روز جینے کا ارادہ کرکے (برائے اصلاح)

Abbas Swabian — مئی 18، 2016 4:15 شام
روز جینے کا ارادہ کرکے
خود کو مرنے کی دعا دیتا ہوں
شاہد شاہنواز — مئی 20، 2016 8:24 صبح
وزن کے اعتبار سے تو درست ہے، تاہم عقلی اعتبار سے ہمیں ٹھیک نہیں لگتا۔
زندگی ایک نعمت ہے۔ جینے کا ارادہ ایک اچھی بات۔ مرنے کی دعا تو بد دعا ہوئی اور اگر یہ شعری اعتبار سے (ذہنی کیفیت یا دلی رجحان کی بناء پر) درست معلوم ہوا ہو تو اس کا سبب درج نہیں۔
محمد ریحان قریشی — مئی 20، 2016 8:41 صبح
مطالعہ خوب جاری رکھیے ساتھ ساتھ ۔ شعر موزوں ہے یہ اچھا شگون ہے فی الحال تو۔
عباد اللہ — مئی 21، 2016 4:30 صبح
جینے کا ارادہ ایک اچھی بات۔ مرنے کی دعا تو بد دعا
ہماری طرف سے تو صاحب بہت داد کہ قوم کا عمومی رویہ آپ نے اچھا نظم کیا
ایسے کاہل ہیں کہ مرنے کے لئے بھی اللہ کا انتظار کرتے ہیں حالانکہ اگر محنت پر کمر کس لی جائے تو بیسیوں اور طریقے رائج ہیں:)
شکیب — مئی 21، 2016 7:54 صبح
محفل پر اناؤنس کردیں تو اجتماعی دعا ہو جائے گی۔ :)
تفنن برطرف۔ شعر ٹھیک ہے فنی اور عقلی دونوں اعتبار سے۔ گو کہ میرے مسلک کا نہیں۔
Abbas Swabian — مئی 21، 2016 8:30 صبح
اصل جینا یہ ہے کہ انسان کا روح ذکر خدا سے زندہ ہو اور جینے سے مراد یہ زندگی ہے۔ اور خود کو مرنے کی دعا دیتا ہوں میں خود سے مراد نفس اور نفسانی خواہشات ہیں۔
وزن کے اعتبار سے تو درست ہے، تاہم عقلی اعتبار سے ہمیں ٹھیک نہیں لگتا۔
زندگی ایک نعمت ہے۔ جینے کا ارادہ ایک اچھی بات۔ مرنے کی دعا تو بد دعا ہوئی اور اگر یہ شعری اعتبار سے (ذہنی کیفیت یا دلی رجحان کی بناء پر) درست معلوم ہوا ہو تو اس کا سبب درج نہیں۔

مطالعہ خوب جاری رکھیے ساتھ ساتھ ۔ شعر موزوں ہے یہ اچھا شگون ہے فی الحال تو۔

ہماری طرف سے تو صاحب بہت داد کہ قوم کا عمومی رویہ آپ نے اچھا نظم کیا
ایسے کاہل ہیں کہ مرنے کے لئے بھی اللہ کا انتظار کرتے ہیں حالانکہ اگر محنت پر کمر کس لی جائے تو بیسیوں اور طریقے رائج ہیں:)

