زندگی غم کا تانا بانا ہے

ابن رضا — اپریل 20، 2014 8:42 شام
برائے اصلاح
درد کا ہم سے دوستانہ ہے
زندگی غم کا تانا بانا ہے

اپنا ہنسنا تو اِک بہانہ ہے
مُسکراہٹ سے غم چھپانا ہے
چار و ناچار کھا رہے ہیں ہم
جو یہاں اپنا آب و دانہ ہے
عمر گزری ہے سوچتے جس کو
اب اُسی شخص کو بُھلانا ہے
غم مِٹانے کی ایک سعی سہی
اب مقدر تو آزمانا ہے
اُس کے پہلو میں بیٹھ کر اپنا
قصۂ غم اُسے سنانا ہے
لوگ اکثر یہ بات پوچھتے ہیں
کب تلک دُکھ سے جی لگانا ہے
آج تک اِس سے کون بھاگ سکا
موت ہی زیست کا ٹھکانہ ہے
ختم ہوگا یہ زندگی کے ساتھ
ہمنوا ، روگ یہ پرانا ہے
ٹھان لی ہے یہ دوستوں نے رضاؔ
بات بے بات دل دُکھاناہے

تقطیع یہاں ملاحظہ کریں۔
ابنِ رضا کی تُک بندیاں
ٹیگ: اساتذہ کرام جناب الف عین صاحب و جناب محمد یعقوب آسی صاحب و برادران
سید عاطف علی — اپریل 20، 2014 9:36 شام
زیست کے ساتھ ہی ختم ہوگا
یہاں ختم صحیح نہیں بندھا۔اسے درد پر موزوں کریں۔کہیں کہیں تھوڑی چستی میں کسر بھی ہے ۔ مثلاً۔
عمر گزری ہے سوچتے جس کو
اب کہ اُس شخص کو بُھلانا ہے
اب اُسی شخص کو۔ شاید بہتر ہو۔وغیرہ
الف عین — اپریل 21، 2014 2:48 صبح
مُسکرانا تو اِک بہانہ ہے
مُسکراہٹ سے غم چھپانا ہے
÷دونوں جگہ مسکراہٹ اچھا نہیں لگتا، پہلا مصرع یوں کہو تو
اپنا ہنسنا تو اک بہانا ہے
چار و ناچار ہم نے کھانا ہے
جو یہاں اپنا آب و دانہ ہے
اس تیسرے مطلع کی ضرورت نہیں۔
روز و شب ایک ہی تمنا ہے
قصۂ غم اُسے سنانا ہے
÷÷پہلا مصرع بدل دو توبہتر ہے۔
ابن رضا — اپریل 21، 2014 6:44 صبح
زیست کے ساتھ ہی ختم ہوگا
یہاں ختم صحیح نہیں بندھا۔اسے درد پر موزوں کریں۔کہیں کہیں تھوڑی چستی میں کسر بھی ہے ۔ مثلاً۔
عمر گزری ہے سوچتے جس کو
اب کہ اُس شخص کو بُھلانا ہے
اب اُسی شخص کو۔ شاید بہتر ہو۔وغیرہ
تشکر عاطف بھائی. جزاک الله
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 21، 2014 9:55 صبح
ماشاءاللہ اکثر شعر بہت خوب صورت لگے۔

بالخصوص یہ شعر:

عمر گزری ہے سوچتے جس کو
اب اُسی شخص کو بُھلانا ہے

بہت سی داد قبول فرمائیے۔
ابن رضا — اپریل 21، 2014 11:22 صبح
پسند آوری کے لیے سپاس گزار ہوں محترم۔ خوش رہیے۔:)
ابن رضا — اپریل 21، 2014 1:14 شام
مُسکرانا تو اِک بہانہ ہے
مُسکراہٹ سے غم چھپانا ہے
÷دونوں جگہ مسکراہٹ اچھا نہیں لگتا، پہلا مصرع یوں کہو تو
اپنا ہنسنا تو اک بہانا ہے

کچھ مزید گزارشات پر نظر فرمائیں
چار و ناچار ہم نے کھانا ہے
جو یہاں اپنا آب و دانہ ہے
اس تیسرے مطلع کی ضرورت نہیں۔

چار و ناچار کھا رہے ہیں ہم
جو یہاں اپنا آب و دانہ ہے
روز و شب ایک ہی تمنا ہے
قصۂ غم اُسے سنانا ہے
÷÷پہلا مصرع بدل دو توبہتر ہے

اُس کے پہلو میں بیٹھ کر اپنا
قصۂ غم اُسے سنانا ہے
اور کچھ یہ نشست میں تبدیلی
ساتھ ہی زندگی کے ختم ہوگا
ہمنوا ، روگ یہ پرانا ہے
الف عین — اپریل 22، 2014 2:41 صبح
باقی تو درست ہیں، لیکن یہ نیا شعر
ساتھ ہی زندگی کے ختم ہوگا
ہمنوا ، روگ یہ پرانا ہے
پہلا مصرع بحر سے خارج ہو گیا۔ ہوگا کی ہ گر جانے کی وجہ سے
ختم ہو گا یہ زندگی کے ساتھ؎
کیا جا سکتا ہے
ابن رضا — اپریل 22، 2014 7:47 شام
باقی تو درست ہیں، لیکن یہ نیا شعر
ساتھ ہی زندگی کے ختم ہوگا
ہمنوا ، روگ یہ پرانا ہے
پہلا مصرع بحر سے خارج ہو گیا۔ ہوگا کی ہ گر جانے کی وجہ سے
ختم ہو گا یہ زندگی کے ساتھ؎
کیا جا سکتا ہے
جی بہتر ۔
شکریہ، سلامت رہیے۔
ابن رضا — جون 16، 2014 8:56 صبح
تجدید

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D8%BA%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%92.73689/