زمیں کو آسماں لکھتا سماں کو کہکشاں لکھتا
مرے دل کی ہے مرضی میں حقیقت کو گماں لکھتا سمندر سے کنارے تک کنارے کے نظارے تک
ہے جتنے غم میں ان غم کی کہی اک داستاں لکھتا مرا ایک یار رہتا ہے سمندر کے کنارے پر
مرے بس میں اگر ہوتا تجھے راجا یہاں لکھتا مرے بس میں نہیں ایسا مگر سب لوگ کہتے ہیں
تو شاعر بن گیا ہوتا غزل کوئی یہاں لکھتا مجھے اب شان شوکت کا نہیں ہے شوق ہوتا تو
میں اپنے نام خرم کو یہاں لکھتا وہاں لکھتا سر جی ایک اور غزل آپ کی اصلاح کے لیے تیار ہے شکریہ
ایم اے راجا — جون 24، 2008 6:59 شام
کیا غزل لکھی ہے واہ واہ واہ، کیا بات ہے۔
خرم شہزاد خرم — جون 25، 2008 5:19 صبح
بہت شکریہ راجا بھای بہت شکریہ
عندلیب — جون 25، 2008 6:01 صبح
واہ واہ بہت خوب خرم بھائی
الف عین — جون 25، 2008 9:33 صبح
اس غزل کا پوسٹ مارٹم بعد میں۔
زھرا علوی — جون 25، 2008 10:13 صبح
-------------------------------------------------------------------------------- زمیں کو آسماں لکھتا سماں کو کہکشاں لکھتا
مرے دل کی ہے مرضی میں حقیقت کو گماں لکھتا زبردست
ایم اے راجا — جون 25، 2008 11:18 صبح
اعجاز صاحب پوسٹمارٹم میں ذرا خیال کیجیئے گا، اس غزل میں ہمارا نام شامل ہے، اور ہم پہلے سے ہی بیمار اور دردوں سے چور ہیں
محمد وارث — جون 25، 2008 4:52 شام
اعجاز صاحب یہ 'سماں' اور 'تجھے راجا یہاں لکھتا' پر ضرور روشنی ڈالیے گا۔
دوست — جون 26، 2008 1:42 صبح
واہ جی واہ۔ پہلا شعر بہت پسند آیا۔
الف عین — جون 26، 2008 6:11 شام
ان باتوں پر میرا دھیان گیا تھا وارث، لیکن سوچا تھا کہ بعد میں جب اس کو تفصیل سے لوں تو مکمل رائے دوں گا اس کے ہر شعر پر۔
خرم شہزاد خرم — جون 27، 2008 5:06 صبح
مجھے انتظار رہے گا سر جی
سجادعلی — جون 27، 2008 5:27 صبح
اچھی غزل ہے
ایم اے راجا — جون 27، 2008 6:37 صبح
وارث بھائی لگتا ہے آپ میرا نام اس غزل سے مٹوانا چاہتے ہیں
الف عین — جون 28، 2008 12:30 شام
حاضر ہے اصلاح یا پوسٹ مارٹم یا سرجری۔۔ جو بھی کہو: زمیں کو آسماں لکھتا سماں کو کہکشاں لکھتا
مرے دل کی ہے مرضی میں حقیقت کو گماں لکھتا
’سماں‘ کا کیا محل ہے یہاں؟ زمیں آسمان کی نسبت سے یہاں کہکشاں کے مطابق کچھ ہونا چاہیے۔ مجبوراً میں اسے فلک کر رہا ہوں ایک امکان میں۔
زمیں کو آسماں لکھتا فلک کو کہکشاں لکھتا
ہاں یوں کہو تو بہتر ہے:
میں کہتا عرش کو فرش اور زمیں کو آسماں لکھتا
یا
فلک کو فرش کہتا یا زمیں کو آسماں لکھتا