محفل پر اناؤنس کردیں تو اجتماعی دعا ہو جائے گی۔ :)
تفنن برطرف۔ شعر ٹھیک ہے فنی اور عقلی دونوں اعتبار سے۔ گو کہ میرے مسلک کا نہیں۔
شکیب — مئی 21، 2016 8:37 صبح
خود سے مراد نفس اور نفسانی خواہشات ہیں۔
یہ مطلب کے لیے قاری کو آپ کی طرف رجوع کرنا ضروری ہوجائے گا۔
Abbas Swabian — مئی 21، 2016 8:43 صبح
بھائی جان دراصل مبتدی ہوں اسلئے مسلسل اصلاح کی ضرورت رہیگی۔
یہ مطلب کے لیے قاری کو آپ کی طرف رجوع کرنا ضروری ہوجائے گا۔
عبیر خان — مئی 21، 2016 8:43 صبح
روز جینے کا ارادہ کرکے
خود کو مرنے کی دعا دیتا ہوں
یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ عجیب سا شعر ہے۔
عباد اللہ — مئی 21، 2016 8:45 صبح
میں نے اس شعر پر ایک تفصیلی نوٹ لکھا تھا جس میں معاصر نقادوں کی دوستی نبھانے کی روش کا ذکر تھا اور شعر کے معنی ایک وسیع کینویس میں بیان کرنے کے نام پر قاری کے ساتھ جو مذاق کیا جاتا ہے اس کی تفصیل بیان کی تھی مثال اس شعر کی لے کر یہی معنی بیان کئے تھے جو اب فاضل شاعر نے بتائے ہیں
جواب ارسال کریں پر کلک کرتے ہی بجلی چلی گئی اور سب محنت رائیگاں:)
یہ مطلب کے لیے قاری کو آپ کی طرف رجوع کرنا ضروری ہوجائے گا۔
شکیب — مئی 21، 2016 8:45 صبح
یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ عجیب سا شعر ہے۔
محترمہ، شاعر کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے تبصرہ کریں۔
میرا مطلب ہے ذرا نرم لہجے میں
شکیب — مئی 21، 2016 8:46 صبح
میں نے اس شعر پر ایک تفصیلی نوٹ لکھا تھا جس میں معاصر نقادوں کی دوستی نبھانے کی روش کا ذکر تھا اور شعر کے معنی ایک وسیع کینویس میں بیان کرنے کے نام پر قاری کے ساتھ جو مذاق کیا جاتا ہے اس کی تفصیل بیان کی تھی مثال اس شعر کی لے کر یہی معنی بیان کئے تھے جو اب فاضل شاعر نے بتائے ہیں
جواب ارسال کریں پر کلک کرتے ہی بجلی چلی گئی اور سب محنت رائیگاں:)
انا للہ۔۔۔۔
شاہد شاہنواز — مئی 21، 2016 8:48 صبح
روز جینے کا ارادہ کرکے​
خود کو مرنے کی دعا دیتا ہوں
۔۔۔۔
ایک طرف جینے کا ارادہ ہے، دوسری طرف مرنے کی دعا اور دونوں ایک دوسرے کے خلاف محسوس ہوتے ہیں۔ نفسانی خواہشات اس سے مراد لی جائیں یا نہیں، یہ فیصلہ قاری پر چھوڑنا پڑے گا اور شعر میں نفسانی خواہشات کی طرف اشارہ ہے، اس بات کا دفاع شعر نہیں کرسکتا، جہاں تک ہمیں محسوس ہوا۔​
عبیر خان — مئی 21، 2016 8:56 صبح
محترمہ، شاعر کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے تبصرہ کریں۔
میرا مطلب ہے ذرا نرم لہجے میں
کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی مجھے۔ اگر بورا لگا تو معاف کر دیں۔ :)
Abbas Swabian — مئی 21، 2016 9:03 صبح
میں نے اس شعر پر ایک تفصیلی نوٹ لکھا تھا جس میں معاصر نقادوں کی دوستی نبھانے کی روش کا ذکر تھا اور شعر کے معنی ایک وسیع کینویس میں بیان کرنے کے نام پر قاری کے ساتھ جو مذاق کیا جاتا ہے اس کی تفصیل بیان کی تھی مثال اس شعر کی لے کر یہی معنی بیان کئے تھے جو اب فاضل شاعر نے بتائے ہیں
جواب ارسال کریں پر کلک کرتے ہی بجلی چلی گئی اور سب محنت رائیگاں:)
بھائی جان میں فاضل شاعر نہیں ہوں۔ اور ہمت کا پہاڑ ہوں میں۔
عباد اللہ — مئی 21، 2016 9:06 صبح
بھائی جان میں فاضل شاعر نہیں ہوں
یہ تو اپ کسر نفسی کا مظاہرہ فرما رہے ہیں
اور ہمت کا پہاڑ ہوں میں
اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے
جاری رکھئے
مولا ترقی دے
Abbas Swabian — مئی 21، 2016 9:07 صبح
بھائی جذبات کا خیال وہ رکھتے ہیں جس میں احساس ہو۔ ویسے عبیر خان کے الفاظ مجھے براے نہیں لگے کیوں کہ اس کے مطلب کی خبر نہیں۔
محترمہ، شاعر کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے تبصرہ کریں۔
میرا مطلب ہے ذرا نرم لہجے میں
Abbas Swabian — مئی 21، 2016 9:07 صبح
آمین ثم آمین۔
یہ تو اپ کسر نفسی کا مظاہرہ فرما رہے ہیں
اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے
جاری رکھئے
مولا ترقی دے
Abbas Swabian — مئی 21، 2016 9:10 صبح
بھائی جان آپکے تنقید سے متفق ہوں۔ یقینا شعر میں خرابی ہوگی اور اس لیے تو میں یہاں آتا ہوں تا کہ اصلاح ہو جائے۔
روز جینے کا ارادہ کرکے
خود کو مرنے کی دعا دیتا ہوں
۔۔۔۔
ایک طرف جینے کا ارادہ ہے، دوسری طرف مرنے کی دعا اور دونوں ایک دوسرے کے خلاف محسوس ہوتے ہیں۔ نفسانی خواہشات اس سے مراد لی جائیں یا نہیں، یہ فیصلہ قاری پر چھوڑنا پڑے گا اور شعر میں نفسانی خواہشات کی طرف اشارہ ہے، اس بات کا دفاع شعر نہیں کرسکتا، جہاں تک ہمیں محسوس ہوا۔​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D9%88%D8%B2-%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%81-%DA%A9%D8%B1%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.89970/