زندگی ریت کی گرتی ہوئی دیوار ہے بس

نوید ناظم — اکتوبر 14، 2018 3:53 شام
دب کے مرجائیں گے اس میں کہ یہ اک بار ہے بس
زندگی ریت کی گرتی ہوئی دیوار ہے بس
ایک تُو، جو کہ روا رکھتا ہے اِس دل پہ ستم
اور اک دل جو کہ تیرا ہی طرف دار ہے بس
مجھ کو ناصح نے کہا ہے کہ محبت سے بچوں
بات اچھی تو ہے، لیکن یہ کہ دشوار ہے بس
'اشک' قیمت ہے مِرے دل کی خریدے جو کوئی
اس پہ بیچوں گا یہی چھوٹا سا معیار ہے بس
شہرِ ظلمت میں جلایا تھا دِیا جس نے میں ہوں
میں ہی مجرم تھا، مجھے جرم کا اقرار ہے، بس؟!
نوید ناظم — اکتوبر 14، 2018 3:53 شام
محترم سر الف عین
الف عین — اکتوبر 15، 2018 11:11 صبح
واہ خوب غزل ہے ماشاءاللہ
شہرِ ظلمت میں جلایا تھا دِیا جس نے میں ہوں
مہو( میں ہوں ) اچھا نہیں لگتا ہوں کہو تو شاید
شہرِ ظلمت میں جلایا تھا دیا! ہاں، میں ہوں
نوید ناظم — اکتوبر 16، 2018 9:12 صبح
واہ خوب غزل ہے ماشاءاللہ
شہرِ ظلمت میں جلایا تھا دِیا جس نے میں ہوں
مہو( میں ہوں ) اچھا نہیں لگتا ہوں کہو تو شاید
شہرِ ظلمت میں جلایا تھا دیا! ہاں، میں ہوں
بہت شکریہ سر۔
اب اس طرح کر دیا ہے مصرعے کو۔۔۔
شہرِ ظلمت میں دِیا جس نے جلایا میں ہوں
الف عین — اکتوبر 16، 2018 10:44 صبح
درست

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D8%B1%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%DA%AF%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92-%D8%A8%D8%B3.103698/