سارہ بشارت گیلانی — نومبر 25، 2012 11:06 صبح
زمانے سے تم کو بچایا ہوا ہے
تمہیں رب جو اپنا بنایا ہوا ہے
کسی ہنستے چہرے کو پڑھ لو تو دیکھو
زمانے کا کیسا رلایا ہوا ہے
وہی ایک کلمہ ہے دہرا رہے ہیں
یہ پوچهو یہ کس کا سکهایا ہوا ہے
عیاں خود کو تم پہ جو کرتا نہیں ہے
یہ سمجهو کسی کا جلایا ہوا ہے
میرے ہاتھ میں آج موتی ہوا ہے
جو آنسو کسی نے تهمایا ہوا ہے
سارہ بشارت گیلانی — نومبر 25، 2012 12:19 شام
جو کہہ دو سو بولیں جو چاہو وہ سن لیں
یوں سوچوں پہ پہرا بٹھایا ہوا ہے
خودی اور غیرت کا پرچار کرنا
سبهی کو سبق یہ سکهایا ہوا ہے
نیلم — نومبر 25، 2012 12:51 شام
کسی ہنستے چہرے کو پڑھ لو تو دیکھو
زمانے کا کیسا رلایا ہوا ہے
خُوب
مزمل شیخ بسمل — نومبر 25، 2012 7:00 شام
خوب ہے جی۔
الف عین — نومبر 26، 2012 5:07 صبح
کاپی کر رہا ہوں۔ انشاء اللہ دسمبر کے شروع میں سب کو نمٹا دوں گا۔
سارہ بشارت گیلانی — نومبر 26، 2012 4:20 شام
شکریہ

سارہ بشارت گیلانی — نومبر 26، 2012 4:21 شام
کاپی کر رہا ہوں۔ انشاء اللہ دسمبر کے شروع میں سب کو نمٹا دوں گا۔
شکریہ سر جی۔۔

