشقِ خدا کی بات ہے ایسے نہ کیجئے
کر لیجئے نہ خود کو بھی سرشار عشق میں
فرحان جی جو کہتے ہو سچ کہتے ہو مگر
یہ بھی کہو کہ تم ہو گرفتار عشق میں​
فرحان محمد خان — جنوری 9، 2018 12:53 شام
سر الف عین
الف عین — جنوری 9، 2018 4:44 شام
رسوا ہوئے ہیں وہ سرِ بازار عشق میں
بن کے جو لوگ آئے خریدار عشق میں
÷÷÷عشق نام کیا کوئی بازار ہے کیا؟
کیسے کوئی وہ سمجھے محبت کیے بغیر
کہتے ہیں جو بھی صاحبِ اسرار عشق میں
÷÷یہاں بھی ردیف کا محل نہیں۔
منصور سے یہ پوچھیو دے گا جواب وہ
سر دینا کیوں ضروری ہے سرکار عشق میں
÷÷ٹھیک
مجھ سے کہا یہ عشق نے کافر ہے تُو مرا
مارے گا تجھ کو کوئی مرے یار عشق میں
مجھ سے کیا سوال یہ دل نے جواب دے
کیوں ہوتا ہے یوں آدمی سرشار عشق میں
عشقِ خدا کی بات ہے ایسے نہ کیجئے
کر لیجئے نہ خود کو بھی سرشار عشق میں
فرحان جی جو کہتے ہو سچ کہتے ہو مگر
یہ بھی کہو کہ تم ہو گرفتار عشق میں
÷÷÷یہ چاروں اشعار محض تک بندی لگتے ہیں۔ خیالات واضح نہیں یا خاص نہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%88%DB%81-%D8%B3%D8%B1%D9%90-%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1-%D8%B9%D8%B4%D9%82-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%81%D8%B1%D8%AD%D8%A7%D9%86-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AE%D8%A7%D9%86.99754/