سید ذیشان — فروری 10، 2013 3:02 شام
رہنے لگے ہیں میز پہ صفحات منتشر
ہیں بعدِ عشق اپنے خیالات منتشر
ممکن اگر ہو ایسا، بیاں حالِ دل کروں
نہ ہونگے پھر یہ اپنے جوابات منتشر
مجھ کو جلا کے: "اب تو کہانی خَتَم ہوئی!"
دل کے ہَوا سے پھر ہوئے ذرات منتشر
یک سمت چل رہا تھا جب ہم آشنا نہ تھے
حرکت کی پھر ہوئی ہے مساوات منتشر
دیکھا دیارِ عشق تو حیران رہ گیا
تا از نگاہ ہر سو خرابات منتشر
سمجھا دیارِ عشق کو رضواں، عجب کیا!
دیکھے جو واں پہ ہر سو خرابات منتشر
خالق جو نہ ہو ایک تو وحدت نہ ان میں ہو
ہوں دنیا اپنی، ارض و سماوات منتشر
مرکوز تب ہی اپنے خیالات کی ہو رو
نہ ہو جو سب کی غایتِ غایات منتشر
حسان خان — فروری 10، 2013 3:06 شام
بہت خوب ذیشان بھائی۔

رہنے لگے ہیں میز پہ صفحات منتشر
تا از نگاہ ہر سو خرابات منتشر
آپ شاید یہاں
تا حدِ نگاہ کہنا چاہ رہے تھے۔

(یہ الگ بات ہے کہ یوں مصرع وزن میں نہیں رہتا۔)
نایاب — فروری 10، 2013 3:22 شام
بہت خوب
بس ہے منتشر منتشر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید ذیشان — فروری 10، 2013 5:00 شام
بہت خوب ذیشان بھائی۔

آپ شاید یہاں
تا حدِ نگاہ کہنا چاہ رہے تھے۔

(یہ الگ بات ہے کہ یوں مصرع وزن میں نہیں رہتا۔)
ہاہاہا ہاں مقصد یہی تھا۔ لگتا ہے مجھے فارسی سے دور ہی رہنا چاہیے

سید ذیشان — فروری 10، 2013 5:00 شام
بہت خوب
بس ہے منتشر منتشر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
بہت شکریہ نایاب بھائی

مقدس — فروری 10، 2013 5:03 شام
زیش بھیاا آپ بھی شاعری کرتے ہیں اور وہ بھی اتنی مشکل
سید ذیشان — فروری 10، 2013 5:07 شام
زیش بھیاا آپ بھی شاعری کرتے ہیں اور وہ بھی اتنی مشکل
شاعری تو نہیں البتہ تک بندی کہہ سکتے ہیں۔ اور اس میں مشکل کیا ہے

مقدس — فروری 10، 2013 5:09 شام
شاعری تو نہیں البتہ تک بندی کہہ سکتے ہیں۔ اور اس میں مشکل کیا ہے
اس میں آسان کیا ہے بھیا
اتنا مشکل تو لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ توبہ توبہ ۔۔۔۔
سید ذیشان — فروری 10، 2013 5:14 شام
اس میں آسان کیا ہے بھیا
اتنا مشکل تو لکھتے ہیں ۔۔۔ ۔۔ توبہ توبہ ۔۔۔ ۔
شائد منتشر کا لفظ مشکل ہے۔ اس کا مطلب ہے scattered باقی سب تو آسان ہے۔
مقدس — فروری 10، 2013 5:17 شام
شائد منتشر کا لفظ مشکل ہے۔ اس کا مطلب ہے scattered باقی سب تو آسان ہے۔
ویسے بھیا مجھے سمجھ ذرا نہیں آیا اتنی بار پڑھنے کے باوجود
اس لیے اپنی سمجھ کو قصوروار نہ مانتے ہوئے الزام آپ کی شاعری پر رکھ رہی ہوں
سید ذیشان — فروری 10، 2013 5:18 شام
دیکھا دیارِ عشق تو حیران رہ گیا
تا از نگاہ ہر سو خرابات منتشر
اس کو اسطرح کر دیا:
دیکھا دیارِ عشق تو حیران رہ گیا
حدِ نگاہ تک ہیں خرابات منتشر
سید ذیشان — فروری 10، 2013 5:20 شام
ویسے بھیا مجھے سمجھ ذرا نہیں آیا اتنی بار پڑھنے کے باوجود
اس لیے اپنی سمجھ کو قصوروار نہ مانتے ہوئے الزام آپ کی شاعری پر رکھ رہی ہوں
ہاہاہا
اچھا اب الزام قبول کرنے کے علاوہ اور چارہ بھی نہیں ہے۔

مقدس — فروری 10، 2013 5:22 شام
ہاہاہا
اچھا اب الزام قبول کرنے کے علاوہ اور چارہ بھی نہیں ہے۔
ہی ہی ہی بھیا یہاں سے جاتی ہوں
نہیں تو سب لوگ میری اصلاح کرنے لگ جائیں گے

سید ذیشان — فروری 10، 2013 5:23 شام
ہی ہی ہی بھیا یہاں سے جاتی ہوں
نہیں تو سب لوگ میری اصلاح کرنے لگ جائیں گے
شکر ہے الزام قبول کرنے پر آئس کریم کی ڈیمانڈ نہیں کر دی

حسان خان — فروری 10، 2013 6:44 شام
اس کو اسطرح کر دیا:
دیکھا دیارِ عشق تو حیران رہ گیا
حدِ نگاہ تک ہیں خرابات منتشر
اب بہتر ہے۔

الف عین — فروری 11، 2013 6:33 صبح
کاپی کر رہا ہوں، مع اصلاح شدہ مصرع کے۔
سید ذیشان — فروری 11، 2013 9:19 صبح
کاپی کر رہا ہوں، مع اصلاح شدہ مصرع کے۔
بہت شکریہ استادِ محترم

مقدس — فروری 11، 2013 3:55 شام
شکر ہے الزام قبول کرنے پر آئس کریم کی ڈیمانڈ نہیں کر دی
میں نے تو بھول گئی تھی بھیا پر آپ ہی نے یاد کروا دیا۔۔ چلیں کھلائیں پھر آئسکریم۔ علی کے حصے کی بھی میں ہی کھا لیتی ہوں۔۔ وہ ابھی چھوٹا ہے ناں

محمد اسامہ سَرسَری — فروری 11، 2013 4:26 شام
سید ذیشان — فروری 11، 2013 4:35 شام
بہت شکریہ پسند کرنے کا