آپ کو اندازہ ہے اس وقت تک آپ کا کام کتنا بڑھا چکی ہوں گی؟

الف عین — نومبر 27، 2012 3:45 شام
شکریہ سر جی۔۔

آپ کو اندازہ ہے اس وقت تک آپ کا کام کتنا بڑھا چکی ہوں گی؟
دیکھتے ہیں تمہاری رفتار بھی!!
الف عین — دسمبر 1، 2012 4:41 صبح
لو بھئی، اصلاح حاضر ہے:
زمانے سے تم کو بچایا ہوا ہے
تمہیں رب جو اپنا بنایا ہوا ہے
//زیادہ رواں یوں ہو گا۔
زمانے سے تم کو بچایا ہوا ہے
تمہیں اپنا رب ’یوں‘ بنایا ہوا ہے
’یوں‘ کی جگہ کوئی دوسرا لفظ بھی سوچا جا سکتا ہے، ’جو‘ اگر اک حرفی آ سکتا تو سب سے بہتر وہی ہوتا۔
کسی ہنستے چہرے کو پڑھ لو تو دیکھو
زمانے کا کیسا رلایا ہوا ہے
//پھر ہنستا چہرہ کیوں؟ ویسے شعر میں کوئی فنی سقم نہیں۔
وہی ایک کلمہ ہے دہرا رہے ہیں
یہ پوچھو یہ کس کا سکھایا ہوا ہے
//دوسرا مصرع بہتر ہو سکتا ہے، جیسے
وہی ایک کلمہ ہے دہرا رہے ہیں
ذرا پوچھو، کس کا سکھایا ہوا ہے
عیاں خود کو تم پہ جو کرتا نہیں ہے
یہ سمجھو کسی کا جلایا ہوا ہے
//اس شعر کو بدل ہی دو، واضح بھی نہیں، اور کوئی خاص بات نہیں لگ رہی ہے۔
میرے ہاتھ میں آج موتی ہوا ہے
جو آنسو کسی نے تھمایا ہوا ہے
//درست، بلکہ بہت خوب، اگرچہ دونوں مصرعوں میں ختم پر ’ہے‘ آ رہا ہے۔
جو کہہ دو سو بولیں جو چاہو وہ سن لیں
یوں سوچوں پہ پہرا بٹھایا ہوا ہے
//شاید مطلب اس طرح واضح ہو سکتا ہے۔
جو تم کہہ دو ،بولیں ۔ جو چاہو وہ سن لیں
کہ سوچوں پہ پہرا بٹھایا ہوا ہے
یہی مراد تھی نا؟
خودی اور غیرت کا پرچار کرنا
سبھی کو سبق یہ سکھایا ہوا ہے
//یہ شعر بھی کوئی خاص نہیں۔ نکالا جا سکتا ہے۔
سارہ بشارت گیلانی — دسمبر 4، 2012 9:52 شام
لو بھئی، اصلاح حاضر ہے:
زمانے سے تم کو بچایا ہوا ہے
تمہیں رب جو اپنا بنایا ہوا ہے
//زیادہ رواں یوں ہو گا۔
زمانے سے تم کو بچایا ہوا ہے
تمہیں اپنا رب ’یوں‘ بنایا ہوا ہے
’یوں‘ کی جگہ کوئی دوسرا لفظ بھی سوچا جا سکتا ہے، ’جو‘ اگر اک حرفی آ سکتا تو سب سے بہتر وہی ہوتا۔
کسی ہنستے چہرے کو پڑھ لو تو دیکھو
زمانے کا کیسا رلایا ہوا ہے
//پھر ہنستا چہرہ کیوں؟ ویسے شعر میں کوئی فنی سقم نہیں۔
وہی ایک کلمہ ہے دہرا رہے ہیں
یہ پوچھو یہ کس کا سکھایا ہوا ہے
//دوسرا مصرع بہتر ہو سکتا ہے، جیسے
وہی ایک کلمہ ہے دہرا رہے ہیں
ذرا پوچھو، کس کا سکھایا ہوا ہے
عیاں خود کو تم پہ جو کرتا نہیں ہے
یہ سمجھو کسی کا جلایا ہوا ہے
//اس شعر کو بدل ہی دو، واضح بھی نہیں، اور کوئی خاص بات نہیں لگ رہی ہے۔
میرے ہاتھ میں آج موتی ہوا ہے
جو آنسو کسی نے تھمایا ہوا ہے
//درست، بلکہ بہت خوب، اگرچہ دونوں مصرعوں میں ختم پر ’ہے‘ آ رہا ہے۔
جو کہہ دو سو بولیں جو چاہو وہ سن لیں
یوں سوچوں پہ پہرا بٹھایا ہوا ہے
//شاید مطلب اس طرح واضح ہو سکتا ہے۔
جو تم کہہ دو ،بولیں ۔ جو چاہو وہ سن لیں
کہ سوچوں پہ پہرا بٹھایا ہوا ہے
یہی مراد تھی نا؟
خودی اور غیرت کا پرچار کرنا
سبھی کو سبق یہ سکھایا ہوا ہے
//یہ شعر بھی کوئی خاص نہیں۔ نکالا جا سکتا ہے۔
بہت بہت شکریہ سر!
شاہد شاہنواز — دسمبر 12، 2012 3:01 شام
میں نے پہلے بھی یہ غزل دیکھی تھی مگر چپ رہا۔۔۔ اب جبکہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے تو اس کے مطلعے پر سوال ہے۔۔ یہ کیسا خیال ہے؟؟؟
عمر سیف — دسمبر 12، 2012 6:55 شام
عمدہ ۔۔
سارہ بشارت گیلانی
الف عین چاچو بھی کمال کرتے ہیں۔
سارہ بشارت گیلانی — دسمبر 13، 2012 5:23 شام
عمدہ ۔۔
سارہ بشارت گیلانی
الف عین چاچو بھی کمال کرتے ہیں۔
بہت شکریہ جی
عمر سیف — دسمبر 13، 2012 5:28 شام
کوئی بات نہیں جی ۔۔