مرے دل کی ہے مرضی میں حقیقت کو گماں لکھتا سمندر سے کنارے تک کنارے کے نظارے تک
ہے جتنے غم میں ان غم کی کہی اک داستاں لکھتا مطلب واضح نہیں ہوا۔ اس کو پھر کہو الفاظ بدل کر مرا ایک یار رہتا ہے سمندر کے کنارے پر
مرے بس میں اگر ہوتا تجھے راجا یہاں لکھتا یہاں ’ایک‘ نہیں ’اک‘ تقطیع میں آتا ہے۔ پہلا مصرع تو رواں ہے، لیکن دوسرا مصرعہ واضح نہیں، قافیہ ’یہاں‘ کا کیا محل ہے؟ دوسرا مصرع دوسرا کہو تو سوچا جائے۔ مرے بس میں نہیں ایسا مگر سب لوگ کہتے ہیں
تو شاعر بن گیا ہوتا غزل کوئی یہاں لکھتا یہ بھی واضح نہیں، ’یہاں‘ محض قافیہ ہے یا مطلب بھی نکلتا ہے یہاں کا؟ مجھے اب شان شوکت کا نہیں ہے شوق ہوتا تو
میں اپنے نام خرم کو یہاں لکھتا وہاں لکھتا
یہاں ’اب‘ حشو نہیں ہے؟ یعنی پہلے تھا شوق؟ یوں بھی یہاں شان و شوکت نہیں شہرت کا محل ہے:
مجھے کچھ شوقِ شہرت تو نہیں ، ہوتا بھی جو خرم
ہزاروں طرح نام اپنا یہاں لکھتا وہاں لکھتا
ویسے دوسرے ،مصرعے میں میرا ارادہ ’طرح طرح سے‘ تھا لیکن کچھ درست بن نہیں پایا۔ میں بھی خود مطمئن نہیں ہوں۔
خرم شہزاد خرم — جون 30، 2008 4:40 صبح
چلے میں اس پر پھر سے کوشش کرتا ہوں اس کا مطلب ہے یہاں قافیہ استعمال نا کروں اگر کرؤں تو کیسے کرؤں
الف عین — جون 30، 2008 6:55 صبح
کیا کہکشاں کا قافیہ لانا فرض ہے؟ اسی کی بات کر رہے ہو نا خرم؟
محبوب کی مسکراہٹ کا لکھ دو۔ والد مرحوم ایک شعر یاد آ گیا۔ فلک پہ چھائی ہوئی ہے جو کہکشاں کی لکیر
ترے حسین تبسم کا استعارہ ہے
صادق اندوری
خرم شہزاد خرم — جون 30، 2008 7:30 صبح
کہکشاں کی بات نہیںکر رہا سر میں ”یہاں“ کی بات کر رہا ہوں کیوں کے ”یہاں“ کا مطلب نہیں بن رہا نا اس لے
الف عین — جون 30، 2008 6:19 شام
تو ’وہاں‘ کی بات کر دو!!!
کہاں کی۔۔۔خود سوچ لو
خرم شہزاد خرم — جولائی 7، 2008 1:49 شام
فلک کو فرش کہتا یا زمیں کو آسماں لکھتا
مرے دل کی ہے مرضی میں حقیقت کو گماں لکھتا سمندر سے کنارے تک کنارے کے نظارے تک
ہے جتنے غم میں ان غم کی کہی اک داستاں لکھتا (مجھے اور کچھ نہیں ملا سر جی ویسے میں کہنا چاہتا ہوں جب انسان اداس ہوتا ہے تو اس کو ہر جگہ دکھ ، غم اور پرشانی ہی نظر آتی ہے اس لیے میں نے یہ لکھا ہے) مجھے لکھنا نہیں آتا اگر آتا تو پھر اک دن
میں تیرے نام راجا جی غزل کا ایک جہاں لکھتا مرے بس میں نہیں ایسا مگر سب لوگ کہتے ہیں
تو شاعر بن گیا ہوتا غزل کوئی وہاں لکھتا مجھے کچھ شوقِ شہرت تو نہیں ، ہوتا بھی جو خرم
ہزاروں طرح نام اپنا یہاں لکھتا وہاں لکھتا