مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعلن
ہزج مثمن مقبوض
کیا یہ بحر درست ہے؟
ہزج مثمن مقبوض
کیا یہ بحر درست ہے؟
جی یہ بحر درست ہے اسی بحر میں فیض کا یہ شعر دیکھئے
یہ وزن اور بحر معروف نہیں ہے، نہ ہی کوئی اس کی مثال ملے گی (شاید)۔
یہ غزل ہزج مثمن سالم میں ہے، یعنی مفاعیلن چار بار، اسی غزل کے باقی اشعار دیکھیں، بات واضح ہو جائے گی جیسے:
ہزج مقبوض میں تمام مفاعلن ہوں گے، یہ بحر شاید مقبوض الآخر کہلائی جاتی ہو۔ اس میں اشعار کہنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
سالم بحریں وہ ہیں جو بنیادی ارکان کی تراتیب سے بنائی جاتی ہیں۔ بنیادی ارکان میں مفاعیلن، مستفعلن، فاعلاتن، فعولن، فاعلن، مفعولات ، متفاعلن اور مفاعلتن شامل ہیں۔ مثمن سالم بحریں وہ ہیں جن میں یا تو ایک بنیادی رکن چار مرتبہ وقوع پذیر ہوتا ہے یا پھر دو بنیادی ارکان دو مرتبہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ان بنیادی تراتیب سے تمام اوزان اخذ نہیں کیے جا سکتے، اس لیے ان بنیادی ارکان پر مختلف زحاف کا استعمال کر کے انھیں دیگر ارکان میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ایک سادہ مثال دیکھیے:
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D8%AD%D8%A7%D9%81%D8%A7%D8%AA.112792/