زمینِ دل پہ عذاب اترا ...

La Alma — جنوری 20، 2017 10:09 صبح

زمینِ دل پر عذاب اترا
کہاں یہ خانہ خراب اترا
کبھی جو پی لی مئے محبت
خمار اپنا شتاب اترا
گنہ کماتے ، نہ آتی پیری
کرم خدا کا، شباب اترا
ورق پہ بکھرے ہیں لعل موتی
سخن پہ جیسے نواب اترا
بدل گیا ہے خزاں کا منظر
نظر میں عکسِ گلاب اترا
سوال رب سے کیا تھا المٰی
وہ شخص مثلِ جواب اترا
الف عین — جنوری 20، 2017 4:02 شام
ورق پہ بکھرے ہیں لعل موتی
سخن پہ جیسے نواب اترا
بس اس شعر کا قافیہ ہی پسند نہیں آیا۔ لیکن سخن تو خود ہی اترا ہو گا نا، اس کے اوپرکوئی بادشاہ، نواب یا جاگیر دار کیسے اتر سکتا ہے؟ پہلے مصرع میں بھی لعل موتی کی جگہ ’ہیرے موتی‘ کر دو، محاورے کے مطابق ہو جائے گا
حسن محمود جماعتی — جنوری 20، 2017 4:42 شام
خوب کہا ہے۔
ورق پہ بکھرے ہیں لعل موتی
سخن پہ جیسے نواب اترا
ایک دوست کا پرانا شعر یاد آ گیا۔
بڑی زمینوں پہ جیسے قبضہ، وڈیرے اپنا جمائیں اکثر
ہمارے دل پر کچھ اسطرح سے، کریں حکومت نواب آنکھیں
سخن جو بن کے نواب اترا
La Alma — جنوری 20، 2017 5:11 شام
ورق پہ بکھرے ہیں لعل موتی
سخن پہ جیسے نواب اترا
بس اس شعر کا قافیہ ہی پسند نہیں آیا۔ لیکن سخن تو خود ہی اترا ہو گا نا، اس کے اوپرکوئی بادشاہ، نواب یا جاگیر دار کیسے اتر سکتا ہے؟ پہلے مصرع میں بھی لعل موتی کی جگہ ’ہیرے موتی‘ کر دو، محاورے کے مطابق ہو جائے گا
شکریہ سر .
یہ شعر تو مجھے سب سے زیادہ پسند تھا . لیکن سمجھا نہیں پائی .
La Alma — جنوری 20، 2017 5:14 شام
خوب کہا ہے۔
ایک دوست کا پرانا شعر یاد آ گیا۔
بڑی زمینوں پہ جیسے قبضہ، وڈیرے اپنا جمائیں اکثر
ہمارے دل پر کچھ اسطرح سے، کریں حکومت نواب آنکھیں
سخن جو بن کے نواب اترا
مطلب یہ تھا کہ ...
کچھ اور سوچنا پڑے گا .
امان زرگر — جنوری 20، 2017 6:34 شام
واہ کیا خوب لکھا
La Alma — جنوری 20، 2017 7:48 شام
بہت شکریہ .
عاطف ملک — جنوری 20، 2017 8:08 شام
ورق پہ بکھرے ہیں لعل موتی
سخن پہ جیسے نواب اترا
واہ!
بہت خوب لکھتی ہیں!
ڈھیروں داد اور بہت سی دعائیں!
محمد تابش صدیقی — جنوری 21، 2017 1:39 صبح
بہت خوب.
بدل گیا ہے خزاں کا منظر
نظر میں عکسِ گلاب اترا
ادب دوست — جنوری 21، 2017 3:14 صبح
بہت خوب اچھی غزل ہے. بس وہ نواب والہ شعر دیکھ لیں جس کی طرف استادِ محترم نے توجہ دلائی ہے اور بہت درست توجہ دلائی ہے . غزل کے مقابلے میں وہ شعر مزہ کرکرا کر رہا ہے جیسے...
ادب کے تانگے سے لڑکھڑاتا
سخن کا بگڑا نواب اترا
یہ ازراہِ تفنن کہا ہے امید ہے آپ درگزر فرمائیں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ اس شعر کو دیکھ لیا جائے
La Alma — جنوری 21، 2017 4:43 صبح
واہ!
بہت خوب لکھتی ہیں!
ڈھیروں داد اور بہت سی دعائیں!
شکرگزار ہوں . جزاک اللہ
La Alma — جنوری 21، 2017 4:43 صبح
بہت شکریہ .
La Alma — جنوری 21، 2017 4:46 صبح
بہت خوب اچھی غزل ہے. بس وہ نواب والہ شعر دیکھ لیں جس کی طرف استادِ محترم نے توجہ دلائی ہے اور بہت درست توجہ دلائی ہے . غزل کے مقابلے میں وہ شعر مزہ کرکرا کر رہا ہے جیسے...
ادب کے تانگے سے لڑکھڑاتا
سخن کا بگڑا نواب اترا
یہ ازراہِ تفنن کہا ہے امید ہے آپ درگزر فرمائیں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ اس شعر کو دیکھ لیا جائے
شکر ہے ہم نے "کباب " والا قافیہ استعمال نہیں کیا . راہِ ادب میں تو اسے تانگہ بھی نصیب نہیں ہونا تھا .
محمد تابش صدیقی — جنوری 21، 2017 5:51 صبح
شکر ہے ہم نے "کباب " والا قافیہ استعمال نہیں کیا .
یہ خواہش میں پوری کر دیتا ہوں.
معذرت کے ساتھ
ٹپک پڑی رال سب کی، جونہی
توے سے تازہ کباب اترا
La Alma — جنوری 21، 2017 6:09 صبح
یہ خواہش میں پوری کر دیتا ہوں.
معذرت کے ساتھ
ٹپک پڑی رال سب کی، جونہی
توے سے تازہ کباب اترا
ہماری غزل کی زمین پر ناجائز تجاوزات نہ کی جائیں ورنہ ہم کارروائی کا اختیار رکھتے ہیں .:)
با ادب — جنوری 22، 2017 4:29 شام
بہت خوب غزل ہے لا المی ۔ مجھے بھی نواب صاحب کھٹک رہے ہیں ۔ کوئی باب اترتا سخن پہ تو کوئی بات ہوتی ۔ :)
با ادب — جنوری 22، 2017 4:34 شام
گنہ کماتے ، نہ آتی پیری
کرم خدا کا، شباب اترا
بے حد اعلی ۔ بہت خوب
La Alma — جنوری 22، 2017 4:59 شام
بہت خوب غزل ہے لا المی ۔ مجھے بھی نواب صاحب کھٹک رہے ہیں ۔ کوئی باب اترتا سخن پہ تو کوئی بات ہوتی ۔ :)
ٹھیک ہے ،نواب صاحب سے ہیرے موتی لے لیتے ہیں اور
انہیں چلتا کرتے ہیں .:)
گنہ کماتے ، نہ آتی پیری
کرم خدا کا، شباب اترا
بے حد اعلی ۔ بہت خوب
بہت نوازش :)
اَبُو مدین — جنوری 22، 2017 5:18 شام
گنہ کماتے ، نہ آتی پیری
کرم خدا کا، شباب اترا
ڈھیروں داد اور بہت سی دعائیں!
La Alma — جنوری 22، 2017 7:00 شام
ڈھیروں داد اور بہت سی دعائیں!
شکر گزار ہوں . خوش رہیے .

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86%D9%90-%D8%AF%D9%84-%D9%BE%DB%81-%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D8%AA%D8%B1%D8%A7.94313/